Daily Mashriq


قومی اثاثے گروی رکھنا

قومی اثاثے گروی رکھنا

جب آدمی تعیشات میں مبتلا ہوجاتا ہے تو پہلے وہ زمینیں، پھر گھر اور پھر گھرکی دوسری اشیاء یعنی ٹی وی ، فرج اور دیگرضروری چیزیں بیچنا شروع کر دیتا ہے ۔پاکستانی اشرفیہ کا بھی ہے کہ وہ اپنی شاہ خرچیوں کو کنٹرول کرنے کی بجائے پاکستان کے قیمتی اثاثوں کو گروی رکھ کر اپنی تعیشات پر خرچ کررہی ہے۔ حکومت نے مو ٹر وے اورائیر پو رٹس کے بعد سرکاری ٹی وی یعنی پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کی عمارتوں کو بھی گروی رکھنے کافیصلہ کر لیا ہے ۔ تفصیلات کے مطا بق ملک بھر میں قائم ریڈیو سٹیشن کی عمارتوں کا تخمینہ 720 ملین ڈالر لگا یا گیا ہے۔ یہ اہم کام وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار کے ذمے ہے۔ جو پہلے موٹر وے اور ائیر پورٹس کو گروی رکھنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔اقتصادی رابطہ کمیٹی ای سی سی کے ایک اہم اجلاس میں اسلام آباد لاہور موٹر وے کا ایک حصہ گروی رکھ کرسکوک بانڈ جاری رکھنے کی منظوری دے دی ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت اسلام آباد مو ٹر وے کا ایک حصہ گروی رکھ کر 75 کروڑ سے لیکر ایک ارب ڈالر کے سکوک بانڈ جاری کرے گی۔ دفاعی نُقطہ نظر سے دیکھا جائے تو موٹر وے انتہائی اہم ہے اور حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران افواج پاکستان نے مو ٹر وے پر جنگی مشقیں کیں ۔موٹر وے یا دوسرے ادارے گروی رکھیں گے تو دنیا کو کیا پیغام جائے گا۔پاکستان کی69 سالہ تا ریخ کا جائزہ لیا جائے تو میں ملک میںصرف لوٹ کھسوٹ ہوتی رہی ہے۔ سال 2008 میں پاکستان کا فی کس بیرونی قرضہ 37 ہزار روپے، سال2012 میں 81ہزار روپے ، سال 2013 میں فی کس قرضہ 91 ہزار روپے سال 2015 میں ایک لاکھ 5 ہزار روپے اور سال 2016 میں پاکستان کا قرضہ ایک لاکھ35 ہزار روپے فی فرد تک پہنچ گیا۔ اور اس وقت پاکستان کا کُل قرضہ 75 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ جبکہ اسکے برعکس پاکستانیوںکے سماجی اقتصادی اعشاریوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔پاکستان کے سماجی ا قتصادی اعشاریے بنگلہ دیش، بھوٹان، مالدیپ، سری لنکا ،اوربھارت سے کئی درجے نیچے ہیں۔بات صرف ملکی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے قرضہ لینے پر ختم نہیں ہوئی بلکہ ملکی قومی اداروں کو بھی کوڑی کے دام بیچا گیا۔اگر ہم ماضی میںنجکاری پر نظر ڈالیں تو سال 1991 سے سال 2013 تک 167اداروں کی نج کاری تقریباً 467 ارب روپے میں کی گئی ہے۔ ان میںمیاں نواز شریف کے دو ادوار میں 76 اداروں کی نجکاری 14.6 ارب روپے میں، پیپلز پا رٹی کے دو ادوار میں 26 اداروں کی نجکاری 33 ارب روپے میں جبکہ پر ویز مشرف کے 10 سالہ دور میں 62 اداروں کی نج کاری 419 ارب روپے میں کی گئی ہے ۔ما ہر اقتصادیات رئوف احمد کا کہنا ہے کہ تینوں ادوار میں یہ ادارے 25گنا کم قیمت پر بیچے گئے۔ جہاں تک نج کاری سے ہونے والی آمدنی کا تعلق ہے تو طے شدہ قانون اور ضابطوں کے مطابق اس رقم میں 90 فی صد خا رجہ قرضوں کی ادائیگی پر اور 10 فی صد عام لوگوں کی فلا ح و بہبود پر خر چ ہونی چاہئے مگر نہ تو یہ رقم خارجہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کی گئی اور نہ عام لوگوں کی سماجی اقتصادی اعشاریوںمیں کوئی تبدیلی آئی بلکہ انکے بر عکس خارجہ قرضے بڑھ گئے اور عام لوگ بھوک افلاس کی وجہ سے خود کشیوں پر مجبو ر ہیں۔ ایشیاء اور عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستا ن میں 70 فی صد یعنی 13کروڑ لوگ غُربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبو ر ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ ہمارے اطبقہ اشرافیہ کب تک غریب اور پسے ہوئے طبقات کو کچلنا ہوگا؟ اُنکو کب 19 کروڑ عوام پر تر س آئے گا؟اُنکی شاہ خرچیاں کب ختم ہوںگی؟۔ ایک عام پاکستانی کس طرح آسا نی سے روزگار، سر چھپانے کی جگہ اور دو وقت کی روٹی میسر ہوگی؟ یہ ایسے سوالات ہیں جو ایک عام پاکستان کے ذہن میں گھوم رہے ہیں اور وہ حکمرانوں سے اس قسم کے سوالات کا تقا ضا کر رہے ہیں۔ پاکستان کو اللہ تعا لیٰ نے مختلف قسم کے وسائل دیئے ہیں مگر ہمارے حکمران اُن وسائل کو دریافت کرنے اور پاکستانیوں کے سماجی اقتصادی زندگی میں تبدیلی لانے کے بجائے اُنکو ضائع کر رہے ہیں ۔ اور پاکستان کے اثاثے بیچ بیچ کر اور پو ری دنیا سے ریکارڈ قرضہ لینے کے با وجود یہ کہتے چلے آرہے ہیں کہ پاکستان کی معیشت دن دوگنی رات چو گنی ترقی کر رہی ہے۔حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ ترقی صرف بیانات اور کاغذوں تک محدود ہے۔ پاکستان کے لو گ غُر بت اور افلاس کی چکی میں پس رہے ہیں , بے روز گار پڑھے لکھے نوجوان ایم اے ایم ایس سی ، انجینئر نگ، میڈیکل کی ڈگریاں ہاتھ میں پکڑ ے نوکری کے لئے دردر کی ٹھو کریں کھا رہے ہیں اور ان بے چاروں کو چند ہزار کی نو کری نہیں ملتی۔ ماں باپ پیٹ کی آگ بُجھانے کے لئے اپنے جگر گو شوں کو بیچ رہے ہوتے ہیں۔ حکمران کوئی بھی ذمہ داری اپنے سر نہیں لیتے۔ تعلیم سے لیکر نو کری، طبی سہولیات، بجلی اور گیس لوڈشیڈنگ بھوک اور افلاس اس قوم کا مقدر ہے۔ خدارا اس ملک اور قوم پر رحم کریں ۔ اگر ہم اس قوم کو مزید دیوار کے ساتھ لگانے کی کوشش کریں گے تو اس کے بڑے خوفناک نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں۔ قومی مفاد کو اپنے ذاتی مفاد پر ترجیح دینا ہوگی ۔ یہی تمام مسائل کا حل ہے ۔ جب تک ہم سب اپنے ذاتی مفادات کے دائروں سے نکل کر ملک کے مفاد کا نہیں سوچیں گے حالات میں تبدیلی مشکل سے ہی آئے گی ۔

متعلقہ خبریں