Daily Mashriq


یادش بخیر

یادش بخیر

دو چار برس ہوتے ہیں پبلک سروس کمیشن میں انٹرویو ہو رہے تھے انٹرویو لینا بڑا خوشگوار تجربہ ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے بادشاہ بن جاتے ہیں۔اپنی مرضی کے سوال کیجیے امیدوار بیچارا ڈرا سہما آپ کے سوالوں کے درست جواب دینے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے مستقبل کا سوال ہوتا ہے اس لیے وہ دل وجاں کی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے انٹرویو میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے ہم چونکہ گھر سے پیدل نکل کر خراماں خراماں پبلک سروس کمیشن کے آفس پہنچ جاتے ہیں اس لیے کوشش یہی ہوتی ہے کہ گھر سے وقت پر ہی نکلا جائے لیکن ایک دن ایسا اتفاق ہوا کہ کچھ زیادہ ہی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی منزل کی طرف صبح سویرے چل پڑے وہاں پہنچ کر احساس ہوا کہ ابھی تو انٹرویو شروع کرنے میں کافی وقت ہے ساتھ ہی ذہن میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ اس وقت کو اپنے سکول کا ایک چھوٹا سا دورہ کرکے قیمتی بنالیاجائے ۔ایف جی ہائی سکول طارق روڈ پر واقع ہے جو کمیشن کے آفس سے سات آٹھ منٹ کی واک کی دوری پر ہے سکول پہنچے تو بچپن ہمارے سامنے آکھڑا ہوا۔ سچ ہے کہ گزرا ہوا وقت بڑا اچھا لگتا ہے اور پھر بچپن کے دن تو واقعی سہانے ہوتے ہیں سکول کے گرائونڈ میں چھوٹے چھوٹے بچے صاف ستھرے یونیفارم پہنے ادھر ادھر بھاگ رہے تھے یقین کیجیے ہماری آنکھوں میں آنسو آگئے اور ہم ان بچوں میں اپنے آپ کو تلاش کرنے لگے ۔ہم نے ہیڈماسٹر صاحب سے اپنا تعارف کروایا اور ان سے سکول کو ایک نظر دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا انہوں نے ازراہ کرم ایک استاد محترم کو رہنمائی کے لیے ہمارے ساتھ کردیا یقینا اپنے سکول کو دیکھنا ہمیشہ ایک خوشگوار تجربہ ہوتا ہے وہ چمن جہاں ہم جھولے جھولا کرتے تھے ایک دوسرے کے پیچھے بھاگا کرتے تھے ہماری نگاہوں کے سامنے تھا ہمارے زمانے میں ایک بڑے ہال نما کمرے میں ہماری لائبریری ہوا کرتی تھی جس کے عین وسط میں ایک بڑی سی میز پڑی ہوتی تھی جس پر بچوں کے مطالعے کے لیے بہت سی کتابیں پڑی رہتی تھیں ۔ہم لائبریری کے پیریڈ میں اس میز کے گرد بیٹھ کر اپنی مرضی کی کتابیں پڑھا کرتے تھے کیا خوبصورت کہانیاں تھیں جنہیںپڑھ کر ہمارے اندر مطالعے کا شوق پیدا ہوا۔ عالی پر کیا گزری، میرا نام منگو ہے، داستان امیر حمزہ جس میں عمرو عیار ہمارا پسندیدہ کردار تھا اس کی زنبیل ہمیں بہت پسند تھی جس میں دنیا بھر کی چیزیں سما سکتی تھیں۔ اس وقت دل میں خیال آتا تھا کہ ہم بھی بڑے ہوکر اس طرح کی زنبیل خریدیں گے اور پھر سلیمانی ٹوپی جسے پہن کر بندہ سب کی نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے آپ سب کو دیکھ سکتے ہیں لیکن آپ کو کوئی نہیں دیکھ سکتا۔ سلیمانی ٹوپی میں کتنا رومانس تھا ان کہانیوں کو پڑھ کر خیالات کہاں سے کہاں پہنچ جاتے! آئن سٹائن نے اس حوالے سے کتنی سچی بات کہہ رکھی ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے ذہین ہوں تو انہیں کہانیوں کی کتابیں پڑھنے کے لیے دیں اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ بچے زیادہ ذہین ہوں تو پھر انہیں زیادہ کہانیوں کی کتابیں پڑھنے کے لیے دیں ۔اپنے ایک استاد محترم ظفر صاحب بڑی شدت سے یاد آئے ان کا تعلق پنجاب کے کسی گائوں سے تھا۔ کسرتی جسم کے مالک تھے بڑے مختلف غیر روایتی قسم کے استاد تھے ان کا ہمارے ساتھ پہلا پیریڈ ہوتا تھا وہ پڑھائی کا آغاز مختلف سوالات پوچھ کر کیا کرتے تھے۔ طلبہ ان کے سوالوں کے جوابات دیتے تو وہ بات سے بات نکالتے چلے جاتے اور گپ شپ لگاتے ہوئے بہت کچھ سکھا دیا کرتے تھے مثلاًوہ کہتے کہ اگر آپ میں سے کسی نے نصاب سے ہٹ کر کوئی کتاب پڑھی ہو تو بتائے ؟لڑکوں کا جواب عموماً نفی میں ہوا کرتا تھا تو وہ بڑے حیران ہوکر کہتے اگر آپ لوگ کتاب سے دوستی نہیں کریں گے تو آپ کے ذہن کے بند دریچے کیسے کھلیں گے ؟کتاب پڑھے بغیر علم کا حصول ناممکن ہے صرف نصابی کتب پڑھ لینے سے بات نہیں بنتی۔ پھر لڑکوں سے انگریزی کے ٹینس پوچھا کرتے تھے اگر لڑکوں کو ان کے قواعد یاد ہوتے تو بہت خوش ہوتے تھے لیکن ایسا بہت کم ہوتا تھا وہ کلاس میں موجود ہر طالب علم کو مجبور کرتے کہ وہ کلاس میں ضرور بات چیت کرے وہ اکثر کہتے کہ میں جب بھی کلاس میں آتا ہوں تو آپ لوگ مٹی کے بت بنے طرح میری طرف دیکھتے رہتے ہو۔ اللہ کے بندو !بات چیت کیا کرو کچھ پوچھا کروتا کہ تمہاری سوجھ بوجھ میں اضافہ ہو اگر تم سوال نہیں کرو گے تو کیسے سیکھو گے؟ وہ اکثر کہتے کہ بہترین کلاس وہ ہوتی ہے جس میں 80فی صد طلبہ بولتے ہیں اور 20فی صد استاد بولتا ہے لیکن تمہارا تو یہ حال ہے کہ بس صرف استاد ہی بولتا رہتا ہے وہ کہتے کہ کورس کی فکر نہ کرو یہ بھی مکمل ہوجائے گا اور یہ کورس تو تمہیں کوئی بھی پڑھا سکتا ہے لیکن میں یہ چاہتا ہوں کہ تم مجھ سے کچھ سیکھو میری یہ کوشش ہے کہ میںتمہیں زندگی کی کتاب پڑھائوں آنے والا وقت تمہاارے لیے بڑی بھاری ذمہ داریاں لے کر آرہا ہے اگر تمہارے اندر اعتماد نہیں ہوگا تو تم زندگی کے تلخ حقائق کا کیسے سامنا کروگے وہ کیمونیکیشن پر بہت زور دیا کرتے تھے تمہیں بات کرنے کا ہنر آنا چاہیے جب انٹرویو دینے جائو گے تو اعتماد نہ ہونے کی وجہ سے تمہاری ٹانگیں کانپیں گی زبان لڑکھڑائے گی اور جب انٹرویو دے کر باہر نکلو گے تو اپنے ساتھیوں سے کہو گے کہ یار انٹرویو تو بس واجبی سا تھا مجھے بہت سے سوالوں کے جواب بھی آتے تھے بس کیا کروں انٹرویو کے پینل کو دیکھ کر ہاتھ پائوں پھول گئے اور جو باتیں آتی تھیں وہ بھی بھول گئیں!نجانے اور کتنی دیر ہم اپنے بچپن کی ان سہانی یادوں میں کھوئے رہتے لیکن ہم نے تو پبلک سروس کمیشن بھی پہنچنا تھا جہاں بہت سے امیدوار ہمارا انتظار کر رہے تھے ۔

متعلقہ خبریں