مشرقیات

مشرقیات

ابوالحسن کوشیار ایران کا مشہور ستارہ شناس (منجم) تھا۔ شیخ بو علی سینا جیسے سرآمد روزگار بزرگ نے بھی اس کے سامنے زانوئے تلمند تہہ کیا تھا۔ ایک دفعہ کوشیار کے پاس ایک ایسا طالب علم آیا جو سخت خود پسند تھا۔ اس طالب علم کو علم نجوم سے تھوڑی بہت واقفیت تھی۔ کوشیار اس کی خود پسندی اور تکبر کو تاڑ گیا اور اس پر کوئی توجہ نہ دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ مدتوں کوشیار کے حلقہ درس میں شامل رہنے کے باوجود حقیقی علم و فن سے بے بہرہ رہا۔ جب وہاں سے رخصت ہونے لگا تو استاد نے فرمایا:
''تونے اپنے بارے میں خیال کیا کہ نہایت عقل مند ہے۔ ذرا سوچ کہ جو برتن پہلے ہی بھرا ہوا ہو اس کو مزید بھرنے کی گنجائش کہاں سے نکل سکتی ہے۔ دعویٰ سے خالی ہو کر آتا کہ کچھ حاصل کرے۔ تیرے دماغ میں خود پسندی سمائی ہوئی ہے اسی لئے محروم جارہا ہے''۔ مقصد یہ ہے کہ انسان کو ہر وقت عجزو انکساری سے کام لینا چاہئے اور خود کو ہر فن مولا نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ ہر وقت کچھ سیکھنے کی جستجو کرنی چاہئے جس سے آپ کے علم اور مشاہدے میں اضافہ ہوگا اور لوگ خود ہی آپ کی عزت کریںگے۔ اگر ہم خود کو عقل قل سمجھیںگے اور دوسروں پر خود کو فوقیت دیںگے تو یہ سراسر گھاٹے کا سودا ہوگا۔ اس لئے ہمیں خود پسندی کی عادت کو ترک کرنا ہوگا کیونکہ اس میں نقصان ہی نقصان ہے اور خود پسند ہر قسم کے علم سے محروم رہ جاتا ہے اس کی خود پسندی کی عادت اسے لے ڈوبتی ہے۔
ایک بادشاہ نے اپنا بیٹا ایک معلم کے سپرد کیا اور کہا کہ اس کی ایسی تربیت کر جیسے اپنے حقیقی بیٹے کی کرتا ہے معلم نے کئی برس نہایت تن دہی سے اس کی تربیت کی لیکن شہزادے پر کچھ اثر نہ ہوا اور وہ کورے کا کورا رہا اس دوران معلم کے بیٹے پڑھ لکھ کر اعلیٰ درجہ کے عالم و فاضل بن گئے بادشاہ نے معلم سے باز پرس کی اور خشم آلود ہو کر کہا کہ ''تونے وعدہ خلافی کی ہے اور شرط وفا نہیں بجا لایا'' معلم نے عرض کی ''جہاں پناہ! میں نے شہزادے اور اپنے فرزندوں کی تربیت یکساں طور پر کی ہے لیکن اس کا کیا علاج کہ ہر انسان کی فطری صلاحیت جدا جدا ہے۔ شہزادے میں فطری صلاحیت نہیں تھی اس لئے کچھ حاصل نہ کرسکا میرے بچوں میں فطری صلاحیت تھی وہ کہیں سے کہیں جاپہنچے''۔سونا چاندی پتھر سے نکلتا ہے لیکن ہر پتھر سے سونا چاندی نہیں نکلتا۔
ایک عرب نے بصرے کے جوہریوں کو اپنی سرگزشت سنائی کہ ایک بار جنگل میں ایسے وقت بھٹک گیا کہ کھانے پینے کا سامان ختم ہوچکا تھا اور سامنے موت نظر آرہی تھی۔ اتنے میں ایک تھیلی پر نظر پڑی میں اس خوشی کو نہیں بھول سکتا جو اسے دیکھ کر مجھے حاصل ہوئی۔ میں نے سمجھا تھا کہ تھیلی میں بھنے ہوئے چنے ہیں لیکن جب کھول کر دیکھا تو اس میں چنوں کی جگہ موتی تھے۔ اس وقت مجھے جو رنج ہوا وہ زندگی بھر نہیں بھولوںگا''۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ دنیاوی دولت ہو مگر آپ اس کو بوقت ضرورت استعمال نہ کرپائیں تو ایسی دولت کا کیا فائدہ کہ آپ کے پاس اس کے ڈھیر لگے ہیں مگر وہ آپ کی زندگی بچانے کے کام نہ آسکیں۔

اداریہ