Daily Mashriq


پی ٹی آئی کی حکومت کی ترجیحات

پی ٹی آئی کی حکومت کی ترجیحات

اعظم عمران خان نے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ خوش خبری سنائی ہے کہ سعودی عرب اور چین کی مدد سے ملک بڑے اقتصادی بحران سے بچ گیا ہے اور غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کے لیے اب پاکستان کے پاس زرِمبادلہ کے مطلوبہ ذخائر موجود ہیں۔ اپوزیشن پارٹیوںنے سرکاری خزانہ جس حال میںچھوڑا تھا اس کے پیشِ نظر پی ٹی آئی کی حکومت کی یہ بڑی کامیابی ہے جو ابتدائی اڑھائی ماہ میں حاصل کر لی گئی ہے۔ اپوزیشن کے لیڈر جو طنز کرتے تھے کہ وزیر اعظم دوست ملکوں سے قرض کی بھیک مانگنے کے لیے گئے ہیں‘ انہیں اس پر غور کرنا چاہیے تھا کہ ملک کو اس حال میں انہی کی حکومتوں نے قرضے اٹھاکر پہنچایا تھا کہ نئی حکومت کے اقتدار میں آتے ہی وزیراعظم کو ان کے حاصل کے ہوئے قرضوں کی ادائیگی کے لیے دوست ممالک سے تعاون حاصل کرنا پڑا۔ اگر سابقہ حکومتیں قرضوں کا استعمال ملک کی معیشت کی بہتری کے لیے کرتیں تو آج پاکستان اس حال میں نہ ہوتا۔ لیکن سابقہ حکمرانوں نے ایک طرف ملک کو مقروض کیا دوسری طرف قرائن بتاتے ہیں کہ اپنے اثاثوں میں اضافہ کیا جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کے بحران سے نکلنے کے بعد اب وہ ملک سے غربت کے خاتمے کی طرف توجہ دیں گے اور ہفتہ دس دن کے اندر اس بارے میں اہم اعلان کریں گے۔ وزیر اعظم کا یہ اعلان قابلِ تحسین و ستائش ہے کہ حکومت کے سو دن پورے ہونے کے ساتھ ہی وہ غربت کے خاتمے کے پروگرام کا اعلان کریں گے اور ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کی طرف بھرپور توجہ دیں گے۔ تاہم کسی بھی فلاحی یا ترقیاتی کام کے کامیاب ہونے کا اہم ترین تقاضا یہ ہے کہ کرپشن کا سایہ اس پر نہ پڑے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کرپشن کے خاتمے کا علم بلند کیا تو پاکستان کے عوام نے ان کی پارٹی پر اعتماد کااظہارکیا۔ اس لیے بہتر ہو گا کہ وزیر اعظم اور ان کی پارٹی کرپشن کو ختم کرنے پر توجہ مرکوز رکھیں۔ کیوں کہ کرپشن کی موجودگی میں معیشت کی بہتری ممکن ہے نہ ہی عوام کی فلاح جو معیشت کی بہتری سے مشروط ہے۔ روزانہ نئے نئے سکینڈل سامنے آ رہے ہیں۔ وزیر خزانہ اسد عمر نے بتایا ہے کہ 27ملکوںمیں پاکستانیوں کے 95ہزار اکاؤنٹ دریافت ہوئے ہیں۔ اگر یہ اکاؤنٹس منی لانڈرنگ کے ذریعے کھولے گئے ہیں تو ان کا مواخذہ ہونا ضروری ہے ۔ اس کے لیے تحقیقات میں تیزی لانا ضروری ہونا چاہیے۔ منی لانڈرنگ آج ساری مہذب دنیا کا اہم ترین مسئلہ ہے ۔ پاکستان آرگنائزیشن آف اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ میں جگہ پا چکا ہے ۔ اس کے بل پر کوشش کی جانی چاہیے کہ دیگر ملکوں سے منی لانڈرنگ کے حوالے سے اورسفید کالر ملزموں کی حوالگی کے حوالے سے معاہدات کیے جائیں تاکہ وزیر اعظم کا یہ وعدہ پورا ہو سکے کہ وہ بیرون ملک سے لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے۔ اپوزیشن کے بعض لیڈر طعنہ دیتے ہیں کہ عمران خان ابھی تک دو سو ارب تو باہر کے ملکوں سے واپس نہیںلا سکے ۔ حالانکہ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ منی لانڈرنگ کرنے والوں نے ایسی چابکدستی سے بندوبست کیا تھا کہ ان پر ہاتھ نہ ڈالا جا سکے۔ آخر پیسہ ملک سے باہر تو گیا۔ملک میں غریب لوگوں کے بینک اکاؤنٹ ان کی بے خبری میں کھولے جا رہے ہیں اور ان کے ذریعے کروڑوں روپے کا لین دین ہوا ہے۔ یہ ایسا سکینڈل ہے کہ اس کی مثال شاید ہی دنیا میںکہیںہو۔ ان اکاؤنٹس کا رفتہ رفتہ پتہ چل رہا ہے۔ لیکن یہ معلومات حاصل کرنے کے لیے بینکاری کے نظام میں فوری مناسب تبدیلیاں لانا ضروری ہونا چاہیے ۔ یہ بھی خبر ہے کہ بینکوں کی ایک بڑی تعداد کے اکاؤنٹ ہیک کر لیے گئے ہیں اور کئی لوگوں نے شکایت کی ہے کہ ان کے اکاؤنٹس سے ان کی بے خبری میں رقوم نکلوائی گئی ہیں۔ جوں جوں کرپشن کے پیسے کی بھاری رقوم کی خبریں شائع ہو رہی ہیں اور بے خبر کھاتے داروں کے کھاتوں میں کروڑوں روپے کی لین دین سامنے آ رہے ہیں عوام کی حکومت سے اس صورت حال پر قابو پانے کی امیدوں میں شدت آ رہی ہے۔ ان مالیاتی سکینڈلز کے حوالے سے سست روی عوام کے اعتماد کو متزلزل کرنے کے امکانات رکھتی ہے ۔ عوام نئی حکومت کو کرپشن کے خلاف کارکردگی کی بنا پر پرکھیں گے ۔ حکومت کے لیے لازم ہے کہ وہ عوام کی امیدوں پر پورا اترے اور عوام کے اعتماد کو برقرار رکھے۔ بیرونی قرضوں کی فوری واپسی کے بوجھ سے نجات حاصل کر لی گئی ہے لیکن ابھی پاکستانی بینکوں سے لیے گئے قرضے باقی ہیں۔ گردشی قرضے ہیں اور معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی بات چیت چل رہی ہے۔ آئی ایم ایف کے بارے میں شنید ہے کہ اس کا اصرار ہے کہ روپے کی قدر مزید کم کر دی جائے‘ بجلی کی قیمتوںمیں مزید اضافہ کیا جائے ‘ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوںمیں اضافہ کیا جائے اور سبسڈی ختم کی جائے۔ ان شرائط سے ملک کی معیشت پر بعض ماہرین کے مطابق منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ سبسڈی ختم ہو گی تو زرعی پیداوار کی لاگت بڑھ جائے گی اور بین الاقوامی بازار میں پاکستانی پیداوار کا بھاؤ نہیں ملے گا۔ بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوںمیں اضافہ ہو گا تو صنعتی پیداوار کی لاگت بڑھ جائے گی اور برآمدات سے زرِمبادلہ کمانے کی جو امیدیں ہیں وہ توقعات کے مطابق پوری نہ ہو سکیں گی۔ قرضوں کی ادائیگی مشکل ہو جائے گی ۔ پہلے ہی پاکستان میں حرارت سے پیدا کی جانے والی بجلی پانی سے پیدا کی جانے والی بجلی کی نسبت بہت زیادہ پڑ رہی ہے۔ حکومت کو سستی بجلی کی پیداوار کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس لیے حکومت کی توجہ کرپشن کے خاتمے اور معیشت کی بہتری کی طرف رہے گی تب ہی عوام کا اعتماد قائم رہے گا۔

متعلقہ خبریں