Daily Mashriq


اے ٹیل آف ٹو سٹیز

اے ٹیل آف ٹو سٹیز

فرانس کے پس منظر میں چارلس ڈکنز (Charles Dickens) نے ایک ناول لکھا تھا‘ نام تھا A Tale of two cities‘ اس میں انقلاب فرانس کے انگلستان پر پڑنے والے سماجی سیاسی اثرات پر روشنی ڈالی یعنی فرانس کے شہر پیرس اور انگلستان کے شہر لندن کے معاشروں کے مابین سماجی‘ ثقافتی اور سیاسی مناقشت کو موضوع بنا کر کہانی آگے بڑھائی۔ ناول کے آغاز میں استعمال ہونے والا جملہ نہایت خوبصورت ہے جس کے اندر معانی کاایک سمندر پنہاں دکھائی دیتا ہے۔ ناول کا آغاز کرتے ہوئے چارلس ڈکنز لکھتا ہے ’’It was a best time, it was the worst time‘‘ پیرس اور لندن کے معاشروں پر انقلاب فرانس کے کیا اثرات مرتب ہوئے اور ان دونوں شہروں کے مابین سیاسی‘ ثقافتی اور سماجی حالات سے دونوں شہروں اور ملکوں کے معاشروں پر کیا کیا اثر پڑا اس سے قطع نظر بعد میں دونوں معاشروں کے اندر جمہوری روایات کس قدر مضبوط ہوئیں ان کا پر تو آنے والی صدیوں میں ان دونوں ملکوں میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ اہل فرانس نے تو بادشاہت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا البتہ انگلستان کے حکمرانوں نے عوام کو جمہوری حقوق دے کر انہیں مطمئن کردیا۔ انگریز ویسے بھی روایت پرست ہیں اس لئے انہوں نے بھی بادشاہت کے نظام کو روایت ہی کے طور پر زندہ رکھنے پر کوئی اعتراض نہیں کیا کیونکہ حکومت کا اختیار پارلیمنٹ کے ذریعے عوام کو منتقل کیا جا چکا تھا اور بادشاہ یا ملکہ صرف قوانین کی منظوری کے لئے ہی رہ گئے تھے۔ دو ایوانی مقننہ یعنی ہائوس آف کامنز اینڈ ہائوس آف لارڈز ملکی نظام چلانے کے لئے قوانین بنانے کی ذمہ دار قرار دے دی گئیں۔ عوام کو احتجاج کا حق دے دیا گیا لیکن احتجاج کو بھی مختلف ضابطوں کا پابند بنا دیاگیا۔ کوئی قانون عوامی مفاد کے خلاف ہوتا تو نہ صرف مقننہ میں بحث ہوتی ہے بلکہ اس کے خلاف عوام کو بھی آواز بلند کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ احتجاج کے ہنگام اپنے حق کو استعمال کرتے ہوئے دوسرے کی ناک چھونے سے احتراز ضروری ہوتا ہے۔ یعنی آزادی کے بھی اپنے آداب ہوتے ہیں۔ منیر نیازی نے اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ

ادب کی بات ہے ورنہ منیرؔ سوچو تو

جو شخص سنتا ہے وہ بول بھی تو سکتا ہے

پیرس اور لندن کے سیاسی‘ سماجی حالات کے تقابلی جائزہ پر مبنی ناول کی روشنی میں دو اور معاشروں کے حالات کو دیکھنا وقت کا تقاضا لگتا ہے۔ ان شہروں میں ایک تو لندن ہی ہے جہاں جمہوری اقدار آنے والے اد وار کے لئے ایک استعارہ بن گئی ہیں۔ احتجاج جمہوری حق قرار دیتے ہوئے عوام کو اس قدر آزادی دی گئی کہ بادشاہ یا ملکہ کے خلاف بھی عوام کو بولنے کا حق ہے لیکن صرف اور صرف ہائیڈ پارک میں جو اسی مقصد کے لئے بھی استعمال کیاجاسکتا ہے۔ ہائیڈ پارک ویسے تو تفریح گاہ ہے جہاں ہزاروں لوگ ہر وقت موجود اپنی اپنی دلچسپیوں میں مشغول رہتے ہیں۔ ایسے میں کوئی اپنے دکھڑے بیان کرنے‘ کسی مسئلے پر اختلاف کرنے کے لئے کسی بھی اونچے چبوترے پر کھڑا ہو کر زور زور سے چلانے لگے تو اس کو سننے کے لئے قریب بیٹھے یا چہل قدمی کرتے ہوئے لوگ دو چار لمحوں کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں اور احتجاجی تقریر کرنے والے کی آہ و بکا سننے لگتے ہیں۔ فریادی دل کا غبار ہلکا کرنے جبکہ سامعین اس کی خرافات سننے کے بعد اپنی دلچسپیوں میں دوبارہ مشغول ہو جاتے ہیں۔ البتہ اگر کوئی شخص جوش خطابت میں ملکہ یا (بادشاہ) کے خلاف وہی باتیں ہائیڈ پارک کی حدود کے باہر آکر کرے تو پھر قانون حرکت میں آنے کے لئے ایک لمحے کی تاخیر نہیں کرتا۔ سیکورٹی کی گاڑیاں سائرن بجاتی ہوئی فوراً وہاں پہنچ کر خرافات بکنے والے کو حراست میں لے لیتی ہیں اور بعد میں عدالت جانے اور وہ شخص۔ احتجاج کے لئے سڑکوں پر آنے میں بھی کوئی ممانعت نہیں ہے لیکن اس کے لئے بھی قاعدے قوانین اور ضابطے مقرر ہیں۔ کوئی بھی گروہ یا چند لوگ سڑکوں پر احتجاج میں آزاد ہیں اور وہ مظاہرے بھی کرسکتے ہیں مگر اس کے لئے متعلقہ اداروں کو پہلے سے تحریری طور پر آگاہ کرنا لازمی ہوتا ہے تاکہ جس علاقے میں احتجاجی ریلی نکالنا مقصود ہو یہ ادارے وہاں سے گزرنے والی ٹریفک کے لئے متبادل روٹس کا بندوست کرکے عوام کو پہلے سے آگاہ کردیں۔ یوں ٹریفک میں خلل بھی نہیں پڑتی۔ عوام کو آنے جانے میں کوئی مشکل بھی پیش نہیں آتی۔ اس صورتحال میں بھی سب سے اہم معاملہ وقت کے تعین کا ہے یعنی احتجاج کے لئے کسی شاہراہ کو استعمال کرنے کے لئے بھی اوقات پہلے سے مقرر کئے جاتے ہیں اورجیسے ہی وہ وقت گزر جاتاہے احتجاج کو سمیٹ کر وہاں سے رفو چکر ہونا لازمی ہوتا ہے۔ بصورت دیگر لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں یعنی قانون اپنا راستہ متعین کرنے کے لئے پہلے ہی موجود ہوتا ہے اور احتجاج کرنے والوں کو بتا دیتا ہے کہ

کچل کچل کے نہ فٹ پاتھ پر چلو اتنا

یہاں پہ رات کو مزدور خواب دیکھتے ہیں

لندن میں احتجاج کے لئے رائج قوانین کے مقابلے میں ایک اور معاشرے کی تصویری جھلکیاں دیکھنے کی ضرورت شدت سے محسوس ہو رہی ہے جہاں احتجاج کے لئے کسی قاعدے قانون کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے نہ ضابطے کی کسی کو پرواہ ہے بس جس کاجب جی چاہے اپنے حواریوں کو ڈنڈوں سے لیس کرکے سڑکوں‘ شاہراہوں‘ چوکوں‘ بازاروں‘ گلیوں‘ پارکوں میں نکل آتا ہے اور اس کے بعد ساری صورتحال بے ہنگم ہو جاتی ہے۔ کچھ شر پسند آتشیں ہتھیاروں سے بھی لیس ہوکر بے قابو ہجوم میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اس صورتحال پر عبید اللہ علیم نے کیا خوب کہا تھا کہ

میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیں

مرے شہر جل رہے ہیں‘ مرے لوگ مر رہے ہیں

(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں