Daily Mashriq


یمن تنازعہ کے حل کی حکومتی کوششیں

یمن تنازعہ کے حل کی حکومتی کوششیں

یمن سعودی تنازعہ مارچ 2015ء سے چل رہا ہے ،جس میں دو برادر اسلامی ملک آمنے سامنے ہیں جس کی وجہ سے پوری امت مسلمہ ہیجانی کیفیت میںمبتلا ہے کیونکہ اب تک جانبین بھاری جانی ومالی نقصان اٹھا چکے ہیں،عالم اسلام میں جب بھی کہیں محاذ آرائی سامنے آئی تو صلح جوئی اور مصالحت کیلئے سعودی عرب نے ہمیشہ اہم اور بنیادی کردار ادا کیا لیکن اب چونکہ وہ خود اس قضیے سے دوچار ہے تو تقاضا ہے کہ مصالحت کیلئے کوئی دوسرا برادراسلامی ملک کردار ادا کرے ،اس سلسلے میں دوملک نمایاں طور پر سامنے آتے ہیں ایک پاکستان اور دوسراترکی۔پاکستان کو چند وجوہ سے اس لئے فوقیت حاصل ہے کہ پاکستان امت مسلمہ کا واحد ایٹمی قوت کا حامل ملک ہے۔یمن سعودی تنازعہ حل کی طرف بڑھنے سے پہلے ضروری ہے کہ یمن کی جغرافیائی حیثیت کو سمجھ لیا جائے ۔ پاکستان اور افغانستان کی طرح سعودی عرب اور یمن کی سرحد بھی طویل اور پو رس(مسام دار) ہے۔ اس کی لمبائی1800کلو میٹر ہے اور اس میں سے آمدورفت کو روکنا آسان نہیں ہے۔ یمن میں بیٹھ کر سعودی عرب کے ساتھ وہی کچھ کیا جا سکتا ہے، جو افغانستان میں چھپنے والے پاکستان میں کر رہے ہیں ۔ یمن کا شمار عالم عرب کے غریب ترین ممالک میں ہوتا ہے،اس لیے وہاں سے جس طرح کی ’’یلغار‘‘ سعودی عرب میں کی جا سکتی ہے، اس کا اندازہ ہر وہ آنکھ لگا سکتی ہے،جس میں ذرا سی بینائی بھی موجود ہے ، جس طرح بھارت افغانستان میں قدم جما کر وہاں سے پاکستان کو چرکے لگانے،بلکہ خنجر گھونپنے تک جیسی وارداتیں کر سکتا ہے اسی طرح سعودی عرب سے مخاصمت رکھنے والا کوئی عنصر(یا ملک) اگر یمن میں اپنے (یا اپنی کٹھ پتلیوں کے) پاؤں جما لے تو یہاں بیٹھ کر سعودی عرب کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور رستا ہوا خون دیکھ کر اطمینان کی سانسیں لے سکتا ہے۔ سعودی عرب نے اس سرحد پر باڑ لگانے کیلئے ستمبر 2003ء میں اس منصوبے پر کام شروع کیا اور 75کلو میٹر تک تعمیر کر لی گئی ، تو یمنی حکومت نے اس پر شدید اعتراض کر دیا، اس نے اسے تین سال پہلے طے پانے والے ایک سرحدی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا، جس میں سرحدی علاقوں میں آمدورفت کو کھلا رکھنے کا اقرار کیا گیا تھا۔ پانچ ماہ بعد سعودی عرب کو کام روکنا پڑا۔ امریکہ اور مصر کی کوششوں سے یمن نے مشترکہ پٹرولنگ اور واچ ٹاورز قائم کرنے پر اتفاق کر لیا تاکہ مداخلت کاروں اور سمگلروں کو روکا جا سکے۔2006ء میں عراق کے ساتھ سعودی سرحد پر باڑ لگانے کے منصوبے کی خبر عام ہوئی، تو اس کے ساتھ ہی یمن سرحد پر باڑ لگانے کا منصوبہ پھر منظر عام پر آ گیا، کہ سرحدی معاہدے کے تحت کیے گئے انتظامات نتیجہ خیز نہ ہو سکے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق یمن سے ہر سال چار لاکھ تارکین وطن غیر قانونی طور پر سعودی عرب میں داخل ہو جاتے ہیں۔ جنوری2008ء میں باڑ سازی کا کام شروع کر دیا گیا، اس پر ساڑھے آٹھ بلین ڈالر کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ یہ باڑ سرحد سے 100 میٹر کے فاصلے پر تعمیر کی جا رہی تھی، سعودی حکام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اسے سعودی علاقے کے اندر تعمیر کیا جا رہا ہے۔اس کاوش سے بخوبی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب کو اس کے ہمسائے نے کس طرح کی الجھنوں سے دوچار کر رکھا ہے۔اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ دو اسلامی ملکوں کے تنازعہ سے پورا عالم اسلام متاثر ہوتا ہے جبکہ اس وقت مسئلہ صرف یمن ہی کا درپیش نہیں بلکہ مصر میں السیسی کی متنازعہ حکومت، لیبیا کی شورش، عراق میں بدامنی، شام میں خانہ جنگی اور افغانستان میں خود کش حملے،فلسطین میں تحریک آزادی ، اسرائیلی فوجیوں کی نہتے عوام اور بچوں پر فائرنگ اور گولہ باری اور مقبوضہ کشمیر میں عوام کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری کا مطالبہ اور بھارتی فوجوں کی بربریت و درندگی گویا آدھے اسلامی ملک خلفشار، خانہ جنگی کا شکار ہیں۔ایسی صورت میں دو اسلامی ملکوں کے درمیان اگر تنازعہ پیدا ہوجائے تو دنیا کی سپر طاقتیں تو کبھی بھی ان کے درمیان صلح کی کوششیں نہیں کریں گی بلکہ صلح کے نام پر وہ ایسا سازشی منصوبہ عمل میں لائیں گی جس سے ان دو متحارب اسلامی ریاستوں کے درمیان تلخیاں مزید بڑھیں کیونکہ عالمی قوتوں کا مفاد اسی میں ہے کہ مسلمان ملک ایک دوسرے سے دست وگریبان رہیں۔ موجودہ عالمی حالات میں اب تک اس لئے کسی قسم کی کمی نہیں آسکی کہ مسلمان ملک اپنی اپنی پریشانیوں میں گھرے ہوئے ایک دوسرے سے لاتعلق زندگی بسر کررہے تھے اور کسی بھی اسلامی ملک میں یہ صلاحیت نہیں تھی کہ وہ آگے بڑھ کر عالمی سطح پر صلح صفائی کی کوشش کرتا، سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے اسلامی کانفرنس منعقد کرکے عالم اسلام کی قیادت کا پرچم سنبھالا تھا لیکن ان کے بعد اسلامی دنیا کا منصب خالی چلا آرہا ہے،وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب کے دورے کے دوران یمن کے حالات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امن کی پیشکش کی اور اب یمنی سفیر نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرکے اپنے مسائل پر بات کی، یہ ایک مثبت عمل ہے، اگر وزیراعظم عمران خان شورش کا شکار کسی بھی اسلامی ملک کا داخلی خلفشار دور کرنے میں کامیاب ہوگئے تو نہ صرف یہ کہ پاکستان عالم اسلام کے دوممالک کے درمیان مصالحت کیلئے اہم کردار کی وجہ سے اہم مقام پر فائز ہوگا بلکہ وزیر اعظم عمران خان کی اس مخلصانہ کاوش کو تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا ۔

متعلقہ خبریں