Daily Mashriq

مقدور ہو تو ساتھ رکھو ں نوحہ گر کو میں

مقدور ہو تو ساتھ رکھو ں نوحہ گر کو میں

پاکستان کے تقریباًسارے بینکوں کا ڈیٹا چوری ہوگیا۔ یہ کوئی معمولی خبر نہیں۔ یہ سب تیز رفتار انفارمیشن ٹیکنالوجی کا کیا دھرا ہے۔اگر آج ڈیٹا چوری ہوا تو خاکم بدہن کل کلاں خزانے بھی خالی ہوسکتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ جھاڑو پھر جائے ارباب بست وکشاد کو گزر جانے والے سانپ کی لکیر کو پیٹنے کی بجائے کچھ کرنا ہوگا وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے سائبر کرائمز کے ارباب بست و کشاد بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے کی ترکیبیں سوچ رہے ہیں ۔ ان کی اس حالت زار کو دیکھ کر ہمیں نانی جی کا گھر ہی نہیں ان کی سنائی ہوئی کہانیوں میں سے وہ کہانی بھی یاد آگئی جس میں انہوں بتایا تھا کہ پرانے وقتوں کے لوگ اپنی دھن دولت جمع پونجی مٹی کے چٹوروں ہانڈیوں گولکوں یا صندوقوں میں بند کرکے زمین میں دفنا دیتے تھے ، دفینہ کہتے تھے اس خزینے کو اور جب کبھی انہیں اس کے استعمال کی ضرورت پڑتی وہ اس گڑھے کو کھود کر اس میں سے اپنی جمع پونجی نکال کر استعمال میں لاتے اور جو باقی بچ رہتا اسے وہ دوبارہ بڑی رازداری سے گڑھا کھود کر دبا دیتے۔ نہ بینک تھے نہ بینک اکاؤنٹ کھلوانے کے جھنجھٹ۔ پرانے زمانے کے لوگ زمین کی تہہ میں محفوظ دفینے کو اپنا گور کفن بھی کہتے اور وہ جب اپنی آنے والی نسلوں کو وصیت کرنے بیٹھتے تو ان کو ان دفینوں کااتا پتا بتا کر اپنی جان، جان آفریں کے حوالے کردیتے۔ ہماری نانی اماں نے ہمیں کہانی سناتے وقت بتایا تھا کہ ایک بوڑھا بابا بیمار ہوکر چارپائی پر پڑگیا۔ اس کی بڑھیا نے کہا کہ کیا بنے گا اگر تم چل بسے تو، ہمارے پاس کفن دفن کے لئے پھوڑی کوڑی تک نہیں جس کے جواب میں بزرگوار نے اسے نہایت راز داری سے بتایا کہ فکر کیوں کرتی ہو۔ اللہ جب بھی دیتا ہے چھپر پھاڑ کر دیتا ہے دیکھو کوئی نہ کوئی وسیلہ بن جائے گا۔ کاش ہم نے برے وقت کے لئے جمعہ پونجی بنائی ہوتی دھن دولت پس انداز کی ہوتی بیوی نے کہا۔ بیوی کی اس بات کے جواب میں بزرگوار نے کہا کہ میں یہ سب کرچکا ہوں اور اس کفایت شعار بزرگ نے اس صاف صاف لفظوں میں بتادیا کہ دولت بھرا چٹورا کہاں دفن ہے۔ کہتے ہیں لالچ بری بلا ہوتی ہے لیکن اگر مجھ سے پوچھا جائے تو میں عرض کروں گا کہ لالچ سے بھی بری بلا لالچی یا لالچ کرنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ وہ لوٹ کھسوٹ اور پرائے مال پر ہاتھ صاف کرنے کا کوئی موقع نہیں گنواتے اپنے اختیار یا دور اقتدار کا ناجائز فائدہ اٹھا کر پورے ملک کے خزینوں اور دفینوں میں جھاڑو پھیر دیتے ہیں۔ شومئی قسمت سے ہم جب سے مملکت خداداد پاکستان کے آزاد شہری بن کر پاکستانی کہلانے لگے لالچی بلائیں رہنماؤں کے ماسک پہن کر آگئیں اور ہمیں لوٹنے لگیں ۔ جس وقت صاحب فراش بوڑھا اپنی بڑھیا کو دفینے کا راز بتا رہا تھا۔ اس وقت ان کی ہمسائیگی میں رہنے والی ایک لالچی بلا دیوا ر سے کان لگائے میاں بیوی کے درمیان ہونے والی رازداری کی باتیں سن رہی تھی اس نے ہیل کی نہ حجت ، اس نے دوڑ کر اپنے میاں کو جگایا اور پہنچ گئے وہ دونوں اس جگہ پر جہاں بزرگوار نے اپنا گور کفن یا جمع پونجی دفنا رکھی تھی۔ انہوں نے اس جگہ کی کھدائی کرکے بوڑھے بابا کا دفینہ کھوج نکالا۔ مگر یہ کیا؟ نکلنے والے چٹورے میں دھن دولت یا سونے کی اشرفیوں کی بجائے بچھو یا سانپ پڑے ہوئے تھے۔ ہائے ککھ نہ رہے اس بوڑھے کا۔ کیڑے پڑیں اس کی لاش میں۔ یوں کرتے ہیں کہ سانپ اور بچھو بھرا چٹورا ہم اسی پر انڈیل دیتے ہیں ، دونوں نے صلاح کی اورپھر انہوں نے اس چھپر کو پھاڑنا شروع کیا جس کے نیچے وہ سویا پڑا تھا۔ انہوںنے پھٹے چھپر کے سوراخ سے بچھو اور سانپوں بھرا وہ چٹورا اس بیمار بوڑھے کی چارپائی پر انڈیل دیا ۔ نانی اماں کہتی تھیں کہ جیسے ہی چٹورے کے سانپ اور بچھو بوڑھے بابا پر گرے دیکھتے ہی دیکھتے اشرفیوں اور سونے کے سکوں میں تبدیل ہوگئے۔ پھٹے چھپر سے دھن دولت کی بارش نے اس کی بیماری بھگادی اور وہ چیخ چیخ کر اپنی بیوی سے کہنے لگا۔ دیکھا میں نہ کہتا تھا جب اللہ دیتا ہے تو چھپر پھاڑ کر دیتا ہے۔ پرانے وقتوں کی کہانیوں میں دفینوں اور خزانے کی دیگ کی حفاظت بچھو یا سانپ کرتے تھے آج کل یہی کام بینکار کررہے ہیں وہ کالے دھن کو سفید دھن میں بدلنے کے لئے ان کی ٹرانزیکشن بے نامی اکاؤنٹ میں کردیتے ہیں ، ایک حالیہ حوالہ کے مطابق صرف صوبہ خیبر پختون میں چلنے والے بے نامی اکاؤنٹس میں 10ارب سے زائد کی ٹرانزیکشن ہوئی ہے ۔ چور اچکے بدمعاش اور لٹیرے پرانے زمانے میں بھی ہوتے تھے لیکن وہ بے نامی اکاؤنٹس میں رقم منتقل کرنے یا منی لانڈرنگ کرکے پیسہ باہر بھیجنے کی بجائے لوٹی ہوئی دولت پہاڑوں کی ایسی غاروں میں چھپادیتے تھے جن کے دروازے کھل جا سم سم کی آواز سے خود بخود کھل جاتے تھے ۔ اور چوروں کو پڑ گئے مورکے مصداق علی بابا بڑی صفائی سے ان کے خزانوں پرہاتھ صاف کرنے آجاتا تھا ۔ مگر اب ایسا نہیں ہوتا۔ زمانہ برق رفتاری سے ترقی کرگیا ہے ۔ لیکن عہد حاضر کے علی بابا چالیس چور زمانے کی رفتار کے ساتھ چلتے ہوئے بینکوں کے ڈیٹا ہیک کرنے کے علاوہ لوٹ کھسوٹ کے نت نئے طریقے دریافت کررہے ہیں ۔ بھولے باچھا سے کسی نے رونے کی وجہ پوچھی تو وہ کہنے لگا آج میرے جسم پر سے چوہا گزرا ہے اگر کل ہاتھی گزر گیا تو کیا ہوگا ۔

حیراں ہوں دل کو پیٹوں کہ روئوں جگر کو میں

مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

متعلقہ خبریں