Daily Mashriq


ایک تھی میونسپل کارپوریشن

ایک تھی میونسپل کارپوریشن

خبر سن کرمیرے مرنے کی وہ بولے رقیبوں سے

خدابخشے بہت سی خوبیاں تھیںمرنے والے میں

داغ دہلوی نے یہ شعر نہ جانے کس موڈ میں کہے ہوں گے مگر ہم دوسرے مصرعے کی تذکیر کو تانیث میں بدل کر میونسپل کارپوریشن پشاورکی شان میںیوں کہتے ہیںکہ ’’خدابخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والی میں‘‘مرحومہ MCPسے ہماری پرانی یاد اللہ تھی۔ہمارے بچپن میں موصوفہ اپنے نِک نیم میونسپل کمیٹی سے مشہور تھیں۔ کام بڑے ہوں تو نام بھی بڑا ہو ہی جاتا ہے اسی لئے بعدازاں انہیںمیونسپل کارپوریشن کے نام سے موسوم کردیا گیا تھا۔ اگر جوانمرگی کی موت کا شکار نہ ہوتیں توشاید اس وقت میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے معتبر نام سے پکاری جاتیں کیونکہ شہر پشاورپر میٹرو پولیٹن شہر کی تہمت تو لگا دی گئی ہے ۔موصوفہ جرنیلی سڑک پراپنی اور مرحومہ بلکہ مقتولہ بہن GTS(ظالم کیایاد دلادیا۔دل دکھانے کی بات کرتے ہو۔کس زمانے کی بات کرتے ہو)کے بالکل سامنے ایک پرشکوہ عمارت میں بڑی شان سے گزربسر کرتی تھیں۔پورے ضلع پر اس کا راج تھا۔اس کا راج مہاکاج تھا۔مجال نہیں جواس شہزادی کی موجودگی میں شہر کی سڑکیں آلودہ ہوں، نلکوں میں پانی نہ آئے،گلی گلی کوچے کوچے میں چھڑکاؤ نہ ہو۔وہ شہزادی اپنے کام کی وجہ سے ہر شہری کے دل میں بستی تھی۔اس کا حکم تھا کہ کسی گلی کوچے شاہراہ پر پانی کھڑا نہ ہواور حکم کی تعمیل ہوتی۔اسی کے حکم پرصبح سویرے بہشتی اپنی اپنی چمڑے کی مشکیں اپنی پیٹھ پرسجائے چھڑکاؤ کرجاتے اور خاکروب جھاڑو دے جایا کرتے۔سڑکوں پر پانی کے ٹینکر چھڑکاؤ کر دیتے۔ شہریوں کے جاگنے سے پہلے ہی کارپوریشن کی لاریاں شہرکا کُوڑا ٹھکانے لگاآتیں۔شہریوں کے اُجلے کپڑے نہ آلودہ ہوتے نہ میلے۔نالیاں کب صاف ہوتیں کسی کو خبر ہی نہ ہوتی۔ لگتا تھا جیسے کبھی گندی ہی نہ ہوں۔شہر اجلا اجلا، نکھرانکھرااور ستھراستھرا رہتا تھا۔میونسپل کارپوریشن کا ’’جرنیل‘‘اس کا مئیر ہوتا تھا۔ سخت گیراتنا کہ کسی کو مجال نہیںتھی کہ حکم عدولی کرسکے۔اسی شہزادی کے باغ بھی تھے۔شاہی باغ اور وزیر باغ ۔ باغ شہزادی کے تحفے تھے اپنے شہریوں کو سکون اورخوشبواور رنگ بخشنے کے لیے۔ان باغوں میں بچے اور مرد جاتے اور عورتوں کے لیے پردہ باغ آباد تھا۔جھولے ۔پھول ،سبزہ، فوارے، خاموشی،خوشبو اور رنگ ان باغوں میں چارسو پھیلے رہتے تھے۔تھکے ہارے ،اداسیوں کے مارے شہری سکون کی تلاش میں یہاں آتے اور سکون پالیتے۔شہزادی کارپوریشن کے دور میں راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔مجسٹریٹ شہروں میں پھرتے رہتے کسی کو مجال نہ تھی کہ کم تولے یانرخ نامے میں تصرف کرے۔مجسٹریٹ کے نام ہی سے دکانداروں قصابوں اور نانبائیوںاورگوالوں کی جان جاتی تھی ۔ مجسٹریٹ کے خوف سے کوئی مہنگی چیز بیچنے کی ہمت نہ کرتانہ ہی ملاوٹ کا رسک کوئی لیتا تھا۔غلطی کی صورت میں ’’ٹھک ‘‘سے موقع پر ہی دستی جرمانہ وصول کرلیا جاتا ۔جودکاندار بحث کرتا تو جرمانہ ڈبل ہوجاتا۔بزرگوں سے سنا تھا کہ بہت سویرے میونسپلٹی کے انسپکٹر شہر کے داخلی راستوں پر کھڑے ہوجاتے اور شہر میں داخل ہونے والے گوالوں کے دودھ کو چیک کرتے ،ملاوٹ کی صورت میں گوالے کا دودھ سڑک پر انڈیل دیا جاتاتھا تاکہ دوبارہ ایسی غلطی نہ ہو۔ایسی بہت سی باتیں اور بھی ہیں کہ جب وہ یاد آتی ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے لیکن کیا جائے کہ ’’وقت سے کون کہے یار ذرا آہستہ چل‘‘گیا وقت ہاتھ آتا نہیں ۔اسی طرح روٹھی محبت بھی واپس نہیں آتی۔ محبت کی ایک داستان تھی کارپوریشن اور شہریوں کے بیچ ایک رشتہ تھا اپنائیت کا۔ محبت کی ہرداستان میں کوئی نہ کوئی ولن آہی جاتا ہے۔پتہ نہیں اس ولن کامسئلہ ہوتا کیا ہے خواہ مخواہ محبت کرنے والوںکے بیچ سماج کی دیوارکھڑی کردیتا ہے۔پرویز مشرف نے شہریوں اور کارپوریشن کی محبت کی کہانی میں وہ کردار ادا کیا جو ہیر رانجھا کی کہانی میں لاٹھی ٹیکتے ’’کیدو ‘‘نے ادا کیا تھا۔پرویز مشرف کو نہ جانے کیا سوجھی کہ بھلے چنگے کارپوریشن کے سسٹم کو ایک نئے سسٹم میں تبدیل کرنے کی ٹھانی۔کارپوریشن شہزادی کو ’’کیدو‘‘کے حکم پر زندان میں ڈال دیا گیا۔اس کی سلطنت کو 4ٹاؤنوں میں تقسیم کردیاگیا۔پھرٹاؤنوں کو یونین کونسلوں میں تقسیم در تقسیم کردیا۔بے چاری کارپوریشن کی سلطنت کو تڑی بڑی کردیا ’’کیدو‘‘ نے الیکشن کروائے اورڈھیروں کے حساب سے کونسلر اور ناظم ’’معرض وجود‘‘ میں آئے۔ان کونسلروں کے ووٹ ٹاؤن اور ڈسٹرکٹ نظامت کے لیے خریدے گئے اور کھلے عام خریدے گئے۔اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا دعویٰ سچا ثابت ہوا گویا صحیح معنوں میں اقتدار کو ٹکے ٹکے پر بیچ کر اس کو پستی کی نچلی انتہائی تک پہنچایا گیا۔عوام ہکابکا اپنے ووٹ کی رسوائی کا سرعام تماشا دیکھتے رہے اور ووٹ خریدنے والے اپنی پراڈو گاڑیوں میں دندناتے پھرتے رہے۔اس نئے سسٹم کے آج تک جتنے بھی انتخابات ہوئے ان میں کونسلروں اور ناظموں کی نیلامیاں ہوئیں۔(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں