Daily Mashriq

افغانستان میں بیرونی مداخلت

افغانستان میں بیرونی مداخلت

روس میں افغانستان امن مذاکرات کا ایک بار پھر سلسلہ شروع ہوچکاہے۔ اگر ہم طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی تاریخ کو دیکھیں تو جنوری 2012 میں طالبان کے ساتھ پہلے امن مذاکرات اُس وقت ناکام ہوگئے جب امریکی کانگرس اور افغان حکومت نے اس کی مخالفت کی۔مارچ 2012 میں طالبان نے امریکہ کے ساتھ ابتدائی مذاکرات کو اس وقت مسترد کیا جب امریکی حکومت نے افغان حکومت کو اس میں شریک کرنے کے لئے کہا۔18 جون 2013میں امریکی سفارت کاری اور اقدامات کے نتیجے میں قطر میں طالبان کا سیا سی دفتر کھولا گیا۔20 جون 2013 کو افغانستان کے صدر حامد کر زئی نے امن مذاکرات سے علیحدگی کا اعلان کیا کیونکہ بقول حامد کرزئی قطر صدر مقام دوہا میں طالبان کا دفتر بذات خود ایک غیر سرکاری سفارت خانہ ہے۔6جنوری 2004 کو پاکستان نے اسلام آباد میں طالبان کے ساتھ پہلی رسمی ملاقات کی۔8 جو لائی 2015 کو طالبان اور افغانستان کی حکومت نے پہلی سرکاری ملاقات امریکی اور چینی مبصرین کی موجودگی میں کی۔30 جولائی 2015 کو طالبان نے ملا عمر کی وفات کی تصدیق کی جس کے بعدمذاکرات ملتوی کئے گئے۔مارچ 2016 کو افغانستا ن کی حکومت نے پاکستان اور چین کی حکومتوں کے ساتھ ملاقاتیں اس اُمید پر کیں کہ طالبان سے دوبارہ بات چیت شروع کی جائے۔21 اکتوبر 2016کو افغان حکومت نے طالبان کے ساتھ مذاکرات اُس وقت ملتویکئے جب طا لبان کمانڈر امریکی ڈرون حملے میں 2016 کو مارے گئے۔14 فروری 2017کو طالبان نے امریکہ کو بات چیت کے لئے اُس وقت دعوت دی جب ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر مُنتخب ہوئے ۔14 اپریل 2017 کو افغانستان چین بھارت ، پاکستان اور ایران کے سفارت کاروں نے ماسکو میں امن کانفرنس میں شرکت کی جس کا مقصد افغانستان اور طالبان کے درمیان بات چیت میں تعاون کرنا ہے۔23اکتوبر 2017کو امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلر سن نے کہا کہ واشنگٹن طالبان کے ساتھ بات چیت کا خواہش ہے ۔ 18 جولائی 2018 کو اطلاعات موصول ہوئیں کہ امریکہ کے سینئر اہل کاروں اور طالبان نمائندوں کے درمیان ملاقاتیں ہوئیں مگر ان ملاقاتوں کے بارے میں دونوں طرف سے تصدیق نہیں ہوئی۔27اگست 2018 کو روس نے کابل یعنی افغان حکومت کی مخالفت کی وجہ سے امن مذاکرات کو موخر کردیا۔12 اکتوبر 2018کو افغان نژاد امریکی سفا رت کار نے دوہا میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کئے اور طالبان نے دعویٰ کیا کہ امریکہ افغانستان سے اپنی افواج نکالنے اور 17سالہ جنگ ختم کرنے پر راضی ہوا۔9 نومبر 2018 کو طالبان نے فیصلہ کیا کہ وہ روس کی طرف سے کثیر الجہتی امن مذاکرات میں شرکت کریں گے جس میں افغانستان ہائی امن کونسل کے ممبران بھی شریک ہونگے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ روس کی طرف سے افغانستان امن مذاکرات میں جو ممالک حصہ لے رہے ہیں ان میں امریکہ، بھارت، ایران، چین، پاکستان روس سے آزاد وسطی ایشیائی ریاستیں آذر بائیجان، قازقستان، ترکمانستان اور نو رستان شامل ہیں۔یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ کابل حکومت نے ان مذاکرات میں اپنے کسی حکومتی نمائندے کو نہیں بھیجا۔مگر کابل اور افغان حکومت نے صلح اور امن مذاکرات کے لئے ہائی پیس کونسلHigh Peace Council کے جو ممبران بھیجے ہیں اُنہوں نے اس اجلاس میں شرکت کی۔ہائی پیس کونسل نے افغان صدر اشرف غنی کی اس پیش کش کو دہرایا کہ وہ بغیر کسی پیشگی شرط کے ان مذاکرات میں حصہ لیں گے۔طالبان ترجمان شیر محمد عباس نے بتایا کہ طالبان موجودہ حکومت کو قانونی طور پر تسلیم نہیں کرتے اسلئے ہم ان سے بات چیت نہیں کر سکتے۔اُنہوں نے کہا کہ ہمارا پہلا مطالبہ افغا نستان سے بیرونی افواج کا انخلاہے۔افغان حکومت کی طرف سے ہائی پیس کونسل کے نمائندے احسان طاہری نے کابل میں کہا کہ کابل تمام گروہوں کے ساتھ براہ راست بات چیت کے لئے تیار ہے۔اُنہوں نے کہا کہ ہم نے طالبان راہنمائوں کو اس بات کی یقین دہانی کروائی ہے کہ بغیر کسی پیشگی شرط کے بات چیت کے لئے تیار ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ ہم نے طالبان راہنمائوں کو بتایا کہ براہ راست بات چیت کے لئے جگہ وقت اور تاریخ کا تعین کریں۔کابل جرگہ کے سربراہ حاجی دین محمد عزیز اللہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دوپہر کے کھانے کے دوران طالبان وفد کے ساتھ بات چیت کی اور اُنہوں نے اس بات چیت کو دوستانہ قرار دیا۔اب ضرورت اس امرکی ہے کہ مندرجہ بالا ممالک کو امن بات چیت کو کامیاب بنانا چاہئے اور ان ممالک سے یہ بھی وعدہ لینا چاہئے کہ وہ کبھی بھی افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے اور کسی معاملے پر اثر انداز نہیں ہونگے۔جب تک افغانستان میں امن قائم نہیں ہوگا اُس وقت تک پاکستان ، ایران، روس وسطی ایشائی ریاستوں میں بھی کسی صورت امن نہیں ہوگا۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقہ جات ، خیبر پختونخو ا، بلوچستان اور افغا نستان کا جُغرافیہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور تقریباً دنیا کی تمام بڑی طاقتوں کی یہ خواہش ہے کہ اس خطے کو قابو میں رکھ کر دنیا کو اپنے زیر اثر رکھا جائے۔

متعلقہ خبریں