Daily Mashriq

بھارت کا بابری مسجد کی جگہ فوری طورپر رام مندر بنانے کا فیصلہ

بھارت کا بابری مسجد کی جگہ فوری طورپر رام مندر بنانے کا فیصلہ

بھارتی حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بابری مسجد کی جگہ فوری طور پر رام مندر کی تعمیر کا فیصلہ کرلیا۔

بھارتی سپریم کورٹ کا بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کا حکم

بھارتی میڈیا کے مطابق بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر آئندہ سال شروع کیے جانے کا امکان ہے جس کے لیے مکر سنکرانتی کے تہوار کے موقع پر سنگ بنیاد کی تقریب رکھے جانے کی اطلاعات ہیں۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے بابری مسجد کے کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں مندر کی تعمیر اور اس کے لیے ٹرسٹ کے قیام پر فوری عملدرآمد کیے جانے کا امکان ہے جس کے لیے حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز سے رابطہ کرے گی تاکہ مندر کی تعمیر تیز رفتاری سے مکمل کی جاسکے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق سرکاری ذرائع کا کہناہےکہ رام مندر کی تعمیر کے لیے مکر سنکرانتی ایک اچھا وقت ہے جس کے لیے تمام ضروری کارروائی جلد ہی مکمل کرلی جائے گی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق سرکاری ذرائع بتاتے ہیں کہ رام مندر کی تعمیر 2022 میں اترپردیش میں ہونے والے انتخابات میں اہم پیشرفت ہوسکتی ہے جب کہ اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی ادتیاناتھ بھی اس پراجیکٹ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرکے اسے جلد شروع کرنے کے خواہش مند ہیں۔

یو پی کے وزیراعلیٰ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ 492 سال پرانا تنازع پر امن طریقے سے اب ختم ہوچکا ہے، اس سے بھارت کی جمہورت مستحکم ہوئی ہے۔

بھارتی میڈیا کا مزید بتانا ہےکہ رام مندر کے 1989 کے نقشے کے لیے مندروں کی تعمیرکے ماہرین سے بھی رابطہ کرلیا گیا ہے۔

زمین کیلئے نہیں، مسجد کیلئے لڑرہے ہیں: اسد الدین اویسی

بابری مسجد کا پس منظر

1528ء میں مغل دور حکومت میں بھارت کے موجودہ شہر ایودھیا میں بابری مسجد تعمیر کی گئی جس کے حوالے سے ہندو دعویٰ کرتے ہیں کہ اس مقام پر رام کا جنم ہوا تھا اور یہاں مسجد سے قبل مندر تھا۔

برصغیر کی تقسیم تک معاملہ یوں ہی رہا، اس دوران بابری مسجد کے مسئلے پر ہندو مسلم تنازعات ہوتے رہے اور تاج برطانیہ نے مسئلے کے حل کیلئے مسجد کے اندرونی حصے کو مسلمانوں اور بیرونی حصے کو ہندوؤں کے حوالے کرتے ہوئے معاملے کو دبا دیا۔

بی جے پی کے رہنما ایل کے ایڈوانی نے 1980 میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کی تحریک شروع کی تھی۔

1992 میں ہندو انتہا پسند پورے بھارت سے ایودھیا میں جمع ہوئے اور ہزاروں سیکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں 6 دسمبر کو سولہویں صدی کی یادگار بابری مسجد کو شہید کر دیا جب کہ اس دوران 2 ہزار کے قریب ہلاکتیں ہوئیں، بی جے پی کے رہنما ایل کے ایڈوانی کو اس سلسلے میں عدالتی کارروائی کا سامنا ہے۔

’مسجد کیلئے 5 ایکڑ زمین کی خیرات کی ضرورت نہیں‘

حکومت نے مسلم ہندو فسادات کے باعث مسجد کو متنازع جگہ قرار دیتے ہوئے دروازوں کو تالے لگا دیے، جس کے بعد معاملے کے حل کیلئے کئی مذاکراتی دور ہوئے لیکن کوئی نتیجہ نہ نکل سکا تاہم بھارتی سپریم کورٹ نے  9 نومبر کو بابری مسجد کیس پر فیصلہ سناتے ہوئے مسجد ہندوؤں کے حوالے کردی اور مرکزی حکومت ٹرسٹ قائم کرکے مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کا حکم دے دیا جب کہ عدالت نے مسجد کے لیے مسلمانوں کو متبادل جگہ فراہم کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

متعلقہ خبریں