Daily Mashriq


شہر کے پوش علاقوں میں قحبہ خانوں کے خلاف مہم

شہر کے پوش علاقوں میں قحبہ خانوں کے خلاف مہم

پشاور پولیس کی جانب سے حیات آباد، یونیورسٹی ٹاؤن اور گلبرگ کے پوش علاقوں میں قائم قحبہ خانوں کیخلاف آپریشن کرنے کے فیصلے سے عوام الناس بالخصوص ان علاقوں کے مکینوں کا اطمینان کا سانس لینا فطری امر ہے۔ یہ فیصلہ بھی احسن ہوگا کہ قحبہ خانے چلانے والے افراد کیساتھ رابطوں کی تصدیق ہونے پر متعلقہ تھانے کے عملہ کیخلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے۔ حیات آباد اورگلبر گ کے رہائشیوں کی جانب سے پولیس کو ملنے والی شکایات کی روشنی میں پشاور پولیس کی متوقع کارروائی کے نتیجہ خیز نہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں البتہ قحبہ خانے چلانے والے اتنے بااثر لوگ ہوتے ہیں کہ جب تک اعلیٰ سطح پر اس عمل کی نگرانی نہ کی جائے تب تک بااثر افراد پر ہاتھ ڈالنا مشکل ہے۔ کچھ عرصہ قبل ہماری انہی کالموں میں حیات آباد میں ایک ایسے ہی معروف اڈے کی باربار نشاندہی پر اڈے کیخلاف ایسی مؤثر کارروائی نہ ہو سکی جس پر اطمینان کا اظہار کیا جاسکے۔ بہرحال پولیس نے بساط بھر کوشش ضرور کی۔ حیات آباد کے مکینوں کے مطابق حیات آباد میں ہر دوسری تیسری گلی میں اس قسم کے اڈے موجود ہیں جو علاقہ تھانہ کی چشم پوشی کے بغیر ممکن نہیں۔ دوسری جانب یہ بھی ممکن نہیں کہ پولیس ہر وقت نگرانی کیلئے موجود رہے۔ اس ضمن میں پولیس حکام اگر سی سی ٹی وی کیمرے مستقل یا پھر عارضی طور پر ایسے مقامات کی نگرانی کیلئے نصب کرے تو ان افراد کی روک تھام ممکن ہے لیکن اس کے باوجود بھی ان کے پاس کسی دوسری جگہ منتقلی کا راستہ بہرحال موجود ہوتا ہے۔ پولیس اگر مقامی افراد کو اپنے اعتماد کا یقین دلائے تو علاقہ مکینوں کی بروقت نشاندہی سے موقع پر فوری کارروائی کا کارگر راستہ موجود ہے۔ آئی جی خیبر پختونخوا نے اپنا موبائل نمبر برائے برقی پیغام دے کر بھی اچھا اقدام کیا ہے جس سے پولیس حکام کو ہر وقت اس امر کا دھڑکا رہے گا کہ غفلت کی نشاندہی ہونے پر ان کیخلاف کارروائی ہوگی۔ فحاشی کے اڈوں کیخلاف مہم پولیس کی ذمہ داری ضرور ہے لیکن اس کیساتھ ساتھ عوام کو بھی پولیس پر اعتماد اور تعاون کا راستہ اپنانا ہوگا۔ ہر علاقے کے علمائے کرام پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس ضمن میں عوام اور پولیس میں پل کا کردار ادا کرکے اس مہم کی کامیابی میں کردار ادا کریں۔

یونیورسٹی انتظامیہ پر طلبہ تنظیم کے الزامات

انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے رہنماؤں کی جانب سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تعلیمی شعبے میں اصلاحات نہ لانے پر حکومت کیخلاف سڑکوں پر نکلنے کی دھمکی دینے کے بعد حکومت کے پاس اس بات کے علاوہ کوئی راستہ نہیں کہ وہ یونیورسٹی تشدد‘ ناجائز بھرتیوں اور دیگر معاملات کی تحقیقات کے نتائج سامنے آنے کے بعد کسی سے رعایت نہ رکھے۔ طلبہ رہنماؤں نے پشاور یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے طلبہ پر لگائے گئے الزامات کو جھوٹ پر مبنی اور اپنی ناکامی کو چھپانے کے مترادف قرار دیا ہے۔ طلبہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے وژن کو یونیورسٹی انتظامیہ نے تباہ کیا ہے اب بھی نئے پاکستان میں پرانے چہرے موجود ہیں جو ملک کو تعلیم کے نام پر لوٹ رہے ہیں۔ حکومتی جماعت کی ذیلی طلبہ تنظیم کے الزامات کو سیاسی بیان قرار دینے کی بھی گنجائش نہیں علاوہ ازیں تنظیم کے کئی رہنماؤں کی باقاعدہ پریس کانفرنس میں یونیورسٹی انتظامیہ پر لگائے جانے والے الزامات سنجیدہ معاملہ ہے۔ طلبہ تنظیموں اور رہنماؤں کو اپنے الزامات کا ثبوت پارلیمانی کمیٹی کے سامنے رکھنا ہوگا تاکہ پارلیمانی کمیٹی سے یونیورسٹی انتظامیہ کچھ نہ چھپا سکے۔

متاثرین تیراہ کی واپسی اور بحالی اس طرح نہ کی جائے

تحریک انصاف کے ممبر قومی اسمبلی اقبال آفریدی کی جانب سے ضلع خیبر تیراہ راجگال متاثرین کو سات سالوں سے اپنے علاقے سے بیدخلی کے بعد اب خالی ہاتھ بھیجنے پر تشویش کا اظہار قابل توجہ معاملہ ہے۔ ایک ایسے علاقے میں جہاں کے لوگ دہشتگردی کیخلاف آپریشن کی وجہ سے اپنے گھر، مال مویشی اورکاروبار چھوڑ کر ملک کے مختلف حصوں میں منتقل ہونے پر مجبور ہوئے ہوں نہ صرف ان کے گھر مسمار کئے گئے بلکہ ان کے چند ایک بنائے ہوئے تعلیمی ادارے، صحت مراکز اور کاروبار بھی دہشتگردوں نے تباہ کئے ہوں اور پچھلے سات سالوں سے ملک کے بیشتر علاقوں میں اذیت میں زندگی گزار رہے ہوں، ہونا تو یہ چاہئے کہ ان لوگوں کو علاقے میں بنیادی سہولیات کی بحالی کے بعد ہی واپسی کی دعوت دی جاتی۔ حکومت ان کو واپس بھجوا رہی ہے جس سے مکینوں میں بے چینی پھیلنا فطری امر ہوگا۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ عوامی نمائندوں سے مل کر متاثرین کے مسائل پر غور وخوض کرنے کے بعد ان کا ازالہ اور حل تلاش کرنے کے بعد ان کو واپسی کی ہدایت کی جائے۔

متعلقہ خبریں