Daily Mashriq


ایم این ایز اور ایم پی ایز کا احترام

ایم این ایز اور ایم پی ایز کا احترام

الیکشن کمیشن کے آئی جی پنجاب محمد طاہر کے اپنے عہدے پر برقرار رہنے کے فیصلے کو وزیر اطلاعات فواد چودھری نے غیر قانونی قرار دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کا مؤقف اس ضابطہ پر مبنی نظر آتا ہے کہ الیکشن کی تاریخ کے اعلان کے بعد کسی کلیدی سرکاری اہلکار کو ٹرانسفر نہیں کیا جائے گا۔ اس پر وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ 14اکتوبر کو نہ عام انتخابات نہیں ہونے والے تھے اور نہ ہی سارے صوبے میں انتخابات ہونے والے تھے ۔ محض چند ضمنی انتخابات کے لیے 14اکتوبر کی تاریخ مقرر کی گئی تھی لہٰذا اس ضابطہ کا اطلاق سارے صوبے کے انسپکٹر جنرل پولیس کی ٹرانسفر پر نہیں کیا جانا چاہیے۔ بادی النظر میں ان کی دلیل میں وزن ہے ۔ بہتر ہوتا کہ الیکشن کمیشن کے حکم کے فوری بعد حکومت اس کے خلاف حکم امتناعی کیلئے عدالت میں چلی جاتی۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ اس کا ایک اثر یہ دکھائی دیا کہ پولیس کی ایک تقریب میں وزیر اعلیٰ عثمان بزدار تو موجود تھے لیکن آئی جی پنجاب موجود نہیں تھے۔ نہ محمد طاہر اور نہ امجد جاوید سلیمی جنہیں ان کی جگہ تعینات کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔ایسی صورت پیدا نہیںہونی چاہیے تھی۔ وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ بیوروکریسی کو حکومت کی پالیسی پر عمل کرنا ہوگا۔ جس کو حکومت کی پالیسی سے اختلاف ہے وہ گھر چلا جائے۔ اصولی طور پر یہ نہایت صائب مؤقف ہے۔ منتخب حکومت کی پالیسیاں مینڈیٹ دینے والے عوام کی پالیسیاں ہوتی ہیں ‘ ان سے روگردانی نہیںہونی چاہیے اور اگر کسی کو اس سے اختلاف ہو تو اسے عوام کے پاس جانا چاہیے اور عوام کے سامنے اپنا نقطۂ نظر بیان کرنا چاہیے یہی جمہوری طریقہ ہے۔ وزیر اطلاعات کی اس رائے سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا کہ پالیسی بنانا منتخب حکومت کا کام ہے اور اس پر عمل درآمد بیوروکریسی کا فرض ہے۔ پالیسی سیاسی جماعت بناتی ہے جس پر کابینہ میں غور کیا جاتا ہے اور اسے قانون کی شکل دینے کے لیے اسے پارلیمنٹ میں لے جایا جاتا ہے جہاں اس پر سیر حاصل بحث کے بعد یہ قانون کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور اس کی پاسداری سب پر اور بالخصوص سرکاری اہلکاروں پر فرض ہو جاتی ہے۔ اگر یہ بات آئی جی محمد طاہر کی سبکدوشی کے حوالے سے کی گئی ہے تو یہ پالیسی فیصلہ ہو گا اور پالیسی ایسے تمام واقعات کے بارے میں ہو گی جہاں ملزم پولیس افسروں کے خلاف کارروائی مقصود ہو گی۔ لہٰذا عوام کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ پالیسی کیا ہے اور اس پر عمل درآمد کے قانون اورتقاضے کیا ہیں۔ یہ بتانے میں کوئی حرج نہیںہونا چاہیے کہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے آئی جی محمد طاہر کو متعلقہ پولیس افسروں کے خلاف جو کارروائی کرنے کی ہدایت کی اس کی نوعیت کیا تھی اور یہ کسی عمومی پالیسی کا حصہ تھیں۔ اس سے کنفیوژن دور ہو جائے گا۔ سینیٹ کے باہر میڈیا سے زیرِ نظر گفتگو کے دوران وزیر اطلاعات نے کہا کہ سرکاری اہلکاروں کو منتخب نمائندوںکا احترام کرنا ہو گا۔ اگر کوئی ایم این اے یا ایم پی اے کسی اہل کار کو ٹیلی فون کرتا ہے تو اسے کال کا جواب دینا ہو گا۔ یہ بڑی مناسب بات ہے۔ سرکاری اہل کاروں کو نہ صرف منتخب نمائندوںکا احترام کرنا چاہیے بلکہ عام آدمی کا بھی احترام کرنا چاہیے۔ اگر کوئی بھی شخص کسی کو ٹیلی فون کرے تو اس کال کا جواب دینا شائستگی کا تقاضا ہے ، ضرور دینا چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایم این اے یا ایم پی اے کسی سرکاری اہل کار کو ٹیلی فون کیوں کرے گا؟ محض خوش کلامی کے لیے تو عموماً کال نہیں کی جاتی ۔ کوئی ایم این اے یا ایم پی اے کسی سرکاری اہل کار کو ٹیلی فون کر کے کہے گا کیا؟ کیا وہ حکومت کی پالیسی کی وضاحت کرے گا یا کسی مخصوص معاملے میں سرکاری افسر کو ایسا رویہ اختیار کرنے کا کہے گا جسے وہ سرکاری پالیسی سمجھتا ہو۔ آج سے چند سال پہلے تک کئی ایم این اے ‘ ایم پی اے کہا کرتے تھے کہ لوگ ان کے پاس اپنے ’’کام‘‘ کروانے آتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا تھا کہ لوگ ایسے شخص کو ووٹ دینا پسند کرتے ہیں جو تھانے کچہری میں ان کے ’’کام‘‘ نکلوا سکے۔ ’’کام‘‘ کی اصطلاح بڑے وسیع معنی میں استعمال ہوتی ہے۔ فرض کیجئے ایم این اے ، ایم پی اے سرکاری اہل کار کو کام نہیں بتائیں گے بلکہ سرکاری پالیسی کے بارے میں آگہی فراہم کریں گے ۔ سرکاری پالیسی کابینہ‘ پارلیمنٹ اور سیکرٹریٹ کے بعد درجہ بدرجہ سرکاری اہل کاروں کو پہنچ چکی ہوتی ہے۔ ابھی تک ہماری سیاسی پارٹیوں میں ایسا انتظام نظر نہیں آتا کہ پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے بعد سیاسی پارٹیاں اپنے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو سرکاری پالیسی کے بارے میں کوئی مربوط باقاعدہ آگہی فراہم کرتی ہوں۔ جب کہ سرکاری اہل کاروں کو حکومت کے احکامات تحریری طور پر پہنچائے جاتے ہیں۔ وزیر اطلاعات کے اعلان کے مطابق نئی صورت حال میں ایم این اے اور ایم پی اے سرکاری اہل کاروں کو ٹیلی فون پر زبانی کلامی پالیسی سے آگاہی فراہم کریں گے اور ممکن ہے انہیں ’’کام‘‘ بھی بتائیں۔ لیکن اس گفتگو کا تحریری ماحصل کسی فائل کا حصہ ہونا چاہیے۔ جس پر متعلقہ ایم این اے یا ایم پی اے کے تصدیقی دستخط بھی موجود ہوں۔ ورنہ سرکاری اہل کاروں کو یہ موقع مل جائے گا کہ وہ اپنی ناقص کارکردگی کی ذمہ داری بھی متعلقہ ایم این اے یا ایم پی اے پر ڈال دیں۔ لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا ایم این اے اور ایم پی اے اب مقامی سرکاری اہل کاروں کو پالیسی سے آگاہی فراہم کیا کریں گے؟ حالانکہ جیسے کہ سطور بالا میں کہا گیا ہے کہ سرکاری پالیسی اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں زیر بحث آنے کے بعد قطعی صورت میں اعلیٰ بیوروکریسی کے توسط سے نچلے درجے کے افسروں تک تحریری شکل میں فراہم کی جاتی ہے۔ زبانی کلامی نہیں۔ وزیر اعظم عمران خان تو بار بار یہ کہہ چکے ہیں کہ ایم این ایز اور ایم پی ایز کا کام محض قانون بنانا ہے انتظام میں دخل دینا نہیں۔ عمران خان نے منتخب نمائندوں کے صوابدیدی فنڈز بھی ختم کر دیے جن کی بدولت وہ ترقیاتی کاموں میں دخیل ہو سکتے تھے۔ لیکن وزیر اطلاعات کی گفتگو سے کچھ اور ہی تاثر قائم ہو رہا ہے۔

متعلقہ خبریں