Daily Mashriq


یہاں وعدوں کی ارزانی بہت ہے

یہاں وعدوں کی ارزانی بہت ہے

ہم نے کہا کہ ہر جانب شور ہے بڑا ظلم زور ہے دہائی ہے سرکار دہائی ہے کہ بڑی سخت مہنگائی ہے ۔ ہماری یہ بات سن کر سرکار بولے کہ تونے یہ فریاد ایک بار نہیں ہر دور اور ہر عہد میں بار بار سنائی ہے۔ ہم نے جب سرکار کی زبانی یہ جواب سنا تو اس کے پس منظر کی حقیقت پر غور کرنے لگے تو ہمیں یہ بات تسلیم کرنی پڑی کہ سچ مچ مہنگائی کا رونا کوئی نیا نہیں، حال کے علاوہ ماضی بعید اور ماضی قریب کے ہر دور میں صارفین بڑھتی مہنگائی کا رونا روتے رہے اور وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں کے مصداق ہر دور میں مہنگائی یا ہوشربا گرانی صارفین کو ناکوں چنے چبواتی رہی۔ ہم جب بہت چھوٹے تھے ہمیں اپنے بڑے بزرگوں کی زبانی یہ باتیں سننے کو ملتی تھیں کہ وہ کیا زمانہ تھا جب ایک پائی کی چار روٹیاں آجاتی تھیں۔ دو ٹکوں میں ترکاری کی پوری ہانڈی تیار ہوجاتی تھی اور یوں گھر کے سارے افراد جی بھر کر کھانا کھا لیتے تھے۔ وہ یہ ساری باتیں ہمارے بچپن کے زمانے کی مہنگائی کا رونا روتے وقت کیا کرتے تھے۔ کہتے تھے کہ کیسا زمانہ آگیا ہے ایک آنے کی روٹی ملنے لگی ہے۔ وہ دمڑی دھیلہ پائی پیسہ ٹکہ آنا دونی چونی اٹھنی اور کالدار روپیہ کا زمانہ تھا۔ اب تو ایک روپے کا سکہ بھی دستیاب نہیں اگر کوئی بھکاری مل جائے تو اس کو بھی کم از کم دس رو پے کا نوٹ دینا پڑتا ہے۔ دس یا پچاس کے نوٹ پر بچوں کی بھی نظر سیر نہیں ہوتی۔ جن دنوں ایک روپے کی اتنی قدر تھی ان دنوں ڈالر کتنا سستا ہوتا ہوگا۔ مگر اب ڈالر کی قیمت کہاں سے کہاں جا پہنچی ہے۔ افراط زر بڑھتاگیا تو مہنگائی میں خود بخود اضافہ ہوتا رہا۔ عہد ماضی کی مہنگائی کو یاد کرتے وقت ہمیں عوامی شاعر حبیب جالب کی وہ نظم یاد آجاتی ہے جو صدر پاکستان ایوب خان کے دور کی مہنگائی یا ہوشربا گرانی کے خلاف وہ پبلک میٹنگز میں پڑھا کرتے تھے۔

بیس روپے کا من آٹا

اور اس پہ بھی ہے سناٹا

صدر ایوب زندہ باد

صدر ایوب کے دور میں آٹا بیس روپے من بکنے لگا تو حبیب جالب نے طنزیہ نظم لکھ کر جلسوں میں پڑھنی شروع کردی۔ اسی طرح فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں چینی کی قیمت میں معمولی سا اضافہ ہوا یا وہ جنس نایاب بنی تو گزرے وقتوں کی مہنگائی کی چکی میں پسنے والا بچہ بچہ ایوب خان کو چینی چور چینی چور کہتا گلیوں اور بازاروں میں نکل آیا ۔مہنگائی اور گرانی کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے والی قوم نے ایوب خان کی حکومت کوچاروںشانے چت گرادیا۔ قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو کے روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے نے جلتی پر تیل کاکام کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایوب خان جیسے آمرکی حکومت کا دھڑن تختہ ہو گیا۔ مہنگائی ایک طعنہ ہے۔ ایک پھبتی ہے ایک گلہ شکوہ یا شکایت ہے ۔ہر عہد کے حکمرانوں اور ان کی حکومت کے خلاف، مہنگائی جنگل کی آگ کی طرح پھلتی پھولتی اور پھیلتی رہی اوراس پر کبھی بھی قابو نہیں پایا جاسکتا۔ ماضی کے حکمرانوں نے مہنگائی کے جن پر قابو پانے کے لئے آئی ایم ایف سے سود پر قرضے لئے اور یوں مہنگائی کی چکی میں پسنے والا بچہ بچہ غیر ملکی قرضوں کی اجتماعی قبر میں دفن ہونے لگا۔ دنیا میں کوئی بینک یا مالیاتی ادارہ ایسا نہیں جو اپنا فائدہ دیکھے بغیر بلا سود قرضہ دے۔ یہی عالم آئی ایم ایف کا بھی ہے۔ ماضی میں قرضہ اتارو ملک سنوارو کا ڈھونگ ایشو کو کیش کرنے کے لئے رچایا گیا تھا۔ لیکن قوم والے زیرو پوائنٹ سے ایک انچ بھی آگے نہ بڑھ سکے قرض اتارنے کی بجائے مزید قرضوں کا بوجھ ملک اور قوم کے ناتواں کندھوں پر پڑتا رہا۔ قرضوں کے پین کلر نے بیماری دل کا علاج کرنے کی بجائے اس میں مزید اضافہ کردیا اور ہر دور کا میر تقی میر درد کے ہاتھوں کراہتے ہوئے کہنے لگا

الٹی ہوگئی سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

کہتے ہیں کہ حکومت نے غیر ملکی قرضوں سے بچنے کے لئے گیس اور بجلی مہنگی کرنے کا اعلان کیا اور یوں سی این جی کی قیمت آسمان سے باتیں کرنے لگی ، گیس کے نرخوں میں اضافہ ہوا تو تندور والے بھی روٹی مہنگی کرنے لگے ، ٹرانسپورٹروں نے مہنگی ملنے والی سی این جی کی کسر گاڑیوں میں سفر کرنے والوں مسافروں سے نکالنا شروع کردیا ، صرف گیس اور بجلی کے مہنگا ہونے سے دہائی ہے سرکار دہائی ہے ، بڑی سخت مہنگائی ہے کا شور مچانے والے ، کہاں جائیں گے ، کس کے آگے فریاد کریں گے ، کیونکہ خود کردہ را علاج نیست کے مصداق ووٹ دینے والوں کو بڑا شوق تھا ملک میں تبدیلی لانے کا ، اب تو ہم ڈرنے لگے ہیں کہ کل تک تبدیلی آنہیں رہی تبدیلی آگئی ہے کا نعرہ لگانے والے ، یہ نہ کہنا شروع کردیں کہ

ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا

آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا

حکومت عوام کو قرضوں کے بوجھ سے نجات دلانا چاہتی ہے ، وہ عوام کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانا چاہتی ہے ، کہتے ہیں اس سے غربت ختم ہوگی اور عوام کی قوت خرید میں اضافہ ہوگا ،یہ سب کچھ تب ہوگا جب ہوگا، ٹھنڈی آہوں اور بہتے اشکوں کی روانی ہے ، گرانی ہے گرانی ہے، گرانی ہے،اب توڈالر بھی 137کا بکنے لگا ، سب کچھ مہنگا ہوگیا، البتہ یہاں پہ خواب سستے ہیں ، سراب سستے ہیں بقول افتخار عارف

یہ بستی جانی پہچانی بہت ہے

یہاں وعدوں کی ارزانی بہت ہے

متعلقہ خبریں