Daily Mashriq


امید کی کرن

امید کی کرن

وزیر اعظم عمران خان نے اپنی حکومت کا پہلا منصوبہ ’’ نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام‘‘ پیش کر دیا ہے ‘ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد 50لاکھ خاندانوں کو اپنے گھر کی نعمت میسر آ سکے گی۔ ان دنوں پی ٹی آئی کی حکومت کو اگرچہ تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن پی ٹی آئی کی حکومت سے تمام تر اختلاف کے باوجود اس منصوبے کی تحسین کیے بغیر چارہ کار نہیں ہے کیونکہ بظاہر ’’ایک‘‘ نظر آنے والا منصوبہ اپنے اندر بیسیوںمسائل کا حل سموئے ہوئے ہے۔ مثلاً یہ کہ اس منصوبے سے درجنوں قسم کے لوگوں کو روزگار کی سہولت ملے گی جس میں انجینئرز ،مستری ،مزدور کے علاوہ اینٹیں ،سیمنٹ اور ماربلز کے کاروبار سے منسلک لوگوں کی بڑی تعداد مستفید ہوگی اور اگر یہ سکیم پانچ سال چلتی ہے تو اس شعبہ سے منسلک لوگ ان پانچ سالوں میں اتنا کما لیںگے جسے وہ اگلے 5سال بیٹھ کر کھا سکیں۔ ہاؤسنگ سکیم کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں کرائے کے مکانوں میں رہنے والے لوگوں کی مشکلات ختم ہوں گی۔ کیونکہ ان لوگوں کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ کرائے کی مد میں صرف ہو جانے کی وجہ سے گھر کا ماہانہ بجٹ بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس معاملے کو آسان لفظوں میں یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ ماہانہ 20سے 25 ہزار کمانے والا مزدور بھی اگر چھوٹی فیملی کے لیے کرائے پر مکان حاصل کرتا ہے تو 8سے 10ہزار روپے سے کم میں اسے مکان نہیںملتا۔ اب اگر وہ 25ہزار روپے میں سے 10ہزار روپے کرائے کی مد میں ادا کرتا ہے تو 15ہزار روپے میں بچوں کی اسکول کی فیس‘ یوٹیلٹی بلز اور کچن کس طرح چلائے گا؟ ایک فیملی کے اگر دو بچے ہیں اور دونوں سکول جاتے ہیں تو کم ازکم ان کی ماہانہ فیس پانچ ہزار روپے ہو گی۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اس ملک کے غریب عوام روز مرتے ہیں روز جیتے ہیں،مزور کی کم از کم اجرت طے کر دینا بہت آسان ہے لیکن اس اجرت میں گھر کا بجٹ بنانا بہت مشکل ہے، اگر حکومت کی طرف سے ایسے طبقہ کو چھت کی نعمت فراہم کر دی جاتی ہے تو وہ کم آمدن میں بھی گزارہ کر لیں گے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ حکومت کا ہاؤسنگ منصوبہ جو بظاہر صرف ایک منصوبہ ہے عوام کے اکثر مسائل کو حل کر دے گا اور حکومت کو مسائل کے گرداب سے باہر نکالنے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت میں بہتری کا سبب بھی بنے گا۔ ’’نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام‘‘ کی رجسٹریشن کے لیے حکومت نے جو فارمولا پیش کیا ہے اگر اس پر طائرانہ نظر ڈالیں تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ حکومت کا یہ پروگرام غریب عوام کی سہولت کو مدِنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے ‘ جیسا کہ اس سکیم میں ان لوگوں کو ترجیح دی جائے گی جن کے پاس پاکستان میں اپنی ملکیت میںکوئی گھر نہ ہو، اسی طرح ماہانہ قسط کی ادائیگی میں بھی 5ہزار روپے سے آغاز کیاگیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے پانچ سالوں میں 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کیلئے ’’نیاپاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی‘‘ قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے پر عملدرآمد کرانے کے لیے ’’ نیا پاکستان ہائوسنگ ‘‘اتھارٹی قائم کی جائے گی جہاں ’’ون ونڈو‘‘ سسٹم کے تحت تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی اور اس اتھارٹی کی نگرانی بذات خود کروں گا، یہ اتھارٹی 90 دن میں قائم کی جائے گی تاہم جب تک اتھارٹی قائم نہیں ہوتی اس دوران ٹاسک فورس ہاؤسنگ اسکیم پر کام کرے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ گھروں کی تعمیر پرائیویٹ ادارے کریں گے جب کہ رکاوٹیں ختم کرنا اور تعاون کرنا حکومت کا کام ہوگا، کنسٹرکشن انڈسٹری کی راہ میں قانونی رکاوٹوں کوبھی دور کریں گے،ہم عام لوگوں کو گھربنا کردیں گے،نوجوان کنسٹرکشن کمپنی خود شروع کریں اور انڈسٹری میں شامل ہوں، ہماری کوشش ہے کہ بیروزگار نوجوان ہاؤسنگ اسکیم سے روزگار لیں۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے 7 شہروں میں پائلٹ پراجیکٹ شروع کررہے ہیں، گھروں کے لیے60 دنوں میں رجسٹریشن مکمل کرنی ہے جب کہ اسٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر نیشنل فنانشل ریگولٹری باڈی تشکیل دیں گے یہ ریگولٹری باڈی کا قیام 60 دنوں میں ہوجائیگا۔مالی بحران کے باوجود حکومت کو اس منصوبے کی مالی پریشانی نہ ہو گی کیونکہ یہ برطانیہ سے لیا گیا منصوبہ ہے جس میں حکومت عوام سے اکٹھا کیا گیا پیسہ گھروں کی تعمیر پر لگاتی ہے اور عوام جتنی رقم کرایوں کی ادائیگی میں صرف کر رہے ہوتے ہیں اتنی ہی قسط رکھی جاتی جو عوام بخوشی قبول کر لیتے ہیں۔ اس منصوبے میں سرمائے کے ڈوبنے کے بھی امکانات نہیں ہوتے۔پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت سے لاکھ اختلاف سہی لیکن ہاؤسنگ منصوبے پر تنقید نہیں کی جاسکتی کیونکہ یہ منصوبہ خالصتاً عوامی منصوبہ ہے جس سے براہ راست پاکستان کے غریب عوام مستفید ہوں گے۔ اگراب بھی سیاستدانوں کی جانب سے اس عوام دوست منصوبے کی مخالفت کی جاتی ہے تو اس کا واضح مطلب یہ ہو گا کہ وہ پاکستان کے عوام کے مسائل حل ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے۔

متعلقہ خبریں