Daily Mashriq


پاکستان کی ابتری کے ذمہ دار کون؟

پاکستان کی ابتری کے ذمہ دار کون؟

اگر پاکستان کی اقتصادی حالت پر غورکیا جائے تو پاکستان کی اقتصادی حالت موجودہ دور میںجرمنی اور جنوبی کو ریا کے برابر نہیں تو کم از کم چین کے برابر ہونی چاہئے تھی۔ کیونکہ ما ضی میں یعنی 60 کی دہائی میں پاکستان اقتصادی طور پر بہتر تھا اور جرمنی سمیت کئی ممالک کو پاکستان نے قرضہ دیا تھا مگر بد قسمتی سے ہمارے نا اہل حکمرانوں کی وجہ سے وطن عزیز جرمنی ، جنوبی کو ریا اور چین کیا ، کئی سماجی اقتصادی اعشاریوں میں افغانستان سے بھی نیچے جا رہا ہے۔کسی ملک کی اقتصادی ترقی میں بُہت سارے اقتصادی اور سماجی اعشاریوں کے ساتھ ساتھ وہاں زرمبادلہ کے ذخائر اور ڈالر کے مقابلے میں اُن ملکوں کی کرنسی کی قدر و قیمت کا اہم کردار ہو تا ہے۔ جتنے جس ملک کے ساتھ خارجہ سکے کے ذ خائر زیادہ ہونگے اور اس ملک کی کرنسی مستحکم ہوگی تو اس سے آسانی سے اندازہ لگا یا جاسکتا ہے کہ اس ملک کی مالی اور اقتصادی حالت اچھی اور مُستحکم ہے۔مگر مُجھے انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ نہ تو معقول زرمبادلہ کے ذ خائر ہیں اور نہ ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر مستحکم ہے۔اگر ہم مزید تجزیہ کریں تو اس وقت چین کے زرمبادلہ کے ذخائر 3200 ارب ڈالر اور جاپان کے زمبادلہ کے ذخائر 1300 ارب ڈالر ہیں۔مگر میں یہاں پاکستانی معیشت اور اقتصادیات کا موازنہ چین، امریکہ ، جاپان ، بر طانیہ اور دیگر ترقی یافتہ اقوام کے ساتھ نہیں کرنا چاہتا ، مگر میں پاکستانی زمبادلہ کے ذ خائر اور کرنسی کا موازنہ اُن ممالک سے کرتا ہوں جو یا تو پاکستان کے ساتھ آزاد ہوئے اور یا پاکستان کے بعد آزاد ہوئے۔جنوبی ایشیائمیں ایسے ممالک ہیں جو یا پاکستان کے ساتھ آزاد ہوئے اور یا ان کی جغرافیائی ، اقتصادی اور مالی حالت پاکستان کے قریب اور نز دیک ہے۔ جنوبی ایشیاء ممالک میں بھارت، پاکستان ، بنگلہ دیش، سری لنکا، مالدیپ، افغانستان، بھوٹان اور نیپال شامل ہیں۔ یہ وہ ممالک ہیں جو عام طور پر ترقی پذیر ممالک تصور کئے جاتے ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو ما ضی میں جنوبی ایشیاء میں پاکستان اور بھارت دو ایسے ممالک تھے جو مالی اور اقتصادی حالت کے لحا ظ سے اچھے تھے۔ مگر یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ موجودہ دور میں پاکستان سماجی اقتصادی اعشا ریوں کے لحاظ سے سب سے نیچے جا رہا ہے ۔ 1992میں ، میں ایک سٹڈی ٹور پر بنگلہ دیش کی اسلامی یونیورسٹی ایک سال کے لئے گیا تھا تو اُس وقت پاکستانی کرنسی میں ایک ڈالر کی قیمت 25 روپے تھی جبکہ بنگلہ دیشی کرنسی میں ڈالر کی قیمت 38 روپے تھی۔مگر اب حکمرانوں کی لوٹ کھسوٹ‘ کرپشن اور بدعنوانی کی وجہ سے پاکستانی روپے کی قدر اتنی گر گئی کہ ایک ڈالر کی قیمت 137روپے ہوگئی۔ اگر ہم مزید غور کریں تو بھارت کے 73 روپے ایک ڈالر کے برابر ہیں۔ جبکہ بھوٹان کے 72 روپے اور افغانستان کے 83 افغانی ایک امریکی ڈالر ہیں ۔ ایک زمانہ تھا جب خیبر با زار میں افغانی کرنسیسے بھری ہتھ گاڑی کل 500 روپیمیں مل جاتی تھی مگر اب افغانی کرنسی پاکستانی روپے کے مقابلے میں دو چند بڑھ گئی ۔ اگر جنوبی ایشیاء کے ممالک کے زر مبادلہ کے ذخائر پر نظر ڈالیں تو بھارت کے ذخائر 402 ارب ڈالر، بنگلہ دیش ، جو پاکستان سے علیحدہ ہو کر 1971 میں وجود میں آیا اس کے زرمبادلہ کے ذخائر 33 ارب ڈالر، نیپال کے 10 ارب ڈالر، سری لنکا کے8.6 ارب ڈالر اور پاکستان کے ذخائر سب سے کم یعنی 8.4ارب ڈالر ہیں اور افغانستان جو اب تک حالت جنگ میں ہے اس کے ذخائر 7.5ارب ڈالر ہیں۔ قارئین سوچتے ہونگے کہ پاکستان کی ابتری کے ذمہ دار کون ہیں۔ تو یہاں عرض کرتا چلوں کہ پاکستان کے تباہی کے ذمہ دار بیوروکریسی اور سیاست دان ہیں۔پاکستان پر مطلق العنانوں نے 35 سال اور سیاست دانوں نے۳۶ سال حکومت کی اور ان دونوں نے پاکستان اور پاکستانی عوام کو پستی میں دھکیلا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ۱۹۶ ممالک کی فہرست میں اُن غریب ممالک کی صف میں ہے جو بھوک اور افلاس کی وجہ سے ایک دوسرے کو کھا جاتے ہیں۔پاکستان صحت ، تعلیم ، متوقع زندگی اور روزگار میں جنوبی ایشیاء کے غریب ممالک میں بھی سب سے نیچے ہے۔پاکستان کی اقتصادی شرح نمو 4 فی صد ہے جبکہ بنگلہ دیش کی۷ فی صد، بھارت7.3فی صد، سری لنکا 7.4 فی صد اور مالدیپ کی 6.8 فی صد ہے۔اگر ہم غور کریں تو پاکستانیوں کی متوقع زندگی 65 سال ہے جبکہ اسکے بر عکس مالدیپ کی 77سال، سری لنکا 71 سال ، بنگلہ دیش 69 سال ، بھارت اور بھوٹان کی 68 سال ہے۔پاکستان انسانی ترقی کی فہرست میں سب سے نیچے یعنی 146ویں نمبر پر،سری لنکا 73 ویں نمبر پر، بھارت اور بھوٹان 135ویں نمبر پر ہیں۔اگر ہم بے روز گاری پر نظر ڈالیں تو وہ بھی جنوبی ایشاء میں سب سے زیادہ یعنی 7 فی صد ، جبکہ نیپال میں بے روز گاری 1.8 فی صد ، بھارت میں 2.8 فی صد، اور بنگلہ دیش میں 4.3 فی صد ہے۔علاوہ ازیں پاکستان میں 2 ڈالرروزانہ کے حساب سے کمانے والے 77 فی صد لوگ غُربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔جنوبی ایشیاء میں پاکستان کی شرح خواندگی سب سے کم یعنی 55 صد، جبکہ اسکے بر عکس مالدیپ میں شرح خواندگی 99 فی صد ، سری لنکا میں98فی صد اور بھارت میں 75 فی صد ہے۔

متعلقہ خبریں