Daily Mashriq

وزیراعظم کی مولانا کے ساتھ مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے کی ہدایت

وزیراعظم کی مولانا کے ساتھ مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے کی ہدایت

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے سیاسی دوستوں کو جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ ’مذاکرات کا راستہ‘ کھلا رکھنے کی ہدایت کردی۔

واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے پرائم منسٹر آفس (پی ایم او) میں حکومتی ترجمانوں سے ملاقات میں مذکورہ پیش رفت کا تذکرہ کیا۔

وزیراعظم کے ترجمان سے رابطہ کرنے پر انہوں نے بتایا کہ تجویز جاری ہوئی کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ سے رابطہ بحال رکھا جائے اور انہیں ان کے مطالبے پورے کرنے سے متعلق یقین دہانی کرائی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مذکورہ معاملے پر ڈیڈ لاک نہیں ہونا چاہیے‘۔

انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں فیصلہ کیا گیا کہ مولانا فضل الرحمٰن کو اسلام آباد میں دھرنے سے روکا جائے گا تاہم اگر مظاہرین نے انتشار پھیلایا تو ان کے ساتھ سختی سے نمٹاجائے گا۔

حکومتی ترجمان کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم عمران خان کا موقف واضح ہے کہ ڈیڈ لاک سے بچاؤ کے لیے مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ مذاکرات کرنے میں کوئی حرج نہیں‘۔

عمران خان کا حوالہ دے کر حکومتی ترجمان نے کہا کہ ’مولانا فضل الرحمٰن، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی لائن پر عمل کررہے ہیں کیونکہ وہ اپنی بقا کی جدوجہد کررہے ہیں‘۔

علاوہ ازیں اجلاس میں کہا گیا کہ مولانا فضل الرحمٰن اس مرتبہ مذہب کارڈ استعمال کررہے ہیں اور دھرنے میں مدارس کے طلبا کو استعمال کریں گے۔

دوسری جانب وفاق وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے تصدیق کی کہ وزیراعظم عمران خان نے انہیں مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ مذاکرات کرنے کا ہدف نہیں دیا۔

انہوں نے میڈیا پر نشر ہونے والی خبروں کی تردید کی کہ وزیراعظم عمران خان نے کمیٹی تشکیل دے کر معاملہ سنبھالنے کا ہدف دیا ہو۔

واضح رہے کہ متعدد میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ مولانا فضل الرحمٰن کو اسلام آباد میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور انہیں پنجاب یا خیبرپختونخوا میں گرفتار کرلیا جائےگا۔

دوسری جانب سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت جی یو آئی کی آزادی مارچ میں تعاون کرے گی۔

متعلقہ خبریں