Daily Mashriq

وزیراعظم کی معاشی بحالی کے امورپر توجہ

وزیراعظم کی معاشی بحالی کے امورپر توجہ

وزیراعظم عمران خان کی چھ سوستاسی بیمار صنعتی یونٹس کی ساٹھ روز میں بحالی کی ہدایت پر الہ دین کا چراغ ہاتھ لگنے پر ہی عملدرآمد ممکن نظر آتا ہے ساٹھ دن کے اندر بیمار صنعتوں کی بحالی ممکن ہوتا تو یہ آسان کام بہت پہلے ہوچکا ہوتا۔صنعتی یونٹس کی بحالی کیلئے قوانین اور انتظامی اصلاحات کا عمل بھی اگر ساٹھ دن کے اندر ممکن ہو تو یہ بڑی کامیابی اور پیشرفت ہوگی ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بگاڑ کی اصلاح کا پہلا قدم خرابی کا احساس ہے اس کے بعد بگاڑ کی وجوہات معلوم کرنا اوران وجوہات کو دور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میںبتایا گیا کہ سرمایہ کاری،جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی کمی ،ہنر مندافرادی قوت کی کمی اور ریسرچ کا فقدان معاشی معاملات پر منفی طور پر اثر انداز ہونے والے عوامل ہیں یہ عوامل اس نوعیت کے ہیںکہ اولاً یہ طویل اور پیچیدہ ہیں دوم یہ کہ ان مشکلات کاحل مختصر وقت میں نکالنا ممکن نہیں کچھ عوامل تو ایسے ہیں کہ خود حکومت اس قابل نہیں کہ وہ ان مشکلات کو دور کرسکے۔اس وقت ملکی معیشت کی صورتحال اس نہج پر آگئی ہے کہ عالمی معیشت کی درجہ بندی میں پاکستان کی تین درجے تنزلی ہوئی ہے اور پاکستان ایک سو دسویں نمبر پر آگیا ہے معاشی استحکام کے لحاظ سے بھی تیرہ درجے کی کمی ہوئی اور اب پاکستان ایک سو،سولہ نمبر پہ آگیا ہے۔کسی بھی ملک کی معیشت ایسی نہیں کہ اس حوالے سے محض اندازے سے کام لیا جائے کیونکہ معیشت ایک ٹھوس حقیقت ہے اور اسے باقاعدہ اعدادوشمار کی روشنی میں جا نچا جاتا ہے۔دنیا کے دیگر ممالک کی معیشت میں تنزلی آئی ہے لیکن عالمی حالات کے ساتھ ساتھ ملکی حالات کی عدم موافقت ملکی معیشت دوہری طرح متاثر ہوئی ہے جس کے منفی اثرات بتدریج عام آدمی تک منتقل ہوتے ہیں ملک میں کاروباری طبقہ کبھی وزیراعظم ،کبھی چیئرمین ایف بی آر اور بالآخر آرمی چیف تک سے ملنے کے باوجود مسائل اور مایوسی کا شکار ہیں تاجروں نے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کررکھا ہے کارخانے اور صنعتیں بند ہورہی ہیںملکی سیاسی حالات بھی بہتر نہیں اور احتجاج ودھرنے کی تیاریاں ہورہی ہیں ان سارے حالات میں ساٹھ دن کے اندر بہتری لانے کی ہدایت کتنا حقیقت پسندانہ اور کتنا فسانہ ہوسکتا ہے وزیراعظم کی معاشی ٹیم کو یہ ساراعمل ان کو گوش گزار کرنے کی ذمہ داری میں تامل کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیئے۔ہم سمجھتے ہیں کہ ملکی معیشت ،حکومت اور سیاسی حالات کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کیلئے پالیسیوں اور سیاسی نظام کا استحکام اور معاشرے میں ہم آہنگی وامن وامان کی ضرورت ہوتی ہے ایندھن کے نرخوں میں اعتدال اور کاروبار کیلئے مناسب ماحول اور ساز گارحالات پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔یہاں عالم یہ ہے کہ تاجروں کی آرمی چیف سے شکایت کے بعد چیئرمین نیب اپنے عملے کو باز رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے بہرحال تاجروں اور حکومت کے درمیان بعد کی جو کیفیت ہے حکومت کو سب سے پہلے اسے دور کرنے پر توجہ دینی چاہیئے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتمادبحال ہو حکومت اور تاجروں کے درمیان اعتماد کی بحالی ملکی معیشت کے جمود کو توڑنے کا پہلا اور ضروری قدم ہے جسے اٹھائے بغیر معیشت کا پہیہ چلنا ممکن نہیں۔ملک میں چھ سو ستاسی بیمار صنعتی یونٹس کی بحالی میں حکومت کو کامیابی حاصل ہو تو اسے تبدیلی کے زمرے میں شمار کیا جا سکتا ہے ۔صنعتوں میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور فرسودہ طریقوں کو چھوڑ کر کم وقت اور کم افرادی قوت کے ساتھ پیدا وار میں اضافہ اورلاگت واخراجات میں کمی لائی جا سکتی ہے مقامی سطح پر چھوٹی صنعتوں کے فروغ پر خاص طور پر توجہ کی ضرورت ہے تاکہ کم سرمایہ سے مقامی سطح پر روزگار اور کاروبار کے مواقع میں اضافہ ہو تعمیرات کے شعبے پر خاص طور پر توجہ کی اس لئے بھی ضرورت ہے کہ یہ شعبہ دیگر کئی اہم شعبوں کے چلانے میںمددگارثابت ہوگا۔ان تمام اقدامات کے ساتھ ساتھ حکومت کو اپنی پالیسیوں اور لب ولہجے میں بھی تبدیلی لانے اور کاروباری طبقے کے شکستہ اعتماد کی بحالی پر بھی خاص طور پر توجہ دینا ہوگی۔

متعلقہ خبریں