Daily Mashriq

وزارت مذہبی امور کی احسن تجویز

وزارت مذہبی امور کی احسن تجویز

وزارت مذہبی امور نے ملائیشیا اور انڈونیشیا کے حج ماڈل کی طرز پر تین سالہ حج پالیسی کے خدوخال کو حتمی شکل دے دی ہے جس کے تحت مجموعی طور پر تین سالوں کیلئے حج درخواستیں طلب کی جائیں گی۔ پہلے سال کامیاب ہونے والے پوری رقم ادا کریں گے۔ دوسرے اور تیسرے سالوں کے لئے کامیاب درخواست گذاروں سے حج کی رقم اقساط میں لی جائے گی۔اس کے ساتھ ہی عمرے کے حوالے سے بھی قانون سازی اور معتمرین کو ٹریول ایجنسی اور عمرہ کمپنیوں کی ملی بھگت سے لوٹ مار سے بچانے کیلئے قانون سازی بھی اہم امر ہے۔امر واقع یہ ہے کہ عمرہ پیکج کے نام پر لوگوں سے دگنی رقم کی وصولی پر اب تک حکومت خاموش تھی اور کوئی ایسا فورم بھی نہیں تھا جس کی شکایت کی جا سکے فی عمرہ سعودی حکومت کو پانچ سوریال کی ادائیگی کرنی پڑتی ہے اور معتمرین سے نوسو ریال کی وصولی عام ہے بہرحال قانون کے نفاذ کے بعد اس حوالے سے معتمرین کو ریلیف ضرور ملے گا لیکن بہت دیر بعد حکومت کو اس کا خیال ہے دیر آید درست آید کے مصداق یہ احسن اقدام ہوگا۔ہم سمجھتے ہیںکہ یہ مذہبی امور کی ذمہ داری ہے کہ وہ حج وعمرہ کو سہل اور ارزاں بنانے کی سعی کرے اور خاص طور پر ان لوگوں کا راستہ روکا جائے جو لوگوں کی سادہ لوحی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں جہاں تک حج داخلہ کے نئے طریقہ کار کا تعلق ہے اس سے جہاں حکومت کو وقفے وقفے سے رقم کی وصولی ہوتی رہے گی جس کے ذریعے وہ بروقت حاجیوں کیلئے مناسب رہائش گاہوںکے حصول اورٹرانسپورٹ کے انتظامات کرسکیں گے وہاں حکومت کے خزانے میں ایک خطیر رقم بھی جمع ہوگی جبکہ لوگوں کیلئے یہ سہولت ہوگی کہ وہ قسط وار رقم جمع کر کے دوسرے یا تیسرے سال بشرط حیات یقینی طور پر حج پر جا سکیں گے۔اور ان کو مایوسی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

ڈاکٹروں کی ہڑتال کے مزید منفی اثرات

ڈاکٹروں اور حکومت کے درمیان 19 دنوں سے جاری جھگڑے کے اثرات اب صرف ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج معالجے میں مشکلات ہی تک محدود نہیں رہے بلکہ ڈاکٹروں کے سڑکوں پر آکر احتجاج سے گزشتہ روز صوبائی دارالحکومت کی ٹریفک معطل رہنے سے بھی شہریوں کو سخت مشکلات کاسامنا کرنا پڑا شہر میں ٹریفک کا مسئلہ پہلے سے گھمبیر ہے ایسے میںکوئی اور رکاوٹ اور سڑک کی بندش کی نوبت شہریوں کیلئے باعث عذاب بن جاتا ہے ڈاکٹروں کی ہڑتال کے باعث اب ادویات کا کاروبار بھی متاثر ہونے لگا ہے ٹرانسپورٹ پر بھی اس کے تھوڑے بہت اثرات مرتب ہونا بعید نہیں لیکن اصل اور نہایت سنگین مسئلہ تڑپتے بلکتے مریضوں کا علاج نہ ہونا ہے ہسپتالوں میں اشد مجبوری اور لاعلمی میں علاج کیلئے آنے والے مریضوں کو مایوسی تکلیف بیماری میں اضافہ وپیچیدگیوں کا سامنا ہورہا ہے اور مجبوراً پرائیویٹ علاج پر اس مہنگائی کے دور میں مجبور ہونا الگ بوجھ تلے دبنا ہے اس ساری صورتحال کے بخوبی ادراک کے باوجود حکومت اور ڈاکٹر بضد ہیں کہ وہ اپنی منوا کے چھوڑیں گے جو دونوں کی ضد انا اور غیر حقیقت پسندی کا اظہار ہے۔اس مسئلے کا بالآخر حل ثالثی مذاکرات اور کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر ہی نکلے گا۔وزراء کے تندوتیز بیانات ڈاکٹروں کے موقف میں نرمی کی بجائے سختی کا ہی باعث ہوں گے دوسری جانب ڈاکٹر برادری کو بھی اس حقیقت پر غور کرنا چاہیئے کہ ان کو بالآخر حکومت ہی سے معاملت کرنا پڑے گی اور حکومتی شرائط کے تحت ہی وہ ملازمت کرسکیں گے۔بہتر ہوگا کہ جتناجلد دونوں فریق آنکھوں پر بندھے جذبات کی پٹی ہٹا کر کھلی حقیقت کا جائزہ لیں اور اس مسئلے کا قابل قبول حل تلاش کیا جائے اور جتنا جلد ایسا ہوجائے خود ان کیلئے اورخاص طور پر بیمارولاچار افراد کے حق میں بہتر ہوگا۔

چترال میں آبی بجلی کے نفع بخش منصوبے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی ضلع چترال میں350میگا واٹ کے حامل تورن موری کاری ہائیڈرپاور پراجیکٹ اور260میگاواٹ کے جومشیلی تورین موری ہائیڈروپاور پراجیکٹ پر پیش رفت یقینی بنانے کی ہدایت صوبے میں اکنامک زونز کو بجلی کی فراہمی کے حوالے سے بڑی اہمیت کی حامل ہیں وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکی جانب سے صوبے میں اپنے وسائل سے بجلی کی پیداواربڑھانے اور صنعتوں کو رعایتی نرخوں پر بجلی کی فراہمی کی مساعی کو اگر اب تک کی صوبائی حکومت کا سب سے نافع کام قرار دیا جائے تو خلاف حقیقت بات نہ ہوگی ۔ہم سمجھتے ہیںکہ صوبے میں سستے پن بجلی کی پیداوار کے اتنے مواقع ہیں کہ اگران سے صحیح معنوں میں استفادہ کیا جائے اور بجلی پیداکر کے دوسرے صوبوں کو فروخت کی جائے تو صوبے کو خطیر آمدنی ہوسکتی ہے۔سستی بجلی کی پیداوار اور استعمال سے صوبے میں صنعتی ترقی کا نیا باب کھل سکتا ہے وزیراعلیٰ نے چترال میں خال ہی میں ریش ہائیڈل پاورسٹیشن کی بحالی کے کام کا بھی افتتاح کیا ہے جبکہ دو مجوزہ پن بجلی منصوبوں پر چینی کمپنیوں کے اشتراک سے اب کام شروع ہونے کی توقع ہے جس سے چترال میں کاروبار وروزگار کے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں اور مقامی آبادی کو ترقی کے بہترمواقع ملیں گے چترال میں سستی پن بجلی کی پیداوار کے نت نئے مواقع کے پیش نظر صوبائی حکومت کو چترال میں صنعتی زون قائم کرنے اور چھوٹے کارخانے لگانے کیلئے مقامی آبادی کو آسان شرائط پر قرضے فراہم کر کے ان کی حوصلہ افزائی کی بھی ضروت ہے چترال میں کون سے کارخانے موزوں ہوں گے اور مقامی آبادی کو کس طرح چھوٹی ورکشاپس اور دیگرطریقوں سے روزگار اور کاروبار کے امکانات کو وسعت دی جاسکتی ہے اس پر چترال کی کاروباری برادری کو بھی غور کر کے صوبائی حکومت سے رابطہ کرنا چاہیئے تاکہ ان کی تجاویز اور سفارشات پر حکومت غور کرے اور امکانات کا جائزہ لیکر مراعات کی فراہمی کا بندوبست کرے۔

متعلقہ خبریں