Daily Mashriq

تین اہم معاملے اور تجاویزات

تین اہم معاملے اور تجاویزات

شب الیکٹرانک میڈیا کے سیاپا فروشوں نے '' خبر چھوڑی کہ وزیر اعظم نے وفاقی وزرائ' جناب پیر نور الحق قادری' پرویز خٹک اور اعظم سواتی پر مشتمل مذاکراتی کمیٹی قائم کردی ہے جو آزادی مارچ کے داعی مولانا فضل الرحمن سے رابطہ و مذاکرات کرے گی''۔ خبر کو پر لگے اور پھر ہمیشہ کی طرح لشکری مدمقابل ہوئے۔ بحثوں اور تھڑولے پن سے بہت دھول اڑی مگر نصف شب سے قبل وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے وزیر اعظم کی جانب سے کسی مذاکراتی کمیٹی کے قیام اور اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے تردید کردی۔ اس پر دو آراء نہیں کہ آزادی مارچ والوں کے دستور میں موجود احتجاج کے حق کو کھلے دل سے تسلیم کیا جانا چاہئے۔ حکومت قانون شکنی کے مظاہرے تک صبر و تحمل کامظاہرہ کرے۔ آزادی ما رچ والے بھی اپنا احتجاج پر امن رکھیں او اس امر کو یقینی بنائیں کہ آزادی مارچ کے شرکاء جمہوری شعور کا مظاہرہ کریں' مذہبی کارڈ استعمال نہ کیاجائے۔ یہاں تحریک انصاف اور آزادی مارچ والوں سے بصد ادب درخواست ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر تحمل و شائستگی کا مظاہرہ کریں۔ سیاسی عمل میں اختلافات کفر ہر گز نہیں ہوتے '' اندھی اور گندی الزام تراشیاں'' ماحول کو خراب کرنے کا موجب بنیں گی۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ 126دن کے دھرنے کے حالے سے جے یو آئی (ف) نے جو اخلاق باختہ الزامات لگائے تھے کچھ غلط کہا تھا تو اب اس کا جواب دشنام طرازی یا ''ہلکے'' الزامات ہر گز نہیں۔ طرفین کے حامیوں پر واجب ہے کہ سماجی ماحول پر حملہ آور ہونے سے گریز کریں۔ سیاسی اختلافات کو ذاتی نفرت و عداوت میں بدلنے سے پیدا ہونے والے ماحول کاکوئی تیسری قوت فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ بہت افسوس ہے کہ چند وفاقی وزراء اور خود ساختہ مذہبی سکالروں نے ایک جعلی ہدایت نامہ کو پھیلانے اور اس کی آڑ میں غلیظ پروپیگنڈہ کرنے میں جی بھر کے حصہ ڈالا ان صاحبان کو بھی یہ سوچنا چاہئے کہ یہ رویہ انداز گفتگو اور تھڑدلا پن سیاسی روایات کے برعکس ہے۔

آگے بڑھنے سے قبل ایک اہم عدالتی فیصلہ کے حوالے سے چند معروضات عرض کرنا ضروری ہیں سپریم کورٹ نے جمعرات کو آراے بازار راولپنڈی میں حساس ادارے کی مسافر بس پر خودکش دھماکہ میں 20بار سزائے موت پانے والے مجرم عدیل خان کو بری کردیا ہے قبل ازیں بھی بعض سنگین مقدمات میں ملوث کئے جانے والے افراد پچھلے کچھ عرصہ میں بری کردئیے گئے۔ سپریم کورٹ نے عدیل خان کی بریت کے فیصلے میں کہا ہے کہ استغاثہ نے مقدمہ کی تحقیقات اور معاون امور میں اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔ قانون کے مطابق شہادتیں نہیں ہوئیں اور یہ کہ ''مجرم'' کی شناخت پریڈ سانحہ کے گیارہ ماہ بعد کروائی گئی سال بھر کے وقفے میں کس کو کسی کی صورت یاد رہتی ہے۔ چند سال قبل جب سپریم کورٹ نے 100افراد کے قتل میں ملوث ایک دہشت گرد کی ضمانت منظور کی تھی تب اور بعد ازاں کئی مواقع پر ان کالموں میں یہ عرض کرتا آرہا ہوں کہ دہشت گردی کی کسی واردات میں گرفتار ہونے والے شخص یا اشخاص کے حوالے سے حساس ادارے پولیس کو جو معلومات دیتے ہیں پولیس ان معلومات کو استغاثہ کا حصہ نہیں بناتی۔ ٹھوس شواہد کو نظر انداز کرنے میں پولیس کی لاپرواہی سے زیادہ کم ہمتی اور ڈنگ پٹائو پالیسی ہے جلدی سے جلدی مقدمہ سے جان چھڑوانا بھی پیش نظر ہوتا ہے۔ یہ وہ وجوہات ہیں جو استغاثہ کو کمزور کرتی ہیں اور عدالتی عمل کے کسی مرحلہ میں مجرم بچ نکلتے ہیں۔ سخی سرور کے خود کش حملہ کے مقدمہ میں بھی یہی ہوا تھا اس طرح کی درجن بھر سے زیادہ مثالیں موجود ہیں۔ بہت ضروری ہوگیا ہے کہ پولیس کے تفتیشی عملے کی جدید خطوط پر تربیت کروائی جائے تاکہ وہ دیسی ٹوٹکوں کے سہارے تفتیش کرنے کی بجائے جدید انداز تفتیش اپنائیں اور مجرمان منطقی انجام سے دو چار ہوسکیں۔ آر اے بازار سانحہ میں ناقص تفتیش کے مرتکب پولیس کے ذمہ داروں کے خلاف تادیبی کارروائی ہونی چاہئے اور یہ بہت ضروری ہے۔

کالم کے آخری حصہ میں اس خبر پر بات کرلیتے ہیں جسے اصولی طور پر پہلے دیکھا جانا ضروری تھا۔ وزیر اعظم نے اپنی معاشی ٹیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری اولین ترجیح معاشی نظام ہے۔ انہوں نے 687 بیمار صنعتی یونٹس کی بحالی کے لئے 2ماہ میں اصلاحات تیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ مثبت سوچ ہے بنیادی طور پر صنعتی عمل کو بہتر بنانے کی ضرورت پچھلے سال بھر کے دوران کبھی ترجیح نہیں رہی۔ بعض اقدامات کی وجہ سے صنعتی عمل متاثر ہوا۔ ہماری دانست میں اگر حکومت صنعتی عمل کی بحالی اور خصوصاً 687 صنعتی یونٹس میں پیداواری عمل کو پھر سے شروع کرانے میں سنجیدہ ہے تو پھر بطور خاص یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستانی معیشت کو مقامی و غیر ملکی انوسٹمنٹ سے ہی توانائی بھری زندگی عطا ہوسکتی ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے یہاں انوسٹمنٹ سے زیادہ قرضوں اور امدادوں پر معاشی نظام چلانے کی ڈنگ ٹپائو پالیسی کو نسخہ کیمیا کے طور پر ہمیشہ گلے کا تعویذ بنا یاگیا جس کا فائدہ صفر اور نقصان زیادہ ہوا۔ مثلاً اگر ہم سرمایہ کاری کو معاشی نظام کی روح سمجھ کر قرضوں اور امدادوں کی لعنت بھرے کینسر سے اپنے نظام اور سماج کو محفوظ رکھنے کے لئے موثر اقدامات کرتے تو جن حالات سے دو چار ہیں کم ازکم ان سے تو محفوظ رہتے۔ ہمارے پالیسی ساز ذہنی مشقت کو اپنی توہین خیال کرتے ہیں اسی لئے وہ دو جمع دو سے چھ بنانے کے قرضوں اور امدادوں والے نسخے جیبوں میں ڈالے رہتے ہیں کیونکہ ان میں کھابے لگ سکتے ہیں سرمایہ کاری کی صورت میں ترقی کے نتائج زمین سے اوپر دکھائی دیتے ہیں پالیسی سازوں کے نزدیک ترقی کا مطلب ان کی اور سرپرستوں کی خوشحالی ہے۔ بہر طور اب اگر وزیر اعظم صنعتی عمل کی بحالی اور معاشی نظام کو بہتر بنانے کے آرزو مند ہیں تو ان سے درخواست ہے کہ قرضوں اور امدادوں سے معیشت بحال کروانے والوں کی حوصلہ شکنی کریں۔

متعلقہ خبریں