Daily Mashriq

مولاناصاحب قدم بڑھائو

مولاناصاحب قدم بڑھائو

قد م بڑھائو ہماری سیاست کا ایک قابل عبرت نعرہ ہے۔ قدم بڑھائو کے آگے کسی بھی سیاسی شخصیت کا نام لکھ اور نام لے کر خالی خانہ پر کیا جا سکتا ہے مگر یہ نعرہ جس شخصیت کے ساتھ چپک کر رہ گیا ہے وہ میاں نوازشریف ہیں ۔اپنے دوسرے دور اقتدار میں کرگل جنگ سے پہلے اور اس کے بعد میاںنوازشریف کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کھٹ پھٹ چل رہی تھی ۔میاں نوازشریف تمام قابل ذکر اختیارات وزیر اعظم کے عہدے میں سمیٹ رہے تھے جو ظاہر ہے بہت سے حلقوں کے ساتھ ان کی کشمکش کو بڑھانے کا باعث بن رہاتھا ۔ایسے میں نوازشریف کے جاں نثار بہت معنی خیز انداز میں یہ نعرہ بلند کرتے تھے کہ ''قدم بڑھائو نوازشریف ہم تمہارے ساتھ ہیں'' ۔بعد میں میاںنوازشریف کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا گیا اور وہ جیل چلے گئے مگر اس کے خلاف موثر احتجاج اور ردعمل پیدا نہ کیا جا سکا ۔یہی وجہ کہ جلاوطنی کے خاتمے کے بعد وطن واپس آنے پرجب کارکنوں نے دوبارہ یہ نعرہ لگایا کہ قدم بڑھائوتو نوازشریف نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا آپ کے کہنے پر ہی میں نے قدم بڑھایا تھا مگر جب پیچھے مڑ کر دیکھا تو کوئی ساتھ نہیں تھا۔یہ ہمارے سیاسی کلچر پر ایک طنز بھی تھا۔آج مولانا فضل الرحمان کشتیاں جلا کر اسلام آباد آنے کی تیاریاں کر رہے ہیں ۔اپنی مجموعی سیاست کو روایتی اور دنیا دارانہ انداز میں چلانے والے مولانا فضل الرحمان اپنی رواں مہم کو مذہبی رنگ دے رہے ہیں ۔وہ ہر قیمت ہر حکومت کو گرانا چاہتے ہیں اور اس کے لئے کسی مشورے اور رو رعایت پر یقین نہیں رکھتے ۔مولانا فضل الرحمان روز اول سے حکومت کو گرانے کے تمنائی تھے مگر د وبڑی جماعتوں کے ساتھ نہ ملنے کی وجہ سے وہ اپنے ان عزائم اور ارادوں پر عمل درآمد نہ کر سکے۔دونوں بڑی جماعتوں میں عقابی سوچ کے دل مولانا کی سیاست کے ساتھ دھڑکتے تھے مگر فاختہ مزاج حلقوں کے لئے اس ساتھ اور ربط وتعلق میں ایک خطرہ بھی تھا ۔وہ خطرہ تو اس مہم کی ناکامی کی شکل میں بھی تھا اور عمران خان حکومت گرنے کی صورت میں سسٹم کی بساط لپٹنے کی شکل میں بھی تھا۔ایک سال کا عرصہ اس گومگوں میں بیت گیا ۔مولانا اپنے گھوڑے کی طنابیں کسے رہے۔ ایک لمحے کو بھی انہوں نے طنابوں پر اپنی گرفت ڈھیلی نہیں کی ۔اس جنگ میں مولانا فضل الرحمان کے پاس گنوانے کو کچھ بھی نہیں تھا۔ظاہر ہے کہ ہر سیاست دان کی طرح مولانا کی سیاست بھی طاقت کے میدان میں اچھی پوزیشن اور عہدہ ومناصب کے گرد گھومتی ہے۔جنرل ضیاء الحق کے بعد شروع ہونے والے پارلیمانی جمہوری نظام میں مولانا مستقل مزاجی کے ساتھ اپنا حصہ وصول کرتے رہے ۔اپنی پارلیمانی اور عددی قوت کو بہتر سودے بازی کے لئے استعمال کرنا کسی بھی سیاست دان کی ذہانت کا ثبوت ہوتی ہے اور مولانا بھی تین عشروں کی سیاست میں قدم قدم پر اس ذہانت کا مظاہرہ کیا۔اس بار مولانا کی عددی قوت بہت گھٹ کر رہ گئی ہے ۔سوائے ان کے صاحبزادے کے قومی اسمبلی میں ان کی خاطر خواہ نمائندگی نہیں۔ جوں جوں حکومت کے خلاف عوامی جذبات کا دائرہ وسیع ہوتا چلا گیا تو اسی رفتارسے مولانا فضل الرحمان کے اعتماد میں اضافہ ہوتا گیا۔آخر کار وہ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی تاریخ دینے میں کامیاب ہو گئے ۔انہوں نے اسے آزادی مارچ کا نام دیا ۔انہوںنے تاریخ کے تعین کے لئے دوبڑی سیاسی جماعتوں کی اعلانیہ حمایت کا انتظار بھی نہیں کیا اور تنہا اسلام آباد پر یلغار کرنے کا اعلان کیا ۔مولانا فضل الرحمان کی طاقت مدرسوںکے طلبہ ہیں اور انہوں نے اپنی سٹریٹ پاور کو ہمیشہ بہت کامیابی سے ووٹ کی طاقت میں ڈھالا ہے۔ انہوںنے ہمیشہ اپنی سیاست کو دیوبند مکتبہ فکر کی انقلابی اور جہادی سیاست سے دور رکھ کر ٹھیٹھ پاور پولیٹکس کی ہے ۔اس لئے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی طرح ان کا کارکن مزاحمت کا خوگر نہیں رہا ۔انہوں نے اپنے کارکن کو کبھی اسٹیبلشمنٹ کے آگے کھڑا نہیں کیا ۔یہ پہلا موقع ہے کہ انہیںپاور پولیٹکس کے لئے تیارکی گئی افرادی قوت کو سٹریٹ پاور میں ڈھالنے کا مرحلہ درپیش ہے۔ دوبڑی جماعتیں ابھی بھی ''دیکھو اور انتظار کرو'' کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں ۔وہ مولانا فضل الرحمان کے مارچ کی اُٹھان دیکھ کر رہی ہیں ۔گوکہ دورونِ خانہ دونوں جماعتیں مارچ کی کامیابی کے لئے مارچ میں اپنا حصہ ڈالنے پر آمادہ ہیں مگر اعلانیہ طور پر وہ ابھی تک ہاتھ کھینچے ہوئے ہیں۔ اس بات کا امکان ہے کہ ماضی میں قدم بڑھانے والا نعرہ اس بار'' مولانا صاحب قدم بڑھائو ہم تمہارے ساتھ ہیں'' کے انجام کا شکار ہوجائے اور یوں تاریخ اس نعرے کو نئے انداز نئے خدوخال اور نئے چہروں کی صورت میں دہرا دے بتاتا ہے کہ اسلام آبادکے ایوانوں کی طرف لپکتے شعلوں کو ہمیشہ راولپنڈی سے چلنے والی ہوائوں سے طاقت ملتی تھی اور اس وقت وہ منظر نہیں۔کیونکہ پاکستان کی سیاسی تحریکوں کا ماضی یہ وقت اور حالات نے مولانا کو عمران خان کی جگہ اور عمران خان کو مولانا کی جگہ لاکھڑا کیا ہے ۔وزراء کے دھرنا مخالف اور قانون کی بالادستی اور ریاست کی رٹ کے حق میں بیانات پر نام کاٹ دیں تو یہ مولانا فضل الرحمان کے اس وقت کے بیانات معلوم ہوتے ہیں جب عمران خان نوازحکومت کے خلاف اسلام آباد میں کنٹینر سجائے بیٹھے تھے۔آج مولانا فضل الرحمان کے جلادینے ،پھونک ڈالنے ، اُڑا دینے کے عزائم سے بھرپور بیانات کے آگے نام نہ ہو تو ان پر عمران خان کے کنٹینر والے بیانات کا گمان گزرتا ہے۔

متعلقہ خبریں