Daily Mashriq

سماوار،پیندے والی چینکیں اور قہوہ خانے

سماوار،پیندے والی چینکیں اور قہوہ خانے

کلکتہ کاجو ذکر کیا تو نے ہم نشیں

اک تیرمیرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے

پرانی یادیں تازہ ہوگئی ہیں،قدیم روایات کا ایک سلسلہ امڈ آیا ہے،آج کی نسل کیلئے تو یہ شاید ایک سادہ سی اطلاع ہو کہ اب قہوہ خانوں میں قدیم زمانے سے استعمال ہونے والے تانبے کے بنے ہوئے سماوار متروک ہوچکے ہیں قصہ پارینہ بن چکے ہیں،بلکہ اس نسل نے شاید وہ سماوار دیکھے ہی نہ ہوں،البتہ تصاویرمیں ضرور نظر آئے ہوں گے،کیونکہ اب تو ہر طرف سٹیل کے برتن اپنی بہاردکھارہے ہیں،اور تانبے کے برتن منقودالخبر ہوچکے ہیں،تاہم آج سے چند برس پہلے تک یہ سماوار چائے خانوں(قہوہ خانوں) میں جابجا موجود تھے اور چائے اور قہوہ بنانے کیلئے دکاندار ان میں پانی ابال کر گاہکوں کیلئے چائے ،قہوہ بنایا کرتے تھے،ہمارے خبر نگار کے مطابق چونکہ تانبہ(مِس) کے سماوار مہنگے ہیں اور ان میں نسبتاً پانی دیر سے گرم ہو کر دیر تک گرم رہتا تھا اس لئے ان کا رواج عام تھا،ویسے بھی اس زمانے میں بھی سٹیل کے برتنوں کا رواج نہیں پڑا تھا،البتہ اب جبکہ یاتو سٹیل کے برتن استعمال ہوتے ہیں یا پھر پلاسٹک وئپر کا استعمال عام ہوچکا ہے اس لیئے تانبے کے سماوار اور دوسرے برتن خصوصاً کھانا وغیرہ پکانے کیلئے پتیلے بھی تانبے کے ہوتے تھے جنہیںاندر سے قلعی کرایا جاتا تھااور جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے اندر کھانا وغیرہ پکانے سے بکٹیریا نہیں رہتا۔تو ان سماواروں میں قہوہ خانوں میں پانی ابالا جاتا تھا عموماً چائے خانوں میں دو دو سماوار ہوتے تھے اور اکا دکا جگہوں پر دو بڑے سماواروں کے ساتھ ایک چھوٹا سماوار بھی ہوتا تھا،تاہم یہ ان چائے خانوں میں ہوتا جہاں صبح سے رات گئے تک گاہکوں کا تانتا بندھا ہوتااور گرم پانی کی زیادہ ضرورت ہوتی ،بعض چائے خانے والے تین سماوار اس لیئے بھی رکھتے کہ وہ قہوہ بنانے کیلئے ایک سماوار اور چائے بنانے کیلئے دوسرے سماوار سے پانی لیا جاتا،جبکہ اس سماوار میں دکاندار صاف کپڑے کے ایک چھوٹے سے تھیلے میں ڈوڈہ ڈال کر پانی ابالتا جس کی وجہ سے چائے میں ایک خاص''چس''پیدا ہوجاتا اور گاہک اس چائے کے عادی ہو جاتے ،ڈوڈہ سے افیون حاصل کیا جاتا ہے جبکہ اسے سوکھا کردوائوں میں استعمال کیا جاتا ہے، بات ہورہی تھی تانبے کے سماواروں کی،سماوار دراصل روس کی ایجاد ہیں،اوروہاں سے سفر کرتے ہوئے برصغیر تک پہنچ گئے تھے،جبکہ ان کے ساتھ جن چینکوں میں چائے اور قہوہ پیالیوں کے سات گاہکوں کے سامنے لا کر رکھا جاتا تھا،ان چینکوں کی بھی اپنی ایک الگ داستان ہے،یہ چینک بھی جنہیں سُچے برتن کہا جاتا تھا،خاص طور پر روسی ریاستوں کے علاوہ بلغاریہ اور بیلجئم سے آتے تھے،اور جو پیالیاں چائے قہوہ پینے کے لئے استعمال کی جاتیں انہیں پشاور میں بلغمی(بیلجئیم کے نام کی بگڑی ہوئی صورت) پیالیاں کہا جاتا تھا،البتہ جو چینک ہوتے وہ زیادہ گرمی برداشت نہ کرنے کی وجہ سے تڑخ جاتے،تو اس کا علاج یوں ڈھونڈاگیا کہ ایسے کاریگر موجود تھے جو ان چینکوں کے پیندے نہایت کمال مہارت سے توڑکر انہیں جست کے پیندے لگا دیتے اور جہاں جہاں سے چینک میں درز پڑے ہوتے ان کو ٹانکے لگا کر ایک مسالہ(بطور سمینٹ)بھر دیتے تو پھر ان چینکوں کو آگ پر رکھ کر ان میں چائے یا قہوہ ابالا جاتا اور گاہکوں کو سپلائی کیا جاتا،بہت بعدمیں جب تام چینی کے برتن ایجاد ہوتے تو سُچے برتنوں کی جگہ تام چینی کے زرد،سبز یا تیلے رنگ کی چھوٹی بڑی چینکیں استعمال ہونا شروع ہوئیں،جو زیادہ محفوظ بھی ہیں اور ان کے ٹوٹنے یا ٹانکے لگانے کی ضرورت بھی نہیں رہی،اس ایجاد کی وجہ سے البتہ ان کاریگروں کی نسل اب ختم ہوگئی ہے جو چینکوں کو پیندے اور ٹانکے لگایا کرتے تھے اور اب تو تانبے کے سماوار بھی شاید کہیں کہیں کسی دکان پر نظر آجاتے ہوں ورنہ سٹیل نے ان کو دیس نکالا دے دیا ہے،البتہ بعض قدیم پشاوری گھرانوں میں چھوٹے سائز کے سماوار بطور ڈیکوریشن پیس کے ان کے ڈرائنگ رومز میں نظر آجاتے ہیں جبکہ کچھ مخصوص گھرانوں میں قدیم دور کے سمر قندو بخارا اور دیگر روسی ریاستوں کے بنے ہوئے دو اہم خاندانوں کے بنے ہوئے برتن بھی موجود ہیں جن کے نیچے یاپشت پر''گردیوسف'' اور''گردنر'' لکھا ہوا دیکھا جا سکتا ہے،قدیم دور میں وسط ایشیائی ریاستوں میں یہ دوخاندان سینہ بہ سینہ چلنے والی روایتی نسخوں کے مطابق یہ برتن بنایا کرتے تھے جو صرف شاہی محلات اور امراورئوسا ہی استعمال کرتے تھے،ان کی تفصیل پھر کبھی سہی،البتہ بات سماوار کی ہورہی ہے تو یہاں ایک اور اہم بات کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے ،کہ سماوارمیں پانی گرم کرنے کیلئے تو لکڑی کے چھوٹے ٹکڑے ڈال کر آگ جلائی جاتی،البتہ چینکوں میں چائے یا قہوہ بنانے کیلئے کوئلے کی انگیٹھی جلائی جاتی،اب یہاں کوئلہ بھی دو طرح کا ہوتا ،یعنی ایک تو عام لکڑی والا کوئلہ اور دوسرا پتھر کا کوئلہ، اور حیرت کی بات یہ ہے کہ دونوں طرح کے کوئلوں پر چائے یا قہوہ پکا کر پینے والا ذائقہ محسوس کر کے ہی سمجھ جاتا کہ یہ کس قسم کے کوئلے پر پکایا گیا ہے،جبکہ گھروں میں چائے وغیرہ پکانے کیلئے لکڑی،مٹی کا تیل ،چاول کے بھوسے کی انگیٹھی یا اپلوں سے جلائی جانے والی آگ کا استعمال بھی عام تھا،البتہ جب سے سوئی گیس اور ایل این جی سلنڈروں کا استعمال شروع ہوا ہے،اب کوئلے پر پکائی جانے والی چائے یا قہوے کا ذائقہ ہی لوگ بھول گئے ہیں،اب ان ذائقوں کی تفصیل میں جایا جائے تو ایک اور کالم کی ضرورت پڑے گی اس لیئے فی الحال اتنے ہی پر اکفتا کیجئے

ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے

سفینہ چاہیئے اس بحر بیکراں کیلئے

متعلقہ خبریں