Daily Mashriq

یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی

یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی

تعلیم کی اہمیت کسی تشریح کی محتاج نہیں ہے اور پھر ہمارے یہاں تو سکولوں اور کالجوں کی فصلیں اس تیزی سے اگ رہی ہیں کہ ہر گلی کوچے میں دوچار سکول تو مل ہی جاتے ہیں کسی کا نام آکسفورڈ اور کسی کا کیمبرج !بڑے بڑے نجی تعلیمی اداروں کی فیسیں تو آسمان سے باتیں کررہی ہیں اس لیے یہ گلی محلے کے آکسفورڈ اور کیمبرج ہمارے درمیانے طبقے کے بچوں کی تعلیمی ضروریات کسی حد تک پوری کررہے ہیں ہمارے ذہن میں جب بھی استاد کا خیال آتا ہے تو ساتھ ہی باغبان کا نام بھی ذہن میں آجاتا ہے جسے ہم عرف عام میں مالی کہتے ہیں باغبان کا کام پودوں کی تراش خراش سے متعلق ہوتا ہے پودوں کو پانی دینا انہیں موسم کی سختیوں سے بچانا ہر لمحہ ہردم خیال رکھنا تاکہ یہ تندرست و توانا رہیں بچپن میں مولوی عبدالحق صاحب کا لکھا ہوا خاکہ نام دیو مالی پڑھا تھا یہ ایک ایسے مالی کا خاکہ ہے جس نے اپنی زندگی پودوں کے لیے وقف کر رکھی ہوتی ہے گرمی ہو یا سردی، بارش ہو یا تند و تیز ہوائیں نام دیو مالی کے شب وروز پودوں کی دیکھ بھال میں ہی گزرتے وہ پودوں کے لیے جیا اور پودوں ہی کی حفاظت کرتے ان کی خدمت کرتے جان دیدی ! ایک مرتبہ کسی منچلے نے شہد کی مکھیوں کے چھتے کو پتھر مارا تو مکھیاں غضب ناک ہوکر نیچے باغ میں موجود مالیوں پر ٹوٹ پڑیں سب مالیوں نے تو بھاگ کر جان بچا لی لیکن نام دیو مالی تو پودوں کو سینچنے میں اس قدر مصروف تھا کہ اسے خبر ہی نہیں ہوئی کہ قضا اس کے سر پر کھیل رہی ہے مکھیوں کے غضب ناک جھلر نے اس پر حملہ کردیا اور بیچارے کو اتنا کاٹا کہ وہ جانبر نہ ہوسکا ! نجانے کیوں ہمارے ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ سب اساتذہ کرام کو نام دیو مالی کی طرح ہونا چاہیے ! استاد بھی تو مالی ہی ہوتا ہے اس کے شاگرد اس کے پودے ہوتے ہیں ان کی تراش خراش اس کی ذمہ داری ہوتی ہے اسے بھی اپنی زندگی اپنے شاگردوں کے لیے وقف کردینی چاہیے ان کی ضروریات کا خیال رکھنا اس کے فرائض میں شامل ہوتا ہے اور یہ سب کچھ اسی وقت ممکن ہے جب یہ پوری طرح تربیت یافتہ ہو درس وتدریس کے ہنر سے مکمل طور پر آشنا ہو! ابھی حال ہی میںامریکہ کی مشہورو معروف ہارورڈ یونیورسٹی میں ایک سروے کیا گیا جس میں طلبہ سے ایک اچھے استاد کے حوالے سے سوالات پوچھے گئے طلبہ کے جوابات سے یہ اندازہ لگانا آسان ہوجاتا ہے کہ ایک اچھا ٹیچر کسے کہتے ہیں ؟ اور ایک اچھے ٹیچر میں کن خوبیوں کا ہونا بہت ضروری ہے ؟ ایک اچھا استاد طلبہ کے ساتھ دوستانہ رویہ رکھتا ہے انہیں سوال پوچھنے کی دعوت دیتا ہے انہیں کلاس میں بولنا سکھاتا ہے اس کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ طلبہ کسی بھی قسم کا سوال پوچھنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں اس طرح وہ کلاس میں تخلیقی ، مثبت اور محفوظ ماحول بناسکتا ہے وہ اس بات سے باخبر ہوتا ہے کہ طلبہ کی ذہنی، سوشل اور جذباتی ترقی کے لیے درس و تدریس کے کون سے طریقے استعمال کیے جاتے ہیں اسے اپنے مضمون کی ضرورتوں کا علم ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک اچھا ٹیچر اپنے کام کے ساتھ مخلص ہوتا ہے وہ یہ جانتا ہے کہ ٹیچنگ کوئی پیشہ نہیں ہے بلکہ ایک مشن ہے ایک مقصد حیات ہے ایسا استاد ہر وقت پڑھانے کے لیے تیار رہتا ہے اور اپنے طلبہ کو وقت بھی دیتا ہے وہ اپنے شاگردوں کے دل میں تعلیم کی اہمیت بطور احسن اجاگر کرسکتا ہے انہیں اعلیٰ تعلیم کے حصول پر آمادہ کرسکتا ہے اس کے ساتھ ساتھ انہیں اپنے کام میں مصروف رکھنا بھی جانتا ہے اس حوالے سے وہی اچھے استاد ثابت ہوسکتے ہیں جو اپنے مضمون کے مواد کو دلچسپ بنا کر طلبہ کے سامنے پیش کرسکتے ہیںوہ انہیں نہ صرف تعلیمی ادارے کے اندر بلکہ باہر بھی زندگی گزارنے کے طریقے سکھاتا ہے انہیں زندگی کے تلخ حقائق اور جدید زمانے کی ضروریات سے کماحقہ آگاہ کرتا ہے طالب علم کی دوستی کتاب سے استوارکردیتا ہے آج تو کچھ اس قسم کی صورتحال دیکھنے میں آرہی ہے کاغذ کی یہ مہک یہ نشہ روٹھنے کو ہے ۔ یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی ۔ استاد اور شاگر د کے درمیان ایک روحانی رشتہ ہوتا ہے درس وتدریس کے عمل کی کامیابی کا انحصار اس رشتے کی مضبوطی کا مرہون منت ہوتا ہے فی زمانہ تو کچھ اس قسم کی صورتحال دیکھنے میں آرہی ہے کہ شاگرد کو اپنے استاد کا نام بھی نہیں آتا بسا اوقات دیکھنے میں آیا ہے کہ جب کسی طالب علم سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کے فزکس یا کیمسٹری کے پروفیسر کا کیا نام ہے تو وہ نام بتانے سے قاصر ہوتے ہیں !اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ استاد کلاس میں جاکر مشین کی طرح پڑھا کر باہر نکل آتا ہے وہ لڑکوں کو نہیں جانتا اور لڑکے اسے نہیں جانتے ! درس وتدریس کوئی میکانکی عمل نہیں ہے یہ یکطرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ ٹریفک کا نام ہے استاد اور شاگرد کے درمیان ایک مضبوط رشتے کا نام ہے اور پھر یہ تو ہماری مشرقی اقدار تھیں جن سے ہم بڑے غیر محسوس طریقے سے دور سے دور تر ہوتے چلے جارہے ہیں۔

متعلقہ خبریں