Daily Mashriq

سیاست میں مذہبی کارڈ کا استعمال

سیاست میں مذہبی کارڈ کا استعمال

سیاست عربی زبان کالفظ ہے اور اس کا مصد ر ''سوس''ہے۔اس کا بنیادی معنی اصلاح کرنا اور سنوارنا ہے۔سیاست کرنا یا اس میں حصہ لینا عام آدمی کا کام نہیں ہے کیونکہ سیاست بہت بڑی ذمہ داری کاکام ہے اصطلاحی معنوں میں سیاست مخلوق خدا کی اصلاح، رہنمائی اور خدمت اور حاجت روئی کانام ہے۔ سیاست کا تعلق صرف دنیاوی امور سے نہیں ہے بلکہ سیاست کا کام مخلوق خدا کی ایسی رہنمائی ہے جودنیا اور آخرت کی کامیابی اور نجات کا ذریعہ ہو اس لئے عام سیاست(مغربی سیاست) اسلامی سیاست سے مختلف ہوتی ہے۔علامہ ابن خلدون سیاست کو اللہ تعالیٰ کی نیابت وخلافت اور اس کے بندوں پر اسی کے احکام نافذ کرنے کا کام قرار دیتے ہیں۔جبکہ یونان کے فلاسفہ وسیاستدانوں کے افکارونظریات اور افلاطون کی ''ریپبلک'' سے لیکر موجودہ مغربی فلاسفر اور اس کے تحت وجود میں آئے نظام ریاست وسیاست کا کام فرائض حکومت ادا کرنا اور عوام کو نظم وضبط(ڈسپلن)کے تحت لانا ہے جو ایک قوم اور اجتماع کی مشکل میں جمع ہوں۔ان تعریفات کی رو سے اسلامی سیاست اور لا دینی(دنیاوی) سیاست میں بہت بڑا فرق ہے۔عالم اسلام میں گزشتہ ستر اسی برسوں سے یہ مخمصہ بن چکا ہے کہ مذہب،سیاست اور ریاست کا آپس میں کوئی تعلق ہے کہ نہیں۔اس وقت اگرچہ دنیا میں کوئی اسلامی ریاست نہیں لیکن مسلمانوں کی ستاون ریاستیں موجود ہیں اور کم وبیش ہر ملک وریاست کے عوام (فلاسفہ) علماء اور دانشوروں کے درمیان یہ بحث بعض اوقات بہت زوروشور سے اُٹھتی ہے اور کافی دیر تک چلتی رہتی ہے۔اب اس وقت تک مسلمانوں کے ہاں یہ بات بطور ضرب المثل پہنچ چکی ہے کہ بری سے بری جمہوریت اچھی سے اچھی امریت(ڈکٹیٹرشپ) سے اچھی ہوتی ہے،یہ آدھا سچ ہو سکتا ہے پورا نہیں۔ لیکن ہمارے ملک میں یہ بحث مختلف مواقع پر اُٹھتی رہی ہے کہ سیاست میں مذہبی کارڈ کا استعمال جائز ہے کہ ناجائز۔اس پر دونوں طرف یعنی مذہب وسیاست کو لازم وملزوم سمجھنے والوں اور لبرل وسیکولر جمہوریت کے علمبرداروں کے درمیان بہت ٹھوس اور وزنی دلائل موجود ہیں ۔ پاکستان کے قیام سے لیکر آج تک مذہبی اور سیکولر دونوں کارڈز دھڑلے کے ساتھ استعمال ہورہے ہیں۔قیام پاکستان کے وقت پاکستان کا مطلب کیا؟لا الہ اللہ اور''مسلم ہے تومسلم لیگ میں آ''مذہبی کارڈ کے سوا اور کیا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اُس وقت اس کا استعمال نہ صرف جائز بلکہ ناگزیر تھا۔سو ہو کر رہا اور بھر پور رہا اور نتیجہ خیز رہا۔پاکستان کے قیام کے بعد سیاست میں بطور پریشریا مطلب براری کے لئے مذہب کاا ستعمال نہیں ہونا چاہیئے تھا کیونکہ پاکستان ایک اسلامی جمہوری ملک کے طور پر وجود میں آیا تھا،اور یہاں اسلامی فلاحی ریاست کا قیام لازمی تھا لیکن بوجوہ آج تک یہ ہدف حاصل نہ ہوسکا جس کی وجہ سے مذہبی عناصر اور بالخصوص وہ علماء جو تحریک پاکستان میں ہر اول دستہ کے طور پر شامل تھے پیش پیش رہے۔اُن ہی کی جدوجہد اور دبائو سے لیاقت علی خان شہید کے دور میں اکیس علماء کے بائیس نکات منظور ہوئے جو قرار داد مقاصد کی صورت میں سامنے آکر بتدریج آئین پاکستان کا حصہ بنے۔

پاکستان کے کم وبیش سارے حکمران جدید یت (ماڈرنزم) لبرل ازم اورسیکولرازم سے مرعوب ومجبور تھے،جنرل ایوب خان نے تو اپنے آئین میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جگہ صرف جمہوریہ پاکستان پر ہی اکتفا کیا تھا لیکن مذہبی عناصر کے دبائو پر وطن عزیز اسلامی جمہوریہ کہلایا ذوالفقارعلی بھٹو نے مشہور نعرہ دیا،اسلام ہمارادین،جمہوریت ہماری سیاست اور سوشلزم ہماری معیشت۔۔لیکن یہ کیا عجیب ملغوبہ تھا؟ یہی وجہ تھی کہ مذہبی عناصر نے پوچھا کہ جب اسلام دین ہے تو کیا اسلام میں نظام ریاست ومعیشت نہیں ہے کہ آپ کوئی دوسرا تڑکا لگانا ضروری سمجھتے ہیں اور پھر جنرل ضیاء تو سرتاپا ہی مذہبی تھے اورمذہب کو اپنے اقتدار کے لئے خوب خوب استعمال کیا اب اس وقت ایک دفعہ پھر یہ مشکل آن پڑی ہے کہ عمران خان اور مولانا فضل الرحمن دونوں اپنی اپنی جگہ اور ضرورت کے مطابق مذہبی کارڈ استعمال کرتے ہیں کہ نہیں ۔عمران خان نے مدرسہ حقانیہ کو اپنے پچھلے صوبائی دوراقتدار میں تیس کروڑ کا فنڈدیا تھا۔واقفان حال سے پوچھ لیں کہ کیوں دیا تھا؟ عمران خان ریاست مدینہ کے قیام کے لئے کوشاں ہیں یہ مذہبی کارڈ ہے کہ نہیں۔ مولانا صاحب شروع ہی سے عمران خان کے خلاف قادیانیت اور یہودی ایجنٹ ہونے اور نہ جانے کیا الا بلا استعمال کرتے رہتے ہیں اور اس وقت تو شاید کشتیاں جلانے کیلئے ایسے سارے مدارس کو خالی کرتے ہوئے سارے مذہب پسند طلبہ اور عوام کو اسلام آباد لارہے ہیں جبکہ دوسری طرف عمران خان کی صفیں بھی مشہورعلماء مبلغین اور مشائخ سے خالی نہیں۔لہٰذا یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ پاکستان میں مذہبی کارڈ اُس وقت تک استعمال ہوتا رہیگا جب تک وطن عزیز صحیح معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست میں تبدیل نہ ہو جائے ۔اُس وقت تک مذہب، قومیت جمہوریت اور جدیدیت کے کارڈز استعمال ہوتے رہیں گے سیاست دان اپنے مفادات کے لئے اور سیاست کی بازی جیتنے کے لئے سب کچھ کریں لیکن ہم عوام کا مختصر مطالبہ ہے کہ وطن عزیز کی سلامتی اور ترقی کو کسی صورت دائو پر نہ لگائیں۔

متعلقہ خبریں