Daily Mashriq

یورپی یونین نے ترکی پر اقتصادی پابندی لگانے کی دھمکی دے دی

یورپی یونین نے ترکی پر اقتصادی پابندی لگانے کی دھمکی دے دی

ورپی یونین نے شام میں ترک حملوں کے بعد انقرہ پر پابندی لگانے کی دھمکی دے دی۔

دوسری جانب ترکی کے صدر رجب طیب ادوغان نے خبردار کیا کہ اگر انقرہ سے تعاون نہیں کیا گیا تو وہ 36 لاکھ پناہ گزینوں کو یورپ میں داخل ہونے کے لیے ’دروازہ کھول‘ دیں گے۔

خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق برسلز میں یورپی یونین کی حکومتوں نے پہلے بھی ترک صدر کے اس بیان کی مخالفت کی تھی جس میں انہوں نے پناہ گزینوں کو یورپ میں داخل کرنے کا کہا تھا۔

یوپین کونسل کے صدر ڈونلڈ ڈسک نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ’پناہ گزینوں کو بطور ہتھیار اور بلیک میل کیے جانے کے عمل کو قبول نہیں کیا جائے گا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ترک صدر کی دھمکی کا کوئی جواز نہیں بنتا‘۔

اٹلی کے وزیراعظم جوزپیے کونٹے نے ترک صدر پر بلیک میل کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ عسکری آپریشن فوری طور پر ختم کردینا چاہیے۔

فرانس نے بھی ترکی پر اقتصادی پابندیاں کی تجویز پیش کی۔

اس ضمن میں سویڈن کی پارلیمنٹ نے اسلحہ کی فراہمی پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جاانب انقرہ پر مزید دباؤ ڈالنے کے لیے 14 تاریخ کو یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کا اجلاس منعقد ہورہا ہے۔ علاوہ ازیں یونان اور قبرص نے جنوبی قبرص میں گیس کے لیے ڈرلنگ کے تنازع پر انقرہ پر اقتصادی پابندی کا مطالبہ کیا۔

ایک حکام نے بتایا کہ یورپی یونین ترکی میں شام کے پناہ گزینوں پر 6 ارب 63 کروڑ ڈالر کی امداد فراہم کررہا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ترکی کے وزیر دفاع حلوصی آکار نے دعویٰ کیا تھا کہ شام میں آپریشن کے آغاز سے اب تک 342 کرد دہشت گردوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔

شامی کرد جنگجوؤں کو ترکی دہشت گرد قرار دیتا ہے۔

دوسری جانب شامی مبصر کا کہنا تھا کہ 4 روز سے جاری ترک حملے میں اب تک صرف 8 جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ ترکی کا کئی برسوں سے یہ موقف ہے کہ شام میں موجود کرد جنگجو 'دہشت گرد' ہمارے ملک میں انتہا پسند کارروائیوں میں ملوث ہیں اور انہیں کسی قسم کا خطرہ بننے سے روکنا ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے فوج کو کرد جنگجوؤں کے خلاف آپریشن کی اجازت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد ترکی کی جنوبی سرحد میں ‘دہشت گردوں کی راہداری’ کو ختم کرنا ہے۔

شام میں فوجی کارروائی کے تازہ سلسلے پر متعدد ممالک کی جانب سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ اس سے خطے کے بحران میں اضافہ ہوگا، تاہم ترکی کا کہنا تھا کہ کارروائی کا مقصد خطے کو محفوظ بنانا ہے تاکہ لاکھوں مہاجرین کو شام واپس بھیجا جاسکے۔

متعلقہ خبریں