Daily Mashriq


ملکی مفاد کو مقدم رکھا جائے

ملکی مفاد کو مقدم رکھا جائے

اور چین کا پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے فنانشل ٹائمز میں شائع کردہ رپورٹ کو بے بنیاد قرار دینے اور سی پیک کے منصوبوں کو جاری رکھنے پر اتفاق دونوں ملکوں کے درمیان منصوبے کے حوالے سے کسی بڑے اختلاف کے نہ ہونے کا واضح ثبوت ہے، تاہم صورتحال سے اس امر کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس منصوبے پر درون خانہ تحفظات موجود ہیں جن کو موجودہ حکومت دور کرنے کی خواہاں ہے۔ اس منصوبے کے حوالے سے ملک میں ایک طبقہ جن تحفظات کا ٹھوس بنیادوں پر دلیل کیساتھ اظہار کرتا آیا ہے ان کو کسی فورم پر قائل کرنے اور ان کے تحفظات کو دور کرنے پر بھی توجہ نہ دی گئی بلکہ سی پیک کی اہمیت کے ہی چرچے کئے گئے۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق عبدالرازق داؤد نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ گزشتہ حکومت نے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے حوالے سے چین سے مذاکرات کرتے ہوئے اپنا کام صحیح طریقے سے انجام نہیں دیا تھا، نہ ہی کوئی تحقیق کی اور نہ مذاکرات صحیح طرح سے انجام پائے تھے جس کی وجہ سے بہت کچھ ہاتھ سے نکل گیا۔ انہوں نے کہا کہ نئی حکومت ون بیلٹ، ون روڈ منصوبے میں کی جانے والی سرمایہ کا جائزہ لے گی اور ایک دہائی قبل دستخط کئے گئے معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات کرتے ہوئے نئے تجارتی معاہدے کرے گی کیونکہ سابقہ معاہدوں میں چینی کمپنیوں کو غیرمنصفانہ حد تک فائدہ پہنچا۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے سی پیک کا تفصیلی جائزہ لینے کیلئے9ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس کا پہلا اجلاس جلد منعقد ہوگا۔ جس میں تمام ماہرین سر جوڑ کر بیٹھیں گے اور فوائد ونقصانات کا اندازہ لگائیں گے۔ عبدالرزاق داؤد نے کہا تھا کہ میرے خیال میں تمام چیزوں کو ایک سال تک روک دینا چاہئے تاکہ چیزوں کا بغور جائزہ لیا جا سکے اور ہم اس منصوبے کو پانچ سال تک بھی پھیلا سکتے ہیں۔ تاہم پاکستان میں موجود چین کے سفارتخانے نے فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کا نوٹس لیتے ہوئے اسے یکسر مسترد کر دیا۔ چینی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سی پیک پر پاکستان اور چین کے درمیان مکمل اتفاق ہے کہ یہ باہمی فوائد کا حامل منصوبہ ہے اور پاکستان کی ضرورت اور ترقی کے مطابق دونوں ملک اس کو آگے لے کر چلیں گے۔ بیان میں کہا گیا کہ غلط معلومات کی حامل اس طرح کی بدنیتی پر مبنی رپورٹس، اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ رپورٹر کو پاکستان، چین کے روایتی تعلقات اور سی پیک کا بالکل بھی علم نہیں جبکہ اس رپورٹ میں انہیں نظرانداز کیا گیا ہے۔ دوسری جانب دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اور چین نے سی پیک کے جاری منصوبوں اور تعاون کے نئے شعبوں میں مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔ یہ اتفاق رائے چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کے3روزہ دورہ پاکستان کے دوران ملک کی اہم قیادت سے ہونے والی ملاقاتوں میں طے پایا۔ گوکہ میڈیا کو ہی اکثر مطعون کیا جاتا ہے اور بالآخر معاملات کی واضح یا غیر واضح تردید کر کے معاملہ دبا دیا جاتا ہے۔ میڈیا سے وابستہ لوگوں کو بخوبی علم ہوتا ہے کہ کوئی بھی اخبار کسی شخصیت کے خیالات سے متعلق بے پرکی نہیںاُڑاتا اور نہ ہی اپنی ساکھ کو کوئی ادارہ داؤ پر لگاتا ہے۔ سمجھنے میں غلط فہمی یا پھر زیادہ سے زیادہ رنگ آمیزی مبالغہ آرائی کی گنجائش تو ہوتی ہے مگر سراسر جھوٹ گھڑنے کی پیشہ وارانہ صحافت میں کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ بہرحال اس سے قطع نظر ایک معتبر اخبار میں کابینہ کے رکن سے منسوب بیان کو ایک طرف رکھتے ہوئے اگر جائزہ لیا جائے تو گزشتہ حکومت میں پاک چین اقتصادی راہداری میں کمزوریوں، سقم اور کسی منفعت ودباؤ یا پھر کسی مصلحت کے تحت ملکی مفاد کو نہ سمجھنا یا اس سلسلے میں کوتاہی برتنے کی گنجائش کو یکسر مسترد کرنے کی گنجائش نہیں۔ پاکستان اور چین ایسے دو اہم دوست ممالک ہیں جن کا عوام سے عوام اور حکومت کا حکومت سے گہرا رشتہ اور تعلق کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ اس لئے اس قسم کے معاملات درون خانہ ہی حل ہونے چاہئیں۔ وفاقی وزیر سے منسوب انٹرویو کی حقیقت کیا ہے اس سے قطع نظر سی پیک دونوں ممالک کے درمیان صرف معاشی واقتصادی ترقی کا منصوبہ نہیں بلکہ اس کے تزویراتی پہلو بھی ہیں۔ بنابریں یہ ہر لحاظ سے اہم اور حساس ہے یہ منصوبہ صرف پاکستان ہی کی ضرورت نہیں بلکہ چین کیلئے بھی برابر اہمیت کا حامل منصوبہ ہے جس پر عملدرآمد سے چینی معیشت کی بڑھوتری اور چین دنیا میں معاشی ومعیشتی برتری کا حامل نمایاں ملک بن سکے گا۔ کسی بھی منصوبے میں ایک فریق کا دوسرے فریق کے مقابلے میں زیادہ بہتر مراعات کا حصول ہر سودے اور معاہدے کا اہم حصہ ہوتا ہے۔ اگر ہماری اُس وقت کی حکومت نے اُس وقت اس امر کا ادراک کرنے میں غلطی کا ارتکاب کیا تھا تو موجودہ حکومت کو پاکستان کے عوام کے مفاد میں اس بارے بات چیت کا پورا پورا حق حاصل ہے لیکن یہ معاملہ اصولوں پر مبنی ہونا چاہئے تھا کہ عظیم دوست وہمسایہ ملک کو گراں نہ گزرے۔

متعلقہ خبریں