Daily Mashriq


تحفظ اطفال کے قانون کی منظوری میں تین سال تاخیرکیوں؟

تحفظ اطفال کے قانون کی منظوری میں تین سال تاخیرکیوں؟

ہمارے نمائندے کی خصوصی رپورٹ کے مطابقخیبر پختونخوا میں بچوں کے تحفظ کے قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث لاکھوں بچے جبری مشقت کرنے اور بھیک مانگنے پر مجبور ہیں۔ 3سال قبل صوبائی حکومت نے کمسن بچوں کی جبری مشقت پر پابندی کے قانون کی منظوری دی تھی۔ قانون کے مطابق کمسن بچوںکو تحفظ فراہم کرنے اور ان سے جبری مشقت لینے والوں کیخلاف کارروائی کیلئے صوبائی سطح پر 8رکنی رابطہ کمیٹی اور اضلاع کی سطح پر کمیٹیوں کا قیام عمل میں لانا تھا تاہم قانون کی منظوری کے تین سال بعد بھی کمیٹیوں کا قیام عمل میں نہیں لایا جاسکا۔بچوں کے بھیک مانگنے اور بچیوں سے مشقت لینے کا کیا عالم ہے اس سے ہر بینا شخص بخوبی واقف ہے اس حوالے سے زبانی کلامی ہر حکومت اور دور میں اقدامات کے دعوے اور کوششیں ہوتی رہی ہیں لیکن عملی طور پر اس لعنت کی روک تھام میں ذرا بھی پیشرفت نہیں ہوتی جس کی کئی وجوہات اپنی جگہ لیکن جہاں اس ضمن میں قانون سازی اور لائحہ عمل کی تیاری تین سال گزرنے کے بعد بھی نہ ہوسکی ہو وہاں اس بارے حکمرانوں کی سنجید گی اور متعلقین کی بے حسی کا اندازہ مشکل نہیں۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کو التواء کا شکار اس عمل کی تکمیل اور متعلقہ قوانین کے نفاذ کو یقینی بنانے پر ذاتی طور پر توجہ دینی چاہئے تاکہ معاشرے میں بچوں سے مشقت اور ان کے استحصال کا اگر مکمل طور پر خاتمہ نہ کیا جاسکے تو اس میں کمی ضرور لائی جاسکے۔ قوانین کا سختی سے نفاذ اور مانیٹرنگ کے مربوط عمل سے ہی بچوں کے حقوق کا تحفظ ممکن ہوگا۔

نفسیاتی وذہنی علاج بارے محکمہ صحت کا احسن منصوبہ

خیبر پختونخوا میں من حیث المجموع اور ضلع چترال میں بالخصوص ذہنی امراض اور خودکشیوں کے بڑھتے رجحان کے پیش نظر ذہنی اور نفسیاتی امراض کے علاج کی منصوبہ بندی پر توجہ احسن اقدام ہے۔ ہمارے معاشرے میں نفسیاتی کیفیت اور ذہنی امراض میں فرق نہیں کیا جاتا بلکہ دونوں ہی کو معاشرے میں ایک ہی قابل اعتراض نام سے پکارا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنی کیفیت کو اس وقت تک معاشرے، اہل خاندان یہاں تک کہ گھر والوں سے چھپائے رکھتے ہیں جب تک وہ خود پوری شدت سے ظاہر نہ ہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سب سے پہلے اس کو سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت ہے۔ محکمہ صحت خیبر پختونخوا کی جانب سے مختلف اضلاع میں اس قسم کی کیفیت اور بیماری میں مبتلا افراد کیلئے علاج بالترغیب وبالفاظ اور علاج بالدوا دونوں قسم کی سہولتوں کی فراہمی کیلئے عملی اقدامات کی طرف پیشرفت کے طور پر ہسپتالوں میں ماہرین نفسیات، ماہرین ذہنی امراض کی تقرری صورتحال پر قابوں پانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس ضمن میں جو ضروری کارروائی ہو اس میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے اور جلد سے جلد عملی طور پر ہسپتال میں ماہرین نفسیات اور ماہرین امراض دماغی مریضوں کو علاج کی سہولت فراہم کرتے نظر آنے چاہئیں۔ ان ماہرین کی تعیناتی کے بعد ہی اضلاع میں اس قسم کی بیماری میں مبتلا افراد کی صحیح تعداد کا درست اندازہ لگایا جا سکے گا جبکہ وجوہات امراض کے بارے میں بھی مستند معلومات کا حصول ممکن ہوگا جس کے بعد مزید اقدامات کی ضرورت محسوس کی جائے تو اس حوالے سے بھی پیشرفت ممکن ہوگا۔

آن لائن داخلوں میں مشکلات

خیبر پختونخوا میں کالجوں میں آن لائن داخلہ سے جہاں شفافیت اور آسانی یقینی ہوگئی ہے وہاں بعض وجوہات کی بناء پر لوگوں کو اس سے شکایت بھی ہے۔ آن لائن داخلوں کیلئے ہر کسی کے پاس ضروری سہولت کی دستیابی اپنی جگہ ایک مسئلہ ہے بعض کو بار بار کوششوں کے باوجود رجسٹریشن کرانے اور مکمل شدہ فارم کا ایڈمشن آفس کو بھیجنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان حلقوں کی تجویز ہے کہ آن لائن فارم جمع کرنے کی مشکلات کے پیش نظر کالجوں میں بھی اس امر کی سہولت مہیا کی جائے کہ طلبہ وہیں جا کر داخلہ فارم پُر کرواسکیں۔ اگر یہ ممکن نہیں تو اس نظام کو سہل اور آسان بنایا جائے کہ طالب علم اور ان کے والدین داخلہ فارم پر کرکے مکمل شدہ فارم کالج یا براہ راست ایڈمشن آفس کو دستاویزات سمیت بآسانیبھیج سکیں۔

متعلقہ خبریں