Daily Mashriq


سی پیک، پاکستان کے عوام کی قومی ترجیح

سی پیک، پاکستان کے عوام کی قومی ترجیح

پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا منصوبہ جو کئی منصوبوں پر مشتمل ہے ‘ ایک غیر معمولی منصوبہ ہے۔ ہر پاکستانی جانتا ہے کہ یہ منصوبہ پاکستان کے پروقار اور خوشحال مستقبل کی ضمانت ہے۔ اس لیے پاکستان میں یہ منصوبہ پاکستان اور چین کی تاریخ کے مختلف مرحلوں میں امتحانات پر پوری اترنے والی ہمالہ سے بلند اور سمندر سے گہری دوستی اور دونوں قوموں کے باہمی احترام کا مظہر ہے۔ یہ منصوبہ اب پاکستان کے عوام کی قومی ترجیح بن چکا ہے۔ اس منصوبے پر اعتراض ہے تو بھارت کو جس کے وزیر یہ اعلان کرتے رہے ہیں کہ پاک چین راہداری منصوبہ کسی قیمت پر کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا یا اعتراض امریکہ کو ہے جس نے پاکستان کی طرف سے اپنے معاشی بحرانوں سے نکلنے کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے سے پہلے ہی آئی ایم ایف کو تنبیہ کر دی ہے کہ پاکستان کو امریکی ڈالر نہ دیے جائیں جو چین کے قرضے اتارنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ یہ بیان اس وقت آیا ہے جب پاکستان نے آئی ایم ایف سے رجوع بھی نہیںکیا تھا اور اس کے باوجود آیا کہ پاکستان کی طرف سے یہ وضاحت کر دی گئی تھی کہ پاکستان کے ذمے چین کے قرضے فوری طور پر واجب الادا نہیں ہیں ۔ لیکن امریکہ کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان کو اقتصادی مشکلات میں مبتلا رکھتے ہوئے اسے امریکی ’’ڈو مور‘‘ کا مطالبہ تسلیم کرنے پر مجبور کیا جائے۔ چینی قرضوں کی ادائیگی محض ایک جھوٹا بہانہ تھا ۔ جب سے سی پیک کا آغاز ہوا ہے اس پر پاکستان میں بھی بحث ہوتی رہی ہے۔ تاہم کوئی بھی اس منصوبے کی افادیت سے انکار نہیںکر رہا۔ البتہ یہ سوال ضرور اٹھائے جا رہے ہیں کہ سی پیک کے کون سے منصوبوں کو ترجیح حاصل ہونی چاہیے اور اس کے تحت بنائے جانے والے اقتصادی زون کہاں کہاں تعمیر ہوں۔ اس پر اندرون ملک مذاکرات بھی ہوتے رہے ہیں اور اس کے ساتھ ملک کے علاقائی یونٹوں کی سی پیک کی گزرگاہ کے بارے میں ترجیحات کا بھی جائزہ لیا جاتا رہا ہے۔ پاکستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد چند دن کے اندر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو پاکستان آئے۔ اس دوران پاکستان کی طرف سے یہ واضح اعلان کیا گیا کہ پاکستان کسی اور کی جنگ نہیںلڑے گا۔ امریکی وزیر خارجہ کے دورے کے بعد کہا گیا کہ دونوں ملک باہمی تعلقات کو از سرِ نو استوا کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔ ایک دوسرے کے تحفظات اور توقعات کا نئے سرے سے جائزہ لیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہونا چاہیے کہ امریکہ پاکستا ن سے وہ توقعات اب ختم کر دے گا جن کا ذکر وہ افغانستان میں اپنی خارجہ پالیسی کو آگے بڑھانے کے لیے کرتا رہتا ہے۔ مثلاً افغانستان یا طالبان کے حوالے سے ڈور مور کا مطالبہ ۔ یا پھر خطے میں بھارت کی بالادستی تسلیم کرنے کا مطالبہ جسے امریکہ بحر الکاہل میں اپنی اتحادی قوت کے طور پر بڑھاوا دینے کی طرف گامزن ہے تاکہ وہ بحرالکاہل میں چین کے تجارتی جہازوں پر نظر رکھ سکے۔ اسی تناظر میں امریکہ کو گوادر کی بندرگاہ میں چینی جہازوں کی آمدورفت کھٹکتی ہے۔پاکستان میں نئی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد سابقہ حکومت کی پالیسیوں پر مختلف سوال اٹھا ئے جانا ایک فطری عمل ہے۔ اس موسم میں فنانشل ٹائمز نے خبر دی ہے کہ ’’پاکستان کی حکومت سی پیک کے معاہدوں پر دوبارہ غور کر رہی ہے ۔ اور یہ کہ نئی شرائط طے کرنے پر چین نے آمادگی ظاہر کر دی ہے۔‘‘ فنانشل ٹائمز کی سٹوری نئی حکومت کے مشیر ٹیکسٹائل و تجارت عبدالرزاق داؤد کے ایک انٹرویو پر بنیاد ہے جس میں فنانشل ٹائمز کے مطابق انہوں نے کہا کہ سی پیک معاہدوں میںپاکستان کو جو کچھ حاصل ہوا ہے چین کو اس سے زیادہ حاصل ہوا ہے۔‘‘ عبدالرزاق داؤد نے فوری طور پر وضاحت بھی جاری کر دی ہے۔ تاہم عبدالرزاق داؤد کے بیان اور وضاحت کے حوالے سے یہ کہنا کہاں تک جواز رکھتا ہے کہ پاکستان سی پیک کے معاہدوں پر دوبارہ غور کرے گا اور نئی شرائط طے کرے گا؟ یہ فنانشل ٹائمز کی صحافیہ صلاحیت پر سوال ہے ۔ تاہم سوال یہ ہے کہ عبدالرزاق داؤد کو یہ انٹرویو دینے اور ایسے بیانات دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی جن کو سیاق و سباق سے الگ کر کے ان کے کوئی اور معنی نکالے جا سکتے ہیں۔سی پیک معاہدہ ایک نہایت وسیع موضوع ہے اس کے بین الاقوامی مضمرات ہیں۔ پاکستان کے دشمنوں کی نظر میں یہ معاہدہ بری طرح کھٹکتا ہے ۔ بھارت اس پر بطور خاص سیخ پا ہے ۔ امریکہ کے وزیر خارجہ کے بیان کا ذکر کیا جا چکا ہے۔ عبدالرزاق داؤد کو وفاقی مشیر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ابھی چند ہی دن ہوئے ہیں‘ ممکن ہے ذاتی طور پر ان کی اس معاہدے میں کوئی رائے رہی ہو لیکن پاکستان کی وفاقی حکومت کے مشیر کی حیثیت سے وہ پاکستان کی حکومت کے نمائندہ ہیں۔ کیا وفاقی کابینہ میں اس معاہدے پر کوئی غور و خوض ہوا اور وہاں یہ رائے قائم ہوئی جس کا اظہار انہوں نے فنانشل ٹائمز کے ساتھ انٹرویو میں کیا۔ عبدالرزاق داؤد نے اس انٹرویو کے بارے میں جو وضاحت پیش کی ہے اس میں سب سے پہلے اس سوال کا جواب ہونا چاہیے۔ انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ وفاقی حکومت کے نمائندے کی حیثیت سے ان کے بیانات کے اثرات عوام اور رائے عامہ پر ہوتے ہیں۔ فنانشل ٹائمز کی سٹوری پر پاکستان کے ترجمان نے بھی کہہ دیا ہے کہ سی پیک منصوبہ رول بیک نہیں ہو رہا۔ بلکہ ان منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔ چین کی وزارت خارجہ نے بھی وضاحت کر دی ہے اور چینی سفارت خانے نے بھی وضاحت جاری کر دی ہے جن کے دہرانے کی ضرورت نہیں کہ یہ اخبارات میں شائع ہو چکی ہے۔ پاکستان کی طرف سے یقین دہانی کی گئی ہے کہ سی پیک کا منصوبہ ہماری قومی ترجیح ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ ان یقین دہانیوں کے بعد جو مشاورت ہو گی اس کے نتیجے میں سی پیک منصوبوں کو پاکستان اور چین کے مفادات کے مطابق تیز رفتاری سے آگے سے بڑھایا جائیگا۔

متعلقہ خبریں