Daily Mashriq


ڈیموں کی تعمیر، خواب اور حقیقت کے درمیان

ڈیموں کی تعمیر، خواب اور حقیقت کے درمیان

وزیراعظم نے خبردار کیا ہے کہ اگر ہم نے ڈیم بنانے میں مزید غفلت برتی تو 2025ء میں آبپاشی کیلئے بھی پانی دستیاب نہیں ہوگا اور ملک میں خدانخواستہ قحط پڑ جائے گا۔ وزیراعظم کی کال پر بحریہ ٹاؤن کے ملک ریاض نے پانچ کروڑ روپے عطیہ دینے جبکہ ایک الیکٹرانک میڈیا کے چیف ایگزیکٹو سلمان اقبال نے ایک لاکھ ڈالر (لگ بھگ ایک کروڑ 24لاکھ روپے) عطیہ کرنے کے اعلانات کر دیئے ہیں۔ اب آنے والے دنوں میں پتہ چلے گا کہ سمندرپار پاکستانی کس حد تک وزیراعظم کی اپیل پر عمل کرتے ہیں، اگرچہ اس اعلان سے پہلے اور نئی حکومت کے قیام کیساتھ ہی بعض سمندرپار پاکستانی اپنے ملک کی ہر ممکن امداد، یہاں سرمایہ کاری کرنے اور ماہرانہ خدمات پیش کرنے کے اعلانات کرتے رہے ہیں، سو اب دیکھتے ہیں کہ جو حوصلہ افزاء قسم کے اعلانات کئے جاتے رہے ہیں ان میں سے ڈیم کی تعمیر کیلئے کتنے لوگ آگے آتے ہیں اور چونکہ حکومت نے گزشتہ روز بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جو تعداد بتائی تھی اگر وہ سب اس اپیل پر عمل کر کے عطیات جمع کراتے ہیں تو یقیناً ایک انتہائی معقول رقم اور وہ بھی زرمبادلہ کی شکل میں پاکستان کو مل جائے گی۔ اس صورتحال پر جہاں بعض سیاسی زعماء اعتراضات اٹھا رہے ہیں وہیں سوشل میڈیا پر بھی منفی قسم کے تبصرے پوسٹ کئے جا رہے ہیں۔ اگرچہ ان تبصروں میں بہت حد تک جان بھی ہے کیونکہ بقول احسن اقبال 1400ارب کا بھاشا ڈیم صرف چندوں سے تعمیر نہیں کیا جاسکتا۔ دو ماہ میں صرف دو ارب جمع ہوسکے ہیں۔ گویا باقی کے 1398ارب جمع کرنا اردو روزمرہ کے مطابق خالہ جی کا گھر نہیں ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے ویڈیو پیغام پر ردعمل دیتے ہوئے لیگ ن کے مشاہد اللہ خان نے کہا کہ اس طرح سے مسائل حل نہیں ہوتے، پوری دنیا میں موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ ہے، یہ کوئی طریقہ نہیں ہے کہ مانگ مانگ کر گزارہ کیا جائے اور خود کچھ نہ کریں۔ حکومت کو پیسہ مانگنے کے بجائے برآمدات اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرنا چاہئے، عوام سے پیسہ مانگنے سے کچھ نہیں ہوگا، ڈیم بنانے کیلئے بہت زیادہ رقم کی ضرورت ہے، اس ملک کو بھکاری نہ بنایا جائے، پاکستان کے عوام کو ہر دور کے حکمرانوں نے ہمیشہ ہی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر اپنا الو سیدھا کیا ہے اب بھی ایسا ہی دکھائی دے رہا ہے، تاہم ذرا ماضی میں جھانک کر دیکھا جائے تو ہمیں وہ حالات بھی یاد آجاتے ہیں جب میاں نواز شریف نے بھی عوام سے چندے کی اپیل کی تھی، یہ اس وقت کی بات ہے جب پاکستان نے بھاری ایٹمی دھماکوں کا جواب دینے کیلئے خود بھی ایٹمی دھماکے کئے اور امریکہ نے دونوں ملکوں پر اقتصادی پابندیاں عاید کر کے امداد بند کردی تھی تب پاکستان انتہائی مشکلات سے دوچار تھا، اس موقع پر میاں نواز شریف نے قرض اُتارو، ملک سنوارو کا نعرہ لگا کر نہ صرف عوام سے چندہ مانگا بلکہ سمندر پار پاکستانیوں سے درخواست کی کہ وہ غیر ملکی زرمبادلہ میں اکاؤنٹ کھول کر ملک کو بیرونی کرنسی میں قرضہ دیں جسے ایک خاص مدت کے بعد واپس کر دیا جائے گا، اس کے بعد ان رقومات کا کیا بنا؟ اس سے قطع نظر کہ یہ ہمارے ماضی کا ایک تاریک اور رلا دینے والا باب ہے، صرف یہ پوچھنا لازم ہے کہ کیا اس وقت چندہ اور قرض مانگنا جائز تھا اور اس سے پاکستان کے دلدر دور ہو رہے تھے مگر آج چندہ مانگنا ناجائز کے زمرے میںآتا ہے؟ وزیراعظم عمران خان نے بھی میاں نواز شریف کی طرح چندے کی حفاظت اور اس کا مصرف صرف ڈیم پر اٹھنے والے اخراجات کی مد میں خرچ کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے، تاہم بات وہی ہے کہ دودھ کا جلا چھاچھ کو بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے اس لئے اگر ماضی کے قرض اتار کر ملک کو سنوارنے کے نتائج کو سامنے رکھ کر لوگوں نے سوچنا شروع کیا تو کیا ہوگا حالانکہ جو سامنے دکھ رہا ہے وہ حوصلہ افزاء صورتحال کی نشاندہی کر رہا ہے مگر پھر بھی کہنے میں کیا حرج ہے اور بقول صادق حسین کاظمی یہی کہا جا سکتا ہے کہ

تندئی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اُڑانے کیلئے

ہمیں خدانخواستہ کسی سے کوئی اختلاف ہے، نہ ہم بلاوجہ اعتراضات اُٹھاتے ہیں اور نہ کسی پر شک کرنے کا حق ہے نہ ضرورت، تاہم سیاسی مخالفین اور سوشل میڈیا کے تبصرہ نگاروں کی باتیں اس قدر بھی بے بنیاد نہیں ہیں اور واقعی یہ بات کس قدر بے وزن ہو سکتی ہے کہ 1400ارب روپے کا ڈیم صرف دو ارب میں تعمیر نہیں ہوسکتا، اس کیلئے اگر صرف چندوں پر ہی اکتفا کرنا ہے تو نہ جانے کتنے برس انتظار کے کٹھن مراحل سے گزرنا پڑے گا، حکومت یہ بتائے کہ وہ خود ڈیمز کیلئے سرمایہ کہاں سے اور کیسے مہیا کرے گی؟ کیونکہ اتنی بڑی رقم صرف عوام کے چندوں سے پوری نہیں کی جاسکتی۔ یہ درست ہے کہ اس طرح جو غیر ملکی زرمبادلہ ملے گا اس سے پاکستان کے قرضے اتارنے میں تھوڑی بہت مدد ضرور مل جائے گی اور وہ بھی آٹے میں نمک کے برابر، مگر ڈیم کی تعمیر کا خواب ادھورا رہے گا۔ اس لئے عوام کو ایک بار پھر ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے سے بہتر ہوگا کہ ڈیم کیلئے سرمایہ فراہم کرنے کی درست حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے برآمدات بڑھانے پر توجہ دی جائے۔ بصورت دیگر ڈیم کی تعمیر خواب کے سوا کچھ نہیں۔

کیا پوچھتے ہو حال مرے کاروبار کا

آئینے بیچتا ہوں میں اندھوں کے شہر میں

متعلقہ خبریں