Daily Mashriq


یونیورسٹی کی تعلیم اور سکولوں میں آب نوشی کا مسئلہ

یونیورسٹی کی تعلیم اور سکولوں میں آب نوشی کا مسئلہ

گزشتہ کالم میں اسلام آباد سے معروف سرجن نے تجاوزات کے حوالے سے جو نشاندہی کی تھی وہاں سی ڈی اے کی کارروائی خوشگوار حیرت کا باعث بنی۔ اسی کالم میں ایک اور خوشگوار بات یہ ہے کہ بحریہ ٹاؤن اسلام آباد سے ایک خاتون مسز نواز کا خط موصول ہوا ہے جس میں انہوں نے بڑے اچھے پیرایہ میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ مسز نواز لکھتی ہیں کہ وہ بھی کیا دور تھا جب عراق، لبنان، ایران، ساؤتھ افریقہ، اُردن، فلسطین اور دیگر ممالک سے طالب علم میڈیکل اور انجینئرنگ سمیت مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے پشاور یونیورسٹی میں داخلہ لیتے تھے جن حضرات کو 1970-71یا اس سے کچھ عرصے پہلے کا وقت یاد ہو تو ان کو خوب یاد ہوگا کہ پورے خیبر پختونخوا میں صرف یہی یونیورسٹی تھی جس میں ملکی اور غیر ملکی طالب علم پڑھتے تھے۔ یونیورسٹی کیا تھی ایک پُرفضا مقام تھا۔ بڑے بڑے میدان اور باغات ہوتے تھے۔ لیڈیز بس اور ڈبل ڈیکر بس بھی ہوتے تھے۔ اسی یونیورسٹی سے ڈاکٹروں کی ایک پوری ٹیم نکلتی۔ ملک سے باہر تعلیم حاصل کرنے کا خواب کسی کسی کا پورا ہوتا وہ بھی اکثر سکالرشپ پر جاتے اور واپس اپنے ملک آتے تو اپنی پریکٹس کیساتھ اپنی قوم کو ایک مثبت سوچ بھی دیتے۔ یہی ایم۔بی۔بی۔ایس ہی معالج تھے۔ سپیشلسٹ کی تو ضرورت ہی نہ پڑتی بلکہ بڑی بیماریاں تھیں ہی نہیں۔ اب جانے کیا ہوا کہ باہر تعلیم حاصل کرنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر سب کے سبM.R.C.P اور F.R.C.S ہوگئے، سب سپیشلسٹ ہوگئے۔ ہسپتالوں کی بھرمار ہوگئی۔ ایک گلی میں دس دس سکول کھل گئے۔ ڈیپارٹمنٹس کی بھرمار ہوگئی۔ سینکڑوں کے حساب سے آفسر بن گئے، اونچے اونچے مختلف ناموں پر پلازے بن گئے۔ باغات، کھیت، کھیلنے کے میدان ختم ہوئے۔ سڑکوں، فٹ پاتھوں پر قدم رکھنے کی جگہ نہیں۔ رشتہ دار دور اور مرض لاعلاج ہوگئے جس کے علاج کیلئے باہر جانا پڑتا ہے۔ بچے باغی ہوگئے، بچیاں بے باک ہوگئیں، طلاقیں بڑھ گئیں، حکومت کہتی ہے کہ عوام تعاون نہیں کرتی عوام کہتی ہے حکومت کرپٹ ہے۔ ہمارے ہسپتال اس قابل کیوں نہیں کہ کسی مریض کو باہر نہ جانا پڑے۔ وہ مشینیں، ادویات، ڈاکٹر اور اُستاد ہمارے ملک میں کیوں نہیں؟ کیا ہم غریب ہیں؟ اگر ہاں تو پھر دس دس گاڑیاں، قیمتی لباس، شادی بیاہ پہ خرچے، قیمتی گھڑیاں، فیشن شوز پالرز اور غیر ملکی ہوٹل یہ سب کچھ کیا ہے؟ کیا واقعی ہمیں اپنے ملک سے پیار ہے؟ اسی ملک کا پاسپورٹ ہماری پہچان ہے، اس ملک کی کرنسی ہی دوسرے ملک کی کرنسی میں بدل سکتی ہے۔ آخر ہر ترقیاتی کام یا قانون ہمارے ہی ملک میں کیوں ناکام ہوتا ہے؟ حکومت وقت اور عوام مل کرقرض کا یہ کشکول توڑ سکتے ہیں۔کرنے کیلئے آسکتے ہیں۔ ہمارے ہاں کیا نہیں ہے۔ ہر بندہ ڈاکٹر بننے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ آنیوالی ساری نسل بیمار ہی ہوگی۔بیماری کا علاج ضروری ہوتا ہے خواہ وہ جس قسم کی بھی ہو، مسائل پر توجہ بھی وقت کی ضرورت ہے لگے ہاتھوں تذکرہ کرتے ہیں ایک ایسے مسئلے کا جس طرف توجہ شمالی وزیرستان کے شفاف جان داوڑ نے دلائی ہے۔ برقی پیغام غیر واضح لکھا گیا ہے لیکن ان کا سمجھنا مشکل نہیں۔ داوڑ صاحب کو بجا طور پر شکایت ہے کہ قبائلی اضلاع میں تعلیم کا نظام اور معیار دونوں ناقص ہیں۔ میڈیکل اور انجینئرنگ جیسے اہم شعبوں کیلئے پورے قبائلی اضلاع میں کوئی میڈیکل، انجینئرنگ کالج اور یونیورسٹی موجود نہیں۔ فاٹا یونیورسٹی کا قیام ضرور عمل میں لایا گیا ہے مگر یہ پورے قبائلی اضلاع کیلئے کافی نہیں بلکہ ایک طرح سے یہ بھی پشاور ہی کے مضافات میں قائم ہے۔ شفاف جان داوڑ کو اس بات پر بھی تسلی نہیں کہ سابقہ فاٹا بلکہ زیر تحلیل فاٹا کے نوجوانوں کو ملکی تعلیمی اداروں میں کوٹے پر داخلہ دیا جاتا ہے بہرحال فاٹا کے انضمام کے بعد یہ مسئلہ ہی قابل بحث نہیں چونکہ کے پی میں تقریباً ہر ضلع میں یونیورسٹی بن چکی ہے اسلئے قبائلی اضلاع میں بھی یونیورسٹی کا مطالبہ قبائیلی بھائیوں کا بنیادی حق ہے۔ فوری طور پر میڈیکل کالج اور انجینئرنگ یونیورسٹی کے کیمپسز بھی موزوں مقامات پر بننے چاہئیں۔ باجوڑ اور مہمند، شمالی اور جنوبی وزیرستان، اورکزئی اور خیبر ایجسنی کے اضلاع کیلئے مشترکہ طور پر ایک ایک یونیورسٹی اور میڈیکل کالج جبکہ انجینئرنگ یونیورسٹی کے کیمپسز کھلنے چاہئیں۔چاہئے تو یہ تھا کہ شجرکاری کے حوالے سے اس برقی پیغام کو کالم کے ابتداء میں شامل کیا جاتا، بہرحال اس کا تعلق شجرکاری کے بعد کے مرحلے سے ہے۔ لکی مروت سے کلیم مروت اس امر کی جانب توجہ دلاتے ہیں کہ سکولوں میں اور دیگر مقامات پر صرف پودے لگانا شجرکاری نہیں بلکہ ان پودوں کی آبیاری اور نگہداشت کا عمل بھی پوری طرح اہمیت کا حامل ہے۔ پودے تو لگا دیئے گئے، ان پودوں کیلئے پانی کا انتظام کیسے ہوگا چونکہ لکی مروت اور کرک جیسے علاقوں میں پینے کے پانی کا مسئلہ ہی سنگین ہے۔ اس تناظر میں ان کا سوال اور بھی قابل توجہ اور اہمیت کا حامل ہے۔ پودوں کو بچوں کی طرح توجہ اور نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ متعلقہ حکام کو اس پر پوری طرح توجہ دینی چاہئے۔توجہ دلاتے ہیں بنوں کے طالب علم احمد عالم کے اس مسئلے کی طرف کہ اس کو اور اس کے ساتھی طالب علموں کو میڈیکل ایٹا ٹیسٹ کیلئے دو گھنٹے کی مسافت طے کر کے ڈیرہ اسماعیل خان جانا پڑتا ہے۔ سفر کی وجہ سے تھکاوٹ اور اکتاہٹ کے باعث پوری طرح ذہنی بیداری کی حالت میں ٹیسٹ دینا ممکن نہیں، اس مسئلے سے پوری طرح اتفاق نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ اس طرح طالب علموں کے سفر کا خرچ بھی کافی ہوگا اس لئے بنوں ہی میں ایٹا ٹیسٹ کے انعقاد کے مطالبے پر ہمدردانہ غور ہونا چاہئے۔

موبائل ری سیٹ کرنے کے باعث بہت سارے مسائل پر مبنی برقی پیغامات ڈیلیٹ ہو چکے ہیں۔ معذرت کیساتھ دوبارہ بھجوانے کی درخواست ہے۔اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں