ہندوؤں کے پُراثر منتر

12 ستمبر 2018

جب پاکستان اور بھارت آزاد ہوئے تو دونوں ملکوں نے اپنی خارجہ پالیسیاں تشکیل دینے کیلئے اپنی ضروریات کے مطابق بیرونی دنیا سے تعلقات استوار کرنے کی منصوبہ بندی کی۔ پاکستان بوجوہ امریکی اور مغربی ممالک کا حصہ بنا۔ اُس زمانے میں جب دنیا امریکی اور روسی (سرمایہ دارانہ اور اشتراکی) بلاکوں میں تقسیم تھی۔ پاکستان اپنے قیام کے ابتدائی عشروں ہی میں اپنی مجبوریوں اور معاشی اور دفاعی ضروریات کے سبب مغربی بلاک یا سرمایہ دارانہ بلاک کا حصہ اسلئے بنا کہ اشتراکی بلاک میں سوشلزم اور کمیونزم کے نعروں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ ٹیکنالوجی ابھی ترقی کی ابتدائی مراحل میں تھی اور اشتراکی انقلابات کے سبب مشرقی یورپ کو خود معاشی مدد کی ضرورت تھی۔ دنیا نئی نئی دوسری جنگ عظیم کے اثرات سے باہر نکل رہی تھی ایسے میں امریکہ سپرپاور کی حیثیت سے مغربی اور سرمایہ دارانہ بلاک کا سرخیل بن کر سامنے آیا۔

بھارت کے وزیراعظم پنڈت جواہرلال نہرو اپنے سیاسی گرد پنڈت چانکیہ کے فلسفہ کے تحت اپنے آپ کو سوشلست اور سیکولرسٹ ظاہر کرتے ہوئے ظاہراً مشرقی بلاک کیساتھ رہنے لگا اور درون خانہ اپنی ضروریات مغرب سے بھی پورے کرنے کیلئے اُن کیساتھ جڑا رہا۔ یہاں تک ایک وقت ایسا بھی کہ اسرائیل کیساتھ امیر عرب ریاستوں سے فوائد سمیٹنے کیلئے سفارتی تعلقات قائم نہیں کئے لیکن درپردہ اس سے ہر قسم کے تعلقات قائم کئے رکھے اور آج ایک دنیا کو معلوم ہے کہ بھارت اور اسرائیل کے کتنے قریبی تعلقات ہیں لیکن اس کے باوجود سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کیساتھ نریندر مودی کے دور میں جو تعلقات قائم ہوئے اُس کی نظیر نہیں ملتی۔پنڈت نہرو نے ہندی چینی بھائی بھائی کا نعرہ لگایا تھا لیکن چینی دانش نے اُن مکارانہ سیاست کے حربوں کو بہت جلد بھانپ لیا، البتہ امریکہ اور مغرب اس کے باوجود بھارت کے ہندو منتر کے اثرات سے نہ نکل سکے کہ بھارت 70ء کے عشرے سے لیکر 1990ء تک پوری طرح روس کیساتھ تھا۔ لیکن جب 1991ء میں سویت یونین بکھر گیا تو بھارت کمال ہوشیاری کیساتھ ہندو منتر جنتر کا بھرپھور استعمال کرتے ہوئے امریکہ اور مغرب کی طرف جھک گیا۔ اب ذرا دیکھئے نا کہ 9/11کے بعد دنیا بھرمیں امریکہ نے دہشتگردی کیخلاف جنگ لڑنے کا اعلان کیا لیکن کیا دنیا میں کسی دوسرے ملک نے پاکستان کے برابر توکیا، آدھا نقصان بھی برداشت کیا ہے اور پھر جو قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا ہے اُس کی تلافی ممکن ہی نہیں۔لیکن اس سب کچھ کے باوجود آج بھارت امریکہ کا دنیا میں اسرائیل کے بعد سب سے بڑا چہیتا ہے اور یہ سب اُس منتر کا نتیجہ ہے جو ہندو برھمن کے اشلوکوں میں پایا جاتا ہے۔ امریکی سیکرٹری سٹیٹ نے دہلی جاتے ہوئے اپنے کبھی نان نیٹو اتحادی کی نئی حکومت کو صرف چالیس منٹ دیئے اور وہ بھی اسلئے کہ پاکستان پر دباؤ ڈالے کہ ابھی دہشتگردی کیخلاف بہت کچھ کرنا باقی ہے، بھلے پاکستان پہلے ہی سب کچھ کر چکا ہے۔ مزے کی بات دیکھئے کہ ایران ہمارا مسلم برادر ہمسایہ ملک ہے لیکن ہم اُس کیساتھ امریکی خوف سے کہ اُس نے ایران پر پابندیاں لگائی ہیں (جو سراسر زیادتی ہے ) شدید ضرورت کے باوجود پٹرول اور گیس کی تجارت نہیں کر سکتے۔ نیو دہلی میں امریکی سیکرٹری خارجہ نے جب بھارت سے کہا کہ ایران سے تیل درآمد نہ کریں تو بھارت نے صاف کہا کہ یہ ہماری ضرورت ہے اور وفد میں شامل ایک امریکی فرد نے کہا کہ دراصل ایران سے تیل کی درآمد روکنے میں بعض تیکنیکی معاملے اثرانداز ہیں۔امریکہ اس وقت پاکستان کیلئے مکمل طور پر ایک اجنبی ملک کے طور پر سامنے آیا ہے ایسے لگتا ہی نہیں کہ کبھی ان دو ملکوں کے درمیان گہرے سٹریٹجک تعلقات رہے ہیں ۔

جسے تم گنتے تھے اشنا، جسے تم کہتے تھے باوفا

میں وہی مومن مبتلا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

لیکن امریکہ کو سوچنا ہوگا کہ پاکستان میں حالات بدل چکے ہیں۔ سی پیک نے انشاء اللہ ہر حال میں مکمل ہونا ہے۔ پاک آرمی اور سیاسی حکومت ایک صفحے پر ہیں۔ چین پاکستان کی پشت پر ہے۔ بھارت کو پاکستان کیساتھ چینی دباؤ کے تحت متنازعہ مسائل بالخصوص کشمیر پر کوئی معقول بات ماننا ہوگی اور ہو سکتا ہے کہ روس، چین، ترکی، ایران، پاکستان اور بھارت اپنے مفادات کے تحت خطے میں باہمی اشتراک کے منصوبے شروع کریں۔ اسلئے قبل اس کے کہ حالات کسی اور طرف چلے جائیں امریکہ کو چاہئے کہ بطور سپرپاور عدل وانصاف کیساتھ اپنے مفادات کا حصول ضرور جاری رکھیں لیکن دنیا کے دوسرے ملکوں کو بھی جینے کا حق دیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تھوڑا توازن سے کام لیا جائے تو خطے پر اس کے بڑے خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔

مزیدخبریں