دو وزرائے خارجہ دو کہانیاں

12 ستمبر 2018

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے چند گھنٹے کے دورے کے بعد ہی چینی وزیر خارجہ وانگ ژی پاکستان کے تین روزہ دورے پر پہنچے۔ چینی وزیر خارجہ نے اپنے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیراعظم عمران خان سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں ہونے والی گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ پاک چین تعلقات باہمی احترام پر مبنی ہیں۔ پاکستان کو کئی بین الاقوامی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اقتصادی راہداری پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔ چین پاکستان کی معیشت کو مشکلات سے نکالنے میں ہر ممکن کردار ادا کرے گا۔ دہشت گردی کیخلاف پاکستان کی قربانیاں قابل تعریف ہیں۔ عمران خان کو دورۂ چین کی دعوت۔ یہ وہ باتیں ہیں جو امریکی وزیر خارجہ کے دورہ میں سننے کو نہیں ملیں بلکہ اس ملاقات پر ناگواریت کے سائے منڈلاتے رہے۔ چند ناگوار گھنٹے پاکستان میں گزارنے کے بعد امریکی وزیرخارجہ بھارت گئے اور کئی روز تک بھارت کے مہمان بنے رہے اور دوطرفہ معاہدات اور عہد وپیماں کے ذریعے کھل کر لطف وعنایات کی برسات ہوتی رہی۔ اس دورے میں پاک امریکہ تعلقات کی ری سیٹنگ یا تجدید کا دعویٰ تو کیا گیا مگر یہ دعویٰ ہواؤں میں ہی معلق معلوم ہوتا ہے۔ زمینی صورتحال اس دعوے کے قطعی برعکس دکھائی دیتی ہے۔ امریکہ اور بھارت کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ میں جی بھر پاکستان کو مطعون کیا گیا۔ یوں لگتا تھا کہ بھارت کے تحریر کردہ سکرپٹ پر امریکی وزیر خارجہ نے صرف دستخط کرنے کا تکلف فرمایا ہے اب اس ماحول میں چینی وزیر خارجہ نے پاکستان کا تین روز ہ دورہ کیا اور کئی اہم معاملات پر بات چیت کے علاوہ دوطرفہ تعاون کو مزید بلندیوں تک پہنچانے کا عہد کیا گیا ۔نومبر میں عمران خان کا متوقع دورہ ان تعلقات کو مزید گہرا کرنے کا باعث بنے گا۔ چینی وزیر خارجہ کے دورے کے بعد اچانک سی پیک منصوبوں کے حوالے سے شکوک وشبہات کا اظہار ہونے لگا۔ یہاں تک کہ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو پاکستان کے مشیر صنعت وتجارت وسرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد کے انٹرویو نے تہلکہ ہی مچا دیا۔ جس میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک سال کیلئے سی پیک منصوبوں پر کام مؤخر کر سکتا ہے۔ عبدالرزاق داؤد نے انٹرویو کے سیاق وسباق سے کاٹ کر شائع کرنے کی بات کی جبکہ چین نے اس رپورٹ کو مسترد کیا۔ اپوزیشن جماعت بالخصوص مسلم لیگ ن نے سی پیک کے منصوبوں کے مؤخر کئے جانے کی خبروں پر شدید تنقید کی ہے۔ اب چین اور پاکستان دونوں نے سی پیک منصوبوں پر کام کو مقررہ میعاد میں مکمل کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ سی پیک منصوبوں کے معاہدات کی نوعیت، توازن، نفع ونقصان کا ازسرنو جائزہ لینا کوئی غلط بات بھی نہیں۔ ماضی کی حکومت نے کریڈٹ اور افتتاحی تقریبات کے چکر میں معاہدوں میں شفافیت کا جس حد تک خیال رکھا ہے یہ جاننا نئی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ سی پیک گیم چینجر ہے مگر یہ آوازیں دبے لفظوں میں اُٹھنے لگی تھیں کہ پاکستان اس وقت معیشت کے اعتبار سے مرد بیمار ہے۔ اس کی معیشت کی سانسیں آکسیجن ماسک پر جاری ہیں۔ مشکل کی اس گھڑی میں حکومت کو کچھ طویل المیعاد اور کچھ فوری فیصلے کرنا ہیں۔ طویل المیعاد فیصلوں میں قانون کی حکمرانی، کرپشن کا خاتمہ، سادگی اور اصراف سے گریز اور ڈیموں کی تعمیر وغیرہ شامل ہیں۔ فوری فیصلوں میں سب سے اہم زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانا اور قرض لینا یا اس سے گریز کی تدبیر کرنا ہے۔ اس مرحلے پر پاکستان کی معیشت کو باہر سے سہارا نہ ملا تو پھر کڑوے اور کڑے فیصلوں کے سوا چارہ نہیں۔ اس لحاظ سے سی پیک کے حوالے سے ہر معاہدے کو صحیفۂ آسمانی جیسا تقدس نہیں دیا جا سکتا۔ جب ہم کسی اور کی جنگ نہ لڑنے کی بات کرتے ہیں تو پھر یہ جنگ معاشی بھی ہو سکتی ہے، کسی اور کیلئے اپنا نقصان بھی برداشت کرنا اپنا حلیہ بگاڑنا بھی کسی اور کی جنگ لڑنے کے متردف ہے۔ چین اور پاکستان کے درمیان آجر اور اجیر کا تعلق نہیں بلکہ صدیوں پر محیط شراکت داری کا سفر شروع ہونے کو ہے۔ چین اور امریکہ میں اس وقت مخاصمت کی فضاء قائم ہے اور اس فضاء کو مزید مضبوط بنانے کیلئے امریکہ تیزی سے کام کر رہا ہے۔ دونوں طاقتوں کے درمیان تجارتی میدان میں مسابقت جاری ہے اور جنوبی چین کے جزیروں میں بالادستی کا ایک کھیل بھی چل رہا ہے۔ امریکہ چین کے مقابلے میں بھارت کو مصنوعی طور پر شیر بنا رہا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے دورہ بھارت میں یہ معنی خیز جملہ ادا کرکے کہ امریکہ بھارت کے عالمی طاقت بننے کے حق کی حمایت کر رہا ہے، مستقبل کے عزائم اور منصوبوں کا اظہار کیا تھا۔ چین دہائیوں سے بنی بنائی اور مسلمہ عالمی طاقت ہے۔ جس نے عام آدمی کا معیار زندگی بلند کرنے کیلئے اور اپنی معاشی حالت کو بہتر بنانے کیلئے طویل سفر طے کیا ہے۔ بھارت میں کروڑوں لوگ خطِ غربت سے نیچے ہیں اور کروڑں گھرانے لیٹرینوں اور صاف پینے کے پانی سے محروم ہیں۔ لیٹرینوں میں پھنسے ہوئے بھارت اور معاشی ترقی کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے چین کا کوئی موازنہ اور مقابلہ نہیں بنتا مگر امریکہ مصنوعی طور بھارت کو عالمی طاقت بنانے پر مُصر ہے جس سے خطے میں ایک کشمکش جاری ہے۔ ایسے میں چین اور پاکستان کا قریبی تعاون جہاں دونوں کے مفاد میں ہے وہیں اس سے خطے کا مستقل امن اور استحکام بھی وابستہ ہے۔

مزیدخبریں