Daily Mashriq

نائن الیون،افغانستان میں امریکی سفارتخانے پر راکٹ حملہ

نائن الیون،افغانستان میں امریکی سفارتخانے پر راکٹ حملہ

امریکہ میںجڑواں میناروں سے طیارہ ٹکرانے کے انیسویں سال کے پہلے دن افغانستان میں امریکی سفارتخانے پر راکٹ حملہ کی ذمہ داری دم تحریر کسی نے قبول نہیں کی لیکن غالب امکان یہ ہے کہ یہ حملہ طالبان کی جانب سے ہی کیا گیا ہوگا جن سے حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امن مذاکرات معطل اور امریکی وزیرخارجہ نے دستاویزات پردستخط سے انکار کردیا تھا اس ضمن میں پاکستان اور افغانستان کیلئے امریکہ کے دیرینہ معاون خصوصی اور مذاکرات کار زلمے خلیل زاد تک کو واشنگٹن نے اعتماد میں لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کے حملوں کی عدم روک تھام اور امریکی فوجی کی ہلاکت پر طالبان کے امن مذاکرات کو معطل کردیا تھا جس کے ردعمل میں طالبان نے دھمکی دی تھی کہ اس کا زیادہ نقصان بھی امریکہ ہی کو ہوگا اگردیکھا جائے تو انہوں نے اس دھمکی پر عمل کر کے دکھا کر امریکہ کو واضح پیغام دیا کہ افغانستان میں طالبان کے تحرک اور قوت میں کمی نہیں آئی قبل ازیں دوران مذاکرات کابل کے محفوظ ترین سمجھنے جانے والے علاقے میں بھی دو حملے کئے گئے تھے جس سے مذاکرات کامیاب ہوتے ہوتے ناکام ہوگئے یا کم از کم مذاکرات کو ختم کرنا پڑا۔ہم سمجھتے ہیں کہ دوران مذاکرات طالبان کا فائر بندی سے انکار کر کے مذاکرات کے ماحول کو متاثر کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا جس کے باعث امن مذاکرات کی بیل منڈھے نہ چڑھ سکی افغانستان میں جاری صورتحال اور افغانستان میں امریکی سفارتخانے پر حملہ اس امر پر دال ہے کہ آمدہ دنوں میں مفاہمت اور مذاکرات کی بحالی کے امکانات کم اور تشدد کے امکانات بڑھ گئے ہیں امریکی سفارتخانے پر حملے میں جانی ومالی نقصان ہو نا یا نہ ہو نا کوئی معنی نہیں رکھتا طالبان نے امریکی ریاست کی نمائند علامت کو علامتی طور پر نشانہ بنا کر بڑا واضح پیغام دیا ہے کہ انہوں نے امریکہ کے ساتھ مخاصمت اور مقابلے کے عزم پرنظر ثانی نہیں کی ۔ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان چین اور افغانستان خطے میں معاشی روابط اور امن وامان کے حوالے سے جو عزائم رکھتے ہیں اس کی سنجیدگی کا تقاضا یہ ہے کہ یہ ممالک افغانستان میں قیام امن کیلئے طالبان افغان حکومت اور امریکہ کے درمیان مصالحت کیلئے آگے آئیں۔چین اور پاکستان کے ساتھ ایک میز پر بیٹھ کر مذاکرات کرنے والے ملک کا اپنے اندرونی معاملات میں استحکام لانے کیلئے ان ممالک سے زیادہ اہمیت کا حامل اور موزوں ملک کوئی اور نہیں ہوسکتا پاکستان کا طالبان پر اگرچہ پہلے کی طرح کااثر ورسوخ تو نہیں رہا لیکن اس کے باوجود پاکستان کی اہمیت اپنی جگہ برقرار رہی جبکہ چین ایک بڑے اور طاقتور ملک کی حیثیت سے مصالحت اور ثالثی کے کردار کیلئے اہم اور موزوں ملک ہے ماضی میں طالبان چین کو بطور ثالث تسلیم کرنے کا عندیہ بھی دے چکے ہیں اور چین کا کردار ان کیلئے قابل قبول ہے جبکہ چین اور پاکستان کے درمیان بھی مثالی تعلقات کے باعث اس معاملے میں دونوں ممالک کی مشترکہ کوششیں اور ہم آہنگی کے بہتر امکانات ہیں براہ راست مذاکرات پر افغان حکومت بھی معترض تھی امریکہ افغان حکومت اور طالبان معاملے کے فریق ہیں جو اس مسئلے کے براہ راست کسی حل تک پہنچنے کی کوششوں میں ناکام رہے جس کے بعد ثالثی کے ذریعے ہی اس معاملے میں پیشرفت کی کوششوں پر آمادگی کے سواکوئی اور راستہ دکھائی نہیں دیتا برسوں پنجہ آزمائی کے بعد بھی اگرجنگجوئوں کو فتح اور امریکہ کو کامیابی نہیں مل سکی تو آئندہ بھی اس کا امکان نہیں معاملے کے فریقوں کو اس کا بخوبی احساس ہونے کے باوجود جتنی تاخیر ہوگی افغانستان کاامن اتنے عرصے تک متاثرہ رہے گا۔

متعلقہ خبریں