Daily Mashriq

عاشورہ محرم الحرام کا پر امن اختتام

عاشورہ محرم الحرام کا پر امن اختتام

ملک بھر میں کوئی نا خوشگوار واقعہ رونما نہ ہوا اور عاشورہ بخیر و خوبی اختتام پذیرہونا اس امر پر دال ہے کہ اولاً وطن عزیز میں اتحاد بین المسلمین اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے ہونے والی مساعی ثمر آور ثابت ہونے لگی ہیں۔ تمام مکتبہ فکر کے افراد میں جہاں رواداری اور برداشت کا مادہ پیدا ہواہے اس کی سوائے اس کے کوئی اور بڑی وجہ نظر نہیں آتی کہ جملہ ہم وطنوں کو پاکستان کے نازک دور سے گزرنے کا احساس ہوگیا ہے۔ اب انہیں اس امر کا بھی ادراک ہو چکاہے کہ ماضی میں ان کو کس کس طریقے سے اور کن کن چالوں کے ذریعے لڑایا گیا۔ شعور و آگہی اور فرقہ وارانہ منافرت کو کم کرنے میں میڈیا کے کردار کا تذکرہ نہ کرنا قرین انصاف نہ ہوگا۔ میڈیا میں تسلسل کے ساتھ صورتحال بارے جو آگہی دی جاتی رہی اس کے شعور کا اجاگر ہونا اور رواداری کی کیفیت میں بہتری آنا فطری امر تھا۔ اس من حیث المجموع صورتحال کے علاوہ قومی ایکشن پلان پر موثر عملدرآمد منافرت پر مبنی لٹریچر اور منافرت پھیلانے والے افراد اور تنظیموں پر نظر رکھنے اور ان کے خلاف موثر کارروائی کے باعث شر پسند عناصر کو موقع ہی نہ مل سکا کہ وہ شر پسندی کی کوئی کوشش کرتے فرقہ وارانہ تنظیموں پر پابندی اور ان کو ملنے والے فنڈز کی روک تھام کی موثر کوششوں کے ثمر آور ہونے کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ نہ صرف ان کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے بلکہ کسی طور بھی ان کو اس قابل نہ چھوڑا جائے کہ وہ پھر سے منظم ہو کر کسی شر پسندی کا باعث بن سکیں۔وطن عزیز میں داخلی امن کے حوالے سے ایک اور عاشورہ کاپر امن گزرنا پیمانہ تو نہیں حوصلہ افزاء امر ضرور ہے۔کوشش ہونی چاہیئے کہ جو تھوڑی بہت کسر رہ گئی ہے اس کا بھی خاتمہ کیا جائے اور ایسا معاشرہ تشکیل دیا جائے کہ منافرت کی کوئی گنجائش ہی باقی نہ رہے۔

حاجیوں کو آب زم زم بروقت مہیا کیا جائے

پشاور ایئر پورٹ پر آب زم زم کے کین بروقت فراہم نہ کر کے متعلقہ حکام نے جس سنگین غفلت کا ارتکاب کیا وہ ہمارے روایتی نظام کا اب حصہ بن چکا ہے جس میں جان بوجھ کر تاخیر سرکاری ملازمین اور کارپوریشنز کے اہلکاروں کا وتیرہ بن گیا ہے لیکن حج سے واپسی پرحاجیوں نے جس طرح صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑا اور نامناسب راستے سے آکر نا مناسب انداز میں آب زم زم کے کیس حاصل کرنے کی کوشش کی وہ نہ تو مہذب طریقہ تھا اور نہ ہی مبارک سفر کے اختتام پر ایسا کرنا ان کو زیب دیتا تھا حجاج کرام کو یا تو مزید انتظار کرلینا چاہیئے تھا یا پھر آب زم زم کے کین لئے بغیر رخصت ہو جانا چاہیئے تھا تاکہ کم از کم جگ ہنسائی تو نہ ہوتی۔اس صورتحال کے جائزے کے بعد متعلقہ حکام کو آئندہ کیلئے ایسا لائحہ عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے کہ حجاج کرام کو لمحہ بھر کا بھی انتظار نہ کرنا پڑے تاکہ اس طرح کی جگ ہنسائی کا کوئی اور واقع رونما نہ ہو۔حج ایک مقدس ترین عبادت ہے جو برداشت رواداری حلم اور نرمی کا متقاضی ہوتی ہے حجاج کرام سے واپسی پر ان اوصاف کی توقع ہے کجا کہ وہ اس کے برعکس افعال کے مرتکب ہوں۔پشاور ایئر پورٹ پر عملے نے حاجیوں کو بروقت آب زم زم کے کین فراہم نہ کر کے جس سستی اور غفلت کا مظاہرہ کیا ہے اس کی تحقیقات ہونی چاہیئے اور ذمہ دار قرار پانے والے اہلکاروں کو سزا دی جائے تاکہ آئندہ اس قسم کے تساہل کا امکان باقی نہ رہے اور نظم وضبط کی خلاف ورزی نہ ہونے پائے ۔حاجیوں کو اُلٹے راستے سے ممنوعہ جگہ تک رسائی روکنے کے ذمہ دار سیکورٹی اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیئے۔

عوام جائیں تو جائیں کہاں

یوٹیلٹی سٹورزکارپوریشن کی جانب سے حال ہی میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کافی سے زیادہ اضافہ کے بعد معقول نرخوں پر اشیاء کی خریداری کا عوام کے پاس کوئی ذریعہ باقی نہیں رہا۔ تین سو سے زائد استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں پینسٹھ فیصد تک کا اضافہ حیران کن فیصلہ ہے گھی کوکنگ آئل ،مصالحہ جات،ٹوٹھ پیسٹ، شیمپو، صابن،چائے سمیت دیگر اشیاء خوردنی کی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں یوٹیلٹی سٹورز جن میں مارکیٹ کی نسبت صارفین کو اشیاء ضروریہ کم نرخ پر فراہم کرنے کیلئے سہولت دی جاتی ہے اور یہ سرکاری انتظام کے تحت چلنے والا ادارہ ہے یہاں پر بھی قیمتوں کے اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آگیا ہے اور مہنگائی کی روک تھام کیلئے حکومت کی طرف سے کسی قسم کے اقدامات نہیں اٹھائے جارہے ہیں بلکہ خود حکومت بھی اس لہر کا حصہ بن گئی ہے۔ اشیاء ضروریہ کے نرخوں میں جس رفتار سے اضافہ کیا جارہا ہے اس سے گھریلو صارفین کا بجٹ بری طرح متاثر ہونا فطری امر ہے جب ذرائع آمدن محدود اور اخراجات بڑھ رہے ہوں تو اس سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہی ہوگا ۔اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ موجودہ وقت میں ملک میں مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے حکومت نے صارفین کو جس طرح سے ناجائز منافع خوروں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے اس سے لگتا ہے کہ حکومت کو عوامی مصائب اور تکالیف کا سرے سے تو احساس ہی نہیں بازاروں میں دکانداروں نے سرکاری نرخ نامے کو ردی کی ٹوکری کی نذر کر تے ہوئے اپنی مرضی کے نرخ مقرر کرلئے ہیں ان سے ناجائز منافع خوری اور سرکاری نرخ نامے پر عمل نہ کرنے کے حوالے سے کوئی پوچھنے والا نہیں یوٹیلٹی سٹورز پر بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی بلکہ خود اس سے متاثر ہو کر یوٹیلٹی سٹورز پر اشیاء کے نرخوں میں اضافہ کردیا ہے المیہ یہ ہے کہ درجنوں اداروں کی موجودگی میں صارفین سے مرضی کے ریٹس وصول کیئے جارہے ہیں۔موجودہ حکومت جس تبدیلی پر عوام کو تمام شعبوں میں ریلیف دینے کے نعرے پر اقتدار میں آئی ہے عملی طور پر اس کا الٹ ہی ہورہا ہے۔عام آدمی کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ اب عام آدمی کو نان جویں بھی میسر نہیں کجا کہ عوام آسودہ حالی اور شکم پری کی خواہش رکھیں۔

متعلقہ خبریں