Daily Mashriq

حریت فکر کا آفاقی پیغام

حریت فکر کا آفاقی پیغام

گزر گیا، شام غریباں کے بعد آئی مصیبتوں بھری شب بھی بیت گئی۔ فکر حسین کا نیا سفر شروع ہوا‘ عاشور وکربلا اور حسینیت کا پیغام فقط اتنا ہے ’’اپنے اپنے عہد کے استحصالی طبقات‘ جبر وستم اور آمریت کیخلاف پوری قوت کیساتھ آواز بلند کیجئے‘‘۔ سبط احمد مرسل امام حسینؓ امام حریت وفکر ہیں۔ حریت فکر اس امر کی متقاضی ہے کہ اپنے حصہ کا سچ بولنے میں لمحہ بھر کی غفلت بھی ناقابل تلافی جرم بن جاتا ہے۔ معروف ایرانی سکالر شہید ڈاکٹر علی شریعتی نے کہا تھا ’’حسینؓ کو داد وتحسین سے زیادہ نصرت کی ضرورت تھی اور ہے‘‘ سچ یہی ہے کربلا کا پیغام بھی یہی۔ مسلم سماج کا امتحان بعداز کربلا بھی جاری ہے۔ ہمیں اپنی ذات کے محاسبے کیساتھ چار اور دیکھنے کی بھی ضرورت ہے۔ شرف انسانی کی قدم قدم پر توہین ہو رہی ہو، حقداروں کو محروم رکھا جا رہا ہو یا ریاست شہریوں کے حقوق فراہم کرنے سے منہ موڑ کر جبر واستبداد کو اقتدار کی طوالت کا ذریعہ بنا چکی ہو تو پھر اعلائے کلمہ الحق سے منہ موڑنا جرم قرار پائے گا۔ شہید مظلوم امام حسینؓ کی ہمشیرہ محترمہ حضرت بی بی سیدہ زینبؓ بعد عاشور دئیے گئے ایک خطبے میں فرماتی ہیں ’’لوگو! میرا بھائی ذاتی جاہ وجلال کے حصول کیلئے نہیں بلکہ انقلاب محمدؐ کے اس آفاقی پیغام اور نظام کے تحفظ کیلئے کربلا میں اُترا اور شہید ہوا جو انسان کو بطور انسان تکریم دینے کی تعلیم کیساتھ عمل کرنے کی بھی دعوت دیتا ہے‘‘۔ خطبے کی یہ سطور ہمیں سمجھاتی ہیں کہ انسانی سماج کے اہل دانش اور خود ریاست وعوام کے فرائض کیا ہیں۔ اہل دانش کا فرض ہے کہ وہ نورعلم وآگہی پھیلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ریاست کا فرض ہے وہ طے شدہ حدود میں رہ کر لوگوں کی بھلائی‘ انصاف کی بلاامتیاز فراہمی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائے۔ لوگوں کا فرض ہے کہ وہ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوں‘ مستحقین کی مدد کریں اور سماجی اتحاد کو قائم رکھنے میں کوئی کسر نہ اُٹھا رکھیں۔ عاشور درس حریت فکر بھی ہے، آزادیٔ اظہار کا مینارہ نور بھی۔ حسینیت یہی ہے کہ جبر واستحصال سے محفوظ بلاامتیاز انصاف پر مبنی نظام اور سماج قائم ہو‘ وسائل ذات، برادری، قبیلے کی بنیاد پر نہیں مساوی طور پر تقسیم ہوں۔ آج کے جدید زمانے اور سماج میں اگر ہم اسے یوں کہیں اور سمجھیں کہ حسینیت یہ ہے کہ ریاست دستیاب وسائل اپنی جغرافیائی حدود میں مقیم لوگوں کی تعمیر وترقی اور فلاح وبہبود کیلئے صرف کرے تو یہ غلط نہ ہوگا‘‘۔بنیادی طور پر ریاست کا ہی یہ فرض ہے کہ وہ محکوم طبقات کی سربلندی کو یقینی بنائے۔ علم وآگہی کے نور کو پھیلانے میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔طبقاتی تضادات کو کم سے کم کرنے کی حکمت عملی وضع کرے۔ لوگوں سے اظہار آزادی چھیننے کی بجائے اس امر کو یقینی بنائے کہ لوگ بلاخوف وخطر اپنی بات کہہ سکیں۔ یہ بھی ریاست کا فرض ہے کہ وہ اپنی حدود میں آباد طبقات میں سے کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح نہ دے بلکہ اس کے نزدیک تمام شہری بلاامتیاز مساوی درجہ اور حقوق رکھتے ہوں۔ ریاست لوگوں کے ذاتی امور میں مداخلت نہ کرے اور ناہی کسی طبقے اور فرد کو اپنی حد میں رہنے اور دوسروں کی دل آزاری نہ کرنے کی پابند کرے۔ تعلیم کے فروغ کیلئے بنیادی اقدامات اگر ریاست اولین فرض کے طور پر ادا کرتی ہے تو لوگوں کا شعور کی دولت کیساتھ آگے بڑھنا نہ صرف ریاست ونظام بلکہ سماج کی وحدت کیلئے معاون ثابت ہوگا۔ قانون سب کیلئے یکساں ہونا چاہئے اس کے بلاامتیاز اطلاق میں کسی مصلحت کو آڑے نہیں آنے دینا چاہئے۔ ریاست ہی کی ذمہ داری ہے کہ اس کے مختلف ادارے اور محکمے قانون کے مطابق فرائض ادا کریں‘ رشوت واختیارات سے تجاوز یا بالادست طبقات کی خوشنودی کیلئے محکوم طبقات سے امتیازی سلوک نا ہو۔ جیسا کہ پچھلے کچھ عرصہ میں ملک کے مختلف حصوں میں پولیس کا انسانیت دشمن رویہ دیکھنے میں آیا۔ ادارے ہوں یا امن وامان برقرار رکھنے والے محکمے اگر یہ قانونی فرائض کی ادائیگی سے منہ موڑ کر اپنے دبدبے کو قائم رکھنے یا بالادست طبقات کی خوشنودی کے حصول کو مقدم سمجھیں گے جیسا کہ ہمارے یہاں عموماً ہوتا چلا آرہا ہے تو اس سے قانون کی بالادستی قائم نہیں ہوگی اور اختیارات سے تجاوز کے نتیجے میں جن لوگوں اور طبقات کیساتھ ظلم وناانصافی ہوگی ان کاریاست کی غیرجانبداری اور قانون کی بلاامتیاز بالادستی سے یقین ختم ہوگا۔حسینیت یہی ہے کہ بڑے طبقات نچلے طبقات کو کسمپرسی سے نکلنے کیلئے مدد کریں۔ مخیرحضرات آگے بڑھ کر ادارے قائم کریں جو فقیروں کے لشکر پالنے کی بجائے عملیت پسند شہریوں کی تعداد بڑھانے میں معاون ثابت ہوں۔ حقیقت یہی ہے کہ کسی بھی نظام کی عوام دوستی کا تاثر تادیر قائم رکھنے کیلئے اس نظام کے ماتحت یا یوں کہہ لیں تحت رہنے والوں میں اخوت وبھائی چارے کو فروغ حاصل ہو۔ عدل وانصاف‘ خوشحالی‘ علم اور انسان دوستی کے حوالے سے مثالی معاشرہ اور ریاست ہی دنیا کے مظلوموں کیلئے ثابت قدمی سے آواز اٹھانے کیساتھ ان پر مسلط غلامی وجبر کے نظام کے خاتمے کیلئے تعاون کرسکتے ہیں لیکن اگر کوئی معاشرہ خود بنیادی سہولتوں وضرورتوں اور علم وآگہی کیساتھ انصاف ومساوات سے محروم ہے تو لاکھ دعوے کئے جاتے رہیں حقیقت میں وہ کرۂ ارض کے لوگوں پر ایک بوجھ ہی کہلائے گا۔ ہم عاشور کے دوران حضرت حسینؓ اور حسینیت سے اپنی وفا وتعلق کے بہت دعوے کرچکے۔ اب آئیے آگے بڑھئے، عقیدہ قیام حسینؓ سے راہنمائی لیجئے۔ جبر وستم‘ ناانصافی‘ طبقاتی بالادستی‘ تعصبات کے خاتمے اور مثالی ریاست کے قیام کیلئے اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کیجئے تاکہ حق حسینیت ادا ہوسکے۔ جو اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک دوسرے کی توہین کے بغیر مکالمہ رواج پائے۔ وسائل پر سب کا مساوی حق ہو‘ اقتدار پسندیدگی اور خاص مقصد کیلئے کسی کی ملکیت نہ بنا دیا جائے بلکہ کامل آزادی کیساتھ لوگوں کو اپنی قیادت منتخب کرنے کا حق ہو۔

متعلقہ خبریں