Daily Mashriq

امریکہ طالبان مذاکرات ،ٹوٹی کہاں کمند؟

امریکہ طالبان مذاکرات ،ٹوٹی کہاں کمند؟

سترہ برس کی لڑائی او ر ناخوش گوار تجربات کے طویل سفر کے بعد امریکہ نے طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا راستہ اپنایا تھا ۔اسے امریکہ کی سترہ برس کی سب سے بہتر اور مناسب حکمت عملی گردانا جا رہا تھا۔یوں لگ رہا تھا کہ دیوار سے سرپھوڑنے کی بجائے امریکہ نے پہلی بار دیوار پرلکھی ہوئی عبار ت پڑھنے کا راستہ اپنالیا ہے ۔افغانستان میں مزاحم طاقت طالبان پر یہ امریکہ کا احسان نہیں تھا کہ وہ ان کے کشکول میں مذاکرات کی خیرات کے سکے ڈالنے پر آمادہ ہو رہا تھا نہ یہ کوئی خوشی کا سودا تھا ۔طالبان تو اسی امید پر سترہ برس تک لڑ رہے تھے کہ ایک روز وہ امریکہ کو تھکا کر مذاکرات کی میز پر لائیں گے مگر امریکہ کو یہ انداز نہیں تھا کہ نیپام ، کلسٹر اور’’ بموں کی ماں‘‘ کے استعمال کے بعد بھی افغانستان ان کی حتمی فتح کی خواہش سے کوسوں دور رہے گا۔امریکہ کا ہمیشہ یہ خیال تھا کہ وہ طالبان کو فضائی بمباری سے اس قدر کمزور کر دے گا کہ ا ول تو ان کے ساتھ مذاکرات کا لمحہ ہی نہیں آئے گا اور اگر آیابھی توایک روز وہ کابل حکومت کے ساتھ بیٹھ کر معاملات طے کرنے پر مجبور ہوں گے ۔امریکہ اپنا دامن بچا کر بھارت کی طرح پس پردہ کھلاڑی کا کردار اپنا لے گا۔افغانستان سے اس کی فوجوں کا انخلاء بھی ہوگا اور چند ہزارفوجیوں کی موجودگی کی صورت میں انخلاء نہیں بھی ہوگا ۔یوں انخلاء کا مطالبہ کرنے والوں کے لئے یہ انخلاء ہوگا اور امریکیوں کو اپنا مہمان اور محافظ بنائے رکھنے کے خواہش مند کابل کے حکمرانوں کے لئے انخلاء کی بجائے یہ موجودگی تسلی اور تشفی کا سامان ہوگی۔وقت سب سے بڑا اتالیق ہے اور وقت نے امریکہ کو یہ حقیقت باور کرادی کہ طالبان کی زمینی حقیقت کو تسلیم کئے بغیر وہ افغانستان سے اپنا دامن اور گریباں بچا کر نہیں جا سکتے ۔اس لئے دوحہ مذاکرات کی سیج سجائی گئی۔دوحہ مذاکرات امریکہ کی طرف سے طالبان کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کرنے کا آغاز تھا ۔امریکہ نے ان مذاکرات کی نمائندگی زلمے خلیل زاد کی صورت ایک ایسے افغان نژاد امریکی کو سونپی جو سترہ برس میں امریکہ کی سخت گیر اسٹیبلشمنٹ کی ترجمانی کرتے ہوئے افغان مزاحمت کو دہشت گردی اور اسے پاکستان کی پیداکردہ تحریک قراردیتا رہا ۔اس طرح زلمے خلیل زاد امریکہ کی سخت گیر اشرافیہ ،کابل انتظامیہ اور بھارت کے موقف کے کھلے حامی رہے تھے ۔جوں جوں وہ اپنے ہم وطن طالبان کے ساتھ مذاکرات کرتے گئے تو انہیں انداز ہ ہوا کہ طالبان ایک حقیقت ہیں اور یہ محض پاکستانی اداروں کا پیدا کردہ کوئی کردار نہیں۔اسی لئے وہ ایک انتہا سے اعتدال کی طرف آنے لگے اور طالبان کے موقف کو سمونے کی کوشش کرتے رہے۔دس ماہ تک قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جا ری رہا ۔اس عرصے میں نو مذاکرات کے نو ادوار ہوئے ۔یہ افغان حکومت کی ہی ناراضگی اور پریشانی نہیں تھی بلکہ اس میں بھارت اور امریکہ کی ایک سخت گیر لابی کا کرب بھی شامل تھا۔ بھارت کے اخبارات یہ لکھ رہے تھے کہ طالبان کی اقتدار میں واپسی بھارت کے لئے ڈراونا خواب ہے۔افغان حکومت اور بھارت کا ہمیشہ سے یہ خیال رہا ہے کہ امریکہ پاکستان پر ڈومور کا دبائو جاری رکھ کر طالبان کے اثرو رسوخ کو کم کر سکتا ہے اور اس کا مطلب طالبان کی سودے بازی کی صلاحیت میں از خود کمی ہوگا۔دوحہ مذاکرات کے دوران ہی امریکہ اور طالبان نے یہ حیران کن اعلان کر دیا کہ فریقین کے درمیان اٹھانوے فیصد نکات پر اتفاق ہو گیا ہے ۔اس کے ساتھ ہی یہ خبریں بھی سامنے آنے لگیں کہ امریکہ نے طالبان کے ساتھ معاہدے میں ’’اسلامی امارت افغانستان ‘‘ کی اصطلاح کو قبول کر لیا ہے ۔یہ اصطلاح بتارہی تھی کہ امریکہ طالبان کے ساتھ ایک ملیشیا کی بجائے ایک ریاست یا ریاستی طاقت کے طور پر معاملات طے کر کے اپنا دامن چھڑا کر جانا چاہتا ہے ۔یہ افغان حکومت ،بھارت اور خود امریکہ میں ایک طاقتور لابی کے سانحہ سے کم نہ تھا ۔افغان حکومت نے اس معاہدے کے مندرجات پوری طرح سامنے آنے سے پہلے ہی اسے مسترد کیا اور اشرف غنی نے اپنا دورہ امریکہ منسوخ کردیا ۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی ایسے مذاکرات پر دستخط کرنے سے انکا ر کیا اور اس حوالے سے اشرف غنی اور زلمے خلیل زاد کی تلخ ملاقات کی خبریں بھی میڈیا کی زینت بنیں ۔اس ماحول میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان سے مذاکرات منسوخ کرنے کا اعلان کیا اور اس کے لئے کابل میں ہونے والے ایک حملے کو بنیاد بنایا گیا جس میں ایک امریکی اور گیارہ عام افراد مارے گئے تھے۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان اٹھانوے فیصد نکات پر اتفاق کے بعد اختلاف کے اچانک اُبھر کر سارے عمل کو ختم کرنے پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ

قسمت کی دیکھئے کہ ٹوٹی کہاں کمند

د وچار ہاتھ جب لب بام رہ گیا

مذاکرات کے خاتمے سے خطے میں امن کی امید کا چراغ ایک بار پھر ٹمٹمانے لگ گیا ہے مگر اس مرحلے پر جب صلح کا جام امریکہ اور طالبان دونوں کے لبوں کے قریب اس انداز سے آچکا تھا کہ دونوں نے اس کا ذائقہ اور شیرینی محسوس کی ہوگی، دونوں کا مذاکرات سے کلی انکار اور فرار شاید ممکن نہ ہو۔طالبان نے صلح کے جام میں اسلامی امارت افغانستان کی جھلک دیکھ لی ہے تو امریکہ نے اسی جام میں اپنی شکست کوفتح کا نہ سہی عزت کا جامہ پہنتے دیکھ لیا ہے دونوں زیادہ دیر ترک تعلقات پر قائم نہیں رہ سکیں گے ۔

متعلقہ خبریں