Daily Mashriq

پولیس،کالج،آبنوشی اوربلاک شناختی کارڈ

پولیس،کالج،آبنوشی اوربلاک شناختی کارڈ

ایسالگتا ہے کہ پنجاب میں پولیس تشدد کی لہر آئی ہوئی ہے لیکن درحقیقت ایسا نہیں پنجاب پولیس ہو یا سندھ پولیس یا خیبر پختونخوا پولیس پولیس پولیس ہوتی ہے ایک قاری نے ٹویٹر پر چلنے والا ایک ویڈیو کلب بھیجا ہے جس میں ایک موٹر سائیکل سوار والا بر گر لیکر برگر والے کو نہ صرف رقم دینے سے انکاری ہے بلکہ تھپڑمارنے کی کوشش بھی کی اور گولی مارنے کی صاف دھمکی بھی دے رہا ہے۔میرے پاس کوئی پیمانہ نہیں کہ میں اس ویڈیو کے نئے یا پرانے ہونے کاتعین کر سکوں۔ بہرحال نئی ہو یا پرانی یہ ویڈیو خیبرپختونخوا ہی میں کہیں بنی ہے اور کسی بڑے شہر میں بنی ہے عین ممکن ہے کہ پشاور صدر کا علاقہ ہو میرا مقصد اس امر کی نشاندہی کے علاوہ کچھ نہیں کہ خیبرپختونخوا کی پولیس کی ابھی اصلاح نہیں ہوئی پشاورمیں اپنی تعیناتی کے دوران مجھے جتنا کے پی پولیس کو جاننے کا موقع ملا میرے نزدیک کے پی پولیس دوسرے صوبوں خاص طور پر پنجاب اور سندھ کی پولیس سے بہت بہتر ہے خیبرپختونخوا میں معاشرتی و اخلاقی اقدار کا خیال رکھا جاتا ہے ایسے معاشرے میں ایک پولیس والے کا برگر والے لڑکے کو رقم دیئے بغیر برگر لیجانا اوردھمکانا تکلیف دہ بات ہے۔میری ممدوح خیبرپختونخوا پولیس لائن بھی اچھی نہیں کہ تھانے کی موبائل ریڑھی والوں سے فروٹ سبزی تندروں سے روٹی چھولے والے سے چھولے نہ لیتی ہو یہ ایک ایسا معمول ہے کہ پاکستان میں جہاں بھی جائیں اس سے آپ کو واسطہ پڑے گا۔اس حد تک کہ شاید اس کو سرکاری طور پر بھی قبول کر لیا گیا ہو کیونکہ کبھی سنا نہیں کہ کسی پولیس اہلکار کے ان چھوٹی موٹی اور روز کی وارداتوں کا کسی اعلیٰ افسر نے نوٹس لیا ہو اور ان کو اس سے منع کیا گیا ہو سزادی گئی ہو۔کر ک سے آبنوشی کی قلت کی درجنوں شکایات اسی کالم کی وساطت سے متعلقہ حکام کے گوش گزار کی جا چکی ہیں اس سنگین مسئلے کا ہر کسی کو علم ہے تکرار کی ضرورت نہیں افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ مسئلہ لاینحل بن چکا ہے سایکوٹ سے فاروق خٹک نے ضلع کرک میں آبنوشی کے سنگین مسئلے پر کالم لکھنے کی استدعا کی ہے کالم لکھنے سے اور حکام کے گوش گزار کرنے سے مسئلہ حل ہوتا تو اب تک کر ک میں آبنوشی کا مسئلہ کب کا حل ہوچکا ہوتا۔ ایک بار پھر اس گزارش کا اعادہ ہی کیا جا سکتا ہے کہ کرک کے مکینوں کی فریاد سنی جائے۔باڑہ ضلع خیبر سے خواص خان نے ایک تعلیمی مسئلے کی طرف توجہ دلائی ہے ان کا کہنا ہے کہ علاقے سے اس سال گیارہ سو طلبہ نے میٹرک اور آٹھ سو نے انٹر میڈیٹ کا امتحان پاس کیا ہے علاقے میں صرف ایک ہی گورنمنٹ ڈگری کالج ہے جس میں نصف طالب علموں کا داخلہ بھی ممکن نہیں باقی کدھر جائیں؟میرے خیال میں یہ صرف باڑہ ضلع خیبر ہی کا مسئلہ نہیں پورے صوبے بشمول صوبائی دارالحکومت پشاور میں بھی یہی صورتحال ہے پشاور میں لاکھوں کی آبادی کے باعث مسئلہ زیادہ سنگین ہے مسئلہ اپنی جگہ لیکن میںطلبہ اور والدین سے یہی اپیل کروں گی کہ جو کچھ بھی ہو تعلیم کا سلسلہ منقطع نہ ہونے دیں مشکل یہ ہے کہ ہر طالب علم نجی تعلیمی ادارے میں داخلہ بھی نہیں لے سکتا سرکاری تعلیمی اداروں کی کمی ہی مسئلہ نہیں معیار اور پڑھائی بھی ناقص ہے حکومت کو چاہیئے کہ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہنگامی طور پر سیکنڈ شفٹ شروع کر کے زیادہ سے زیادہ طلبہ کو داخلہ دے اور مزید تعلیمی ادارے قائم کرے۔شفاف یار خان داوڑ نے شمالی وزیرستان میں موبائل نیٹ ورک نہ ہونے کا بڑا مسئلہ قرار دیا ہے ملازمتوں سے لیکر معلومات اور تفریح تک اب موبائل اور نیٹ اہم ہوگئے ہیں مثبت استعمال کیلئے اس کی ضرورت واہمیت سے انکار ممکن نہیں اس مسئلے پر قبائلی اضلاع کے اراکین اسمبلی نے حلف اٹھاتے ہی صوبائی اسمبلی میں مطالبات کئے تھے توقع ہے کہ صوبائی حکومت اس ضمن میں مرکزی حکومت اور متعلقہ اداروں سے رابطے میں ہوگی اور یہ مسئلہ حل ہوگا۔باڑہ ضلع خیبر سے فیاض خان نے بلاک شناختی کارڈوں کا مسئلہ اجا گر کرنے کا برقی پیغام بھیجا ہے ۔خیبرپختونخوا میں مختلف وجوہات کی بناء پر شناختی کارڈ بلاک کرنے کی شرح اور تعدادکافی زیادہ ہے جو شناختی کارڈ جعلسازی اور دھو کے سے بنائے گئے ہیں وہ اپنی جگہ لیکن بعض شناختی کارڈ معمولی اور سطحی وجوہات کے باعث بھی بند کئے گئے اور ان کو کلیئر کرنے میں غیر معمولی تاخیر ہورہی ہے جس کا کوئی جواز نہیں نادرا اور تحقیقاتی ایجنسیوں کو اپنے کام نمٹانے میں اتنی تاخیر نہیں کرنی چاہیئے کہ لوگوں کے سارے کام متاثر ہوں ۔ایک برقی پیغام سٹیٹ بینک پشاور کے سیکورٹی عملے سے لیکر کائونٹر عملے کے حوالے سے تھا کہ وہ انعامی بانڈ کی رقم کائونٹر پر کیش کرنے کی بجائے باہر بیٹھے دلالوں سے کیش کرانے کی ترغیب دیتے ہیں اور فائدہ یہ بتاتے ہیں کہ کائونٹر پر زیادہ رقم کٹتی ہے یہ دھندہ ہر جگہ جاری ہے کالے دھن کو انعامی رقم ثابت کرنے کیلئے سٹیٹ بینک پشاور کی عمارت کے باہر کیا ہوتا ہے اس سے قطع نظر سیکورٹی سٹاف اورکائونٹر سٹاف کو کم از کم کالے دھن والوں کا ایجنٹ نہیں بننا چاہیئے۔پی ڈی اے کے ایک ملازم نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر برقی پیغام میں کہا ہے کہ پی ڈی اے میں چند ملازمین کو حال ہی میں مستقل کرتے ہوئے انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے گئے ایک ہی قسم کا کام کرنے والوں میں سے کچھ کو ٹائپینگ آپریٹر کا عہدہ دے کر ان کو سکیل چار دیا گیا جبکہ کمپیوٹر آپریٹرز کو سکیل سولہ دیا گیا۔ڈرائیوروں کو سکیل چار اور ٹیوب ویل آپریٹروں کو سکیل ایک دیا گیاحالانکہ ان کا سکیل سات بنتا ہے ۔سرکاری اداروں میں نا انصافیاں نئی بات نہیں پی ڈی اے حکام نے کس فارمولے کے تحت اور کیوں متعلقہ سکیل کی بجائے کم سکیل دیا اور ایک جیسے کام کرنے والوں کے سکیل الگ الگ کیوں رکھے اس کی کوئی تکنیکی وجہ ہوگی وگرنہ کسی ملازم کو اس کے کام کی نوعیت اور عہدے کے مطابق ہی سکیل دینا قانون کا تقاضا ہے۔پی ڈی اے حکام سے نظر ثانی کی گزارش ہے تاکہ غلط فہمی کا ازالہ ہو اور حقداروں کو ان کا حق ملے ملازمین کے پاس عدالت سے رجوع کا حق ہے لیکن اس راستے کا انتخاب ادارے اور خود ملازمین کیلئے بہتر نہیں۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں