Daily Mashriq

کھیلو نہ آگ سے

کھیلو نہ آگ سے

ہم اس کرہ ارض پر جہاں کہیں بھی ہوں وہاں جس سمت سے سورج کو طلوع ہوتا دیکھتے ہیں اسے مشرق کہ دیتے ہیں

کھول آنکھ، زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضاء دیکھ

مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

گویا صبح دم سورج کے ابھر نے کی سمت مشرق ہے اور اگر ہم مشرق کی جانب منہ کرکے کھڑے ہوجائیں تو ہماری پیٹھ مغرب کی جانب ہو گی یا مشرق کی جانب منہ کر نے سے ہماری پیٹھ جس جانب ہوگی اسے ہم مغرب کہیں گے اور اگر ہم مشرق ہی کی طرف منہ کرکے کھڑے رہیں تو ہمارے بائیں جانب والی سمت شمال کہلائے گی اور ہم اپنے دائیں جانب والی سمت کو جنوب کہیں گے۔ کرہ ارض کی یہ چار سمتیں معلوم کرنے کے بعد بات ختم نہیں ہوتی ہم مشرق اور شمال کے درمیان والی سمت یا جگہ کو شمال مشرق کہتے ہیں اور اسی طرح جنوب اور مشرق کے بیچوں بیچ کے مقام کا تعین کرتے وقت اسے جنوب مشرق کا نام دیتے ہیں اور بعینہ جنوب مغرب اور شمال مغرب کا تعین کرلیتے ہیں۔ شمال مشرق اور جنوب مشرق کے علاوہ شمال مغرب اور جنوب مغرب بشمول شرق و غرب کوہم مختصر مگر جامع الفاظ میں مشرقین و مغربین بھی کہہ دیتے ہیں اور کلام مجید فرقان حمید کی تلاوت کرتے وقت مالک کن فیکون کو رب المشرقین و المغربین ہونے کا اقرار کرتے ہیں۔ اور اسے زمین کے گول ہونے کی قرآنی دلیل سمجھتے ہیں۔ اگر ہمارے ملک پاکستان کے جنوب میں بحر ہند ہے تو اس کے شمال مشرق میں چین ہے تو مغرب میں افغانستان اور ایران ہیںہے جب کہ اس کے مشرق میں ظلمت کدہ بھارت پایا جاتا ہے۔ اسے ہم اپنے ملک کا حدود اربعہ بھی کہتے ہیں۔ جس کا تعین ہم ورلڈ اٹلس یا دنیا کے نقشے میں اپنے ملک کو معیار بنا کر کرتے ہیں۔ گلیلیو نے جب زمین کے گول ہونے کا نظریہ پیش کیا تھا تو اس کو سچ کہنے کی پاداش میں گرفتار کرلیا گیا۔ اوراس کی اس قدر سرزنش کی گئی کہ اسے اپنے نظریہ کی نفی کرنی پڑی اور ایک عوامی اجتماع کے جم غفیر میں اس بات کا اقرار کرنا پڑا کہ’’ یہ غلط ہے کہ زمین گول ہے بلکہ وہ بات صحیح ہے جو انجیل مقدس میں لکھی ہوئی ہے۔‘‘ بہت مشکل ہے اس دنیا میں سچ کہنا۔ سقراط نے سچ کہا تھا تو اسے زہر کاپیالہ پینا پڑا، منصور سچ کہہ کر دار پر لٹک گیا تھا اس ہی لئے۔مرزا محمود سرحدی پکار اٹھے کہ

جھوٹ کہتا ہوں اور بے کھٹکے

سچ کہہ کر کون دار پہ لٹکے

گلیلیو نے اپنے کہے ہوئے سچ کو جھٹلا کر اپنے آپ کو دار پر لٹکنے سے بچالیا۔ لیکن وہ جو کہتے ہیں کہ سچ کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ وقت نے ثابت کردیا کہ گلیلیو سچ کہتا تھا کہ زمین گول ہے۔ زمین کے گول ہونے کے نظریہ کو ثابت کرنے کے لئے کرسٹوفر کو لمبس نے مخالف سمت سفر کرکے ہندوستان پہنچنے کی کوشش کی لیکن وہ ہندوستان پہنچنے کی بجائے ایسی جگہ پہنچ گیا جسے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کہتے ہیں۔ اگر ہم اپنے ملک کے جنوب کی جانب بڑھنا شروع کریں اور مسلسل بڑھتے رہیں تو ہم زمین کا گول چکر لگا کر شمال کی جانب سے ایک بار پھر اپنے ملک پاکستان میں پہنچ جا ئیں گے اور اگر ہم رکنے کی بجائے ایک ہی سیدھ میں آگے ہی آگے بڑھتے رہیں تو ایک بار پھر جنوب کی جانب محو سفر ہوجائیں گے جسے ہم جنوب زے جنوب کی جانب بڑھتے رہنے یا محو سفر رہنے کا سلسلہ کہہ سکیں گے۔ ہے نا یہ دلچسپ بات جس کو اجاگر کرنے کے لئے آج 12 ستمبر کو پاکستان سمیت ساری دنیا میں جنوب سے جنوب کے تعاون کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ جس کا مقصد جنوب سے جنوب کی جانب جتنی ترقی پذیر قومیں آباد ہیں یا جتنے ترقی پذیر ممالک پائے جاتے ہے ان کو ترقی کے سفر پر گامزن رکھنے کے لئے ان کی بھر پور مدد کرنی ہے۔ ایک حوالے کے مطابق پاک چین راہداری منصوبہ جسے سی پیک کے نام سے بھی یاد کیا جارہا اس ہی سلسلہ کی ایک کڑی بھی ہے اور جنوب سے جنوب کے تعاون کے اقوام متحدہ کے عالمی دن کے موضوع کی ایک بہترین مثال بھی ہے، جسکا ثمر پاکستان کے علاوہ دیگر ترقی پذیر ممالک بھی حاصل کرسکیں گے

ہیں جہاں میں وہی لوگ اچھے

آتے ہیں جو کام دوسروں کے

کے مصداق تعمیر و ترقی کے کسی کام میں کسی قوم کا تعاون کرنا ایک نیک عمل ہے اورجو لوگ نیکی کا کام کرتے ہیں وہ صرف اس نیکی یا تعاون کے مستحق لوگوں یا قوموں کے ساتھ ، (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں