Daily Mashriq

بھارت کی کم ظرفی اور سری لنکا کی اعلیٰ ظرفی

بھارت کی کم ظرفی اور سری لنکا کی اعلیٰ ظرفی

کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ آپ سوچتے کچھ ہیں،لکھنا کچھ چاہتے ہیں مگر اچانک صورتحال میں ایسی تبدیلی واقع ہوجاتی ہے کہ ارادہ بدل جاتا ہے،میں بھی آج پاکستان کی جانب سے بھارت کے صدر کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہ دیئے جانے اور اسی حوالے سے بھارتی طیاروں پر فضائی حدود کی مستقل بندش( جو ابھی تک نہیں ہوسکی) کے ضمن میں 1971ء میں بھارتی حکومت کے پاکستانی طیاروں کی بھارتی فضائوں میں اڑنے کی بندش پر اظہار خیال کرنا چاہ رہا تھا کہ وفاقی وزیرسائنس وٹیکنالوجی فواد چوہدری کے ایک ٹویٹ نے مجھے گو مگو کی کیفیت سے دوچار کردیا،اگرچہ یہ ایسی صورتحال بھی نہیں تھی کہ وہ شاعر نے کہا ہے کہ

ارادے باندھتا ہوں،سوچتا ہوں،توڑدیتا ہوں

ہیں ایسا نہ ہو جائے،کہیں ویسا نہ ہوجائے

اس لیئے کہ پاکستانی فضائی حدود کی بندش کا معاملہ ابھی برقرار بھی ہے اور وہ اس بات کا بھی متقاضی ہے کہ اس پر تفصیل سے لکھا جائے یعنی ایک کالم میں اسے سمیٹا نہیں جا سکتا،اور ممکن ہے کہ کم از کم دو کالم یا پھرتین کالموں میں اسے بیان کیاجائے،جبکہ یہ معاملہ تازہ بھی ہے اور فوری توجہ کا طالب بھی،یعنی فواد چوہدری نے جس مسئلے کی جانب اشارہ کیا ہے اس سے بھی اگرچہ بھارت ہی کا تعلق ہے،مگر ایسا کہ بھارتی بحیثیت ایک قوم جس طرح اپنی کم ظرفی ایک عرصے سے ظاہر کر رہے ہیں یہ تازہ مسئلہ اس کی من حیث القوم انتہائی ڈھٹائی ،بے شرمی اور پست ترین کم ظرفی کا شاہکار دکھائی دیتا ہے،کیونکہ پاکستان کے ساتھ دشمنی کو بھارت نے سیاسی سطح سے کہیں اوپر اٹھائے ہوئے دیگر شعبوں یعنی شوبز اور کھیلوں کے میدانوں تک توسیع دیدی ہے اور جہاں پاکستانی فنکاروں کے ساتھ بغض وعناد کو بڑھاوا دیا ہے وہاں کھیلوں کے شعبے کو بھی نہیں بخشااور اس عالمی سبق کو بھی پس پشت ڈال دیا ہے جسے سپورٹس مین سپرٹ کانام دیا جاتا ہے،اس لیئے اگر صورتحال کو جون ایلیاء کے الفاظ میں پرکھا جائے تو کچھ ایسا غلط بھی نہیں کہ

ہے سیاست سے تعلق تو فقط اتنا ہے

کوئی کم ظرف مرے شہر کا سلطان نہ ہو

بھارت پاکستان دشمنی میں اس حد تک جا چکا ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو آئی پی ایل سے نکال کر اپنی کم ظرفی کااظہار کیا،چند برس پہلے لاہور میں پاکستان اور سری لنکا کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان کھیلے جانے والے کرکٹ میچ اور سیریز کو ناکام بنانے کیلئے دہشت گردانہ حملہ کروایا اور اس کے ساتھ ہی پاکستان پر دہشت گردی کے لگائے جانے والے الزامات کے حوالے سے منفی پروپیگنڈہ تیز کر کے پاکستان کی سرزمین غیر ملکی کھلاڑیوں کیلئے خطرناک قرار دیتے ہوئے دنیا کی مختلف کرکٹ ٹیموں کو پاکستان آنے سے روکنے کی جو حکمت عملی(سازش) اختیار کی اس میں کامیاب ہوتے ہوئے پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کی،جبکہ آئی سی سی میں پاکستان کے ساتھ ٹیسٹ ،ون ڈے اور ٹی 20 میچز کی سیریز پر اتفاق رائے کرنے کے باوجود پاکستان کو لال جھنڈی دکھائی اور پاکستان کی بسیار کوشش کے باوجود ٹس سے مس نہ ہوا، نہ کھیل کے میدان سجانے پر تیار ہوا نہ پاکستان کو پہنچنے والے مالی نقصان کا ازالہ کیا جبکہ آئی سی سی کے حکام بھارت کے سامنے اتنے بے بس ہیں کہ وہ پاکستان کے ساتھ روا رکھے جانے والے اس بھارتی سلوک پر ایک لفظ تک ادا کرنے کو تیار نہیں ہیںاور جہاں تک پاکستان کرکٹ بورڈ کا مسئلہ ہے تو بقول شاعر

ایسی فضا کے قہر میں،ایسی ہوا کے زہر میں

زندہ ہیں ایسے شہر میں،اور کمال کیا کریں

پاکستان میں کرکٹ کے میدان ویران ہوتے چلے گئے،کہ دنیا کا کوئی کھلاڑی پاکستان آنے کو تیار نہیں تھا،تاہم یہ نجم سیٹھی کی حکمت عملی تھی کہ انہوں نے پاکستان میں کرکٹ کو مرنے نہیں دیا اور اپنی ٹیم کومختلف ملکوں کے ساتھ یا تو ان ہی کے ممالک میں یا پھر دوبئی ،شارجہ کے گرائونڈز میں میچز کھلوا کر یہ سلسلہ جاری رکھا اور پھر آہستہ آہستہ آئی پی ایل کے مقابلے میں پاکستان سپر لیگ کی بنیاد رکھ کر بھارتی کرکٹ بورڈ کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ مارنے شروع کردیئے، بھارتیوں کے پیٹ میں اس وقت مروڑاٹھنے لگے جب پی ایس ایل کے اگلے سیزن کے سیمی فائنل اور فائنل میچز کا انعقاد پاکستان میں کیا گیا جن میں محدودتعداد میں ہی سہی غیر ملکی کھلاڑیوں کی تعداد میںمزید اضافہ ہوا،جونہ صرف پاکستان کے سیکورٹی اداروں کی بہترین کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے بلکہ جو پودا نجم سیٹھی نے لگایا تھا اسے تناور درخت بننے میں زیادہ دیر نہیں لگتی یہ صورتحال بھلا بھارت ٹھنڈے پیٹوں کیسے برداشت کرسکتا تھا چنانچہ تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ بقول وزیرسائنس وٹیکنا لوجی (بذریعہ ٹویٹ) سری لنکا کی ٹیم کے جن10سینئر کھلاڑیوں نے پاکستان اور سری لنکا کے مابین پاکستان میں کرکٹ کھیلنے سے انکار کیا ہے اس کے پیچھے پاکستان میں کھلاڑیوں کو سیکورٹی کے حوالے سے کوئی مسئلہ درپیش نہیں کہ سری لنکن سیکورٹی حکام نے کراچی اور لاہور کا دورہ کر کے تمام سیکورٹی معاملات کو چیک کرنے کے بعد ہی سری لنکن کرکٹ بورڈ کو اوکے سگنل دے دیا ہے،بلکہ کھلاڑیوں کے انکار کی وجہ آئی پی ایل ہے یعنی بھارتی کرکٹ حکام نے سری لنکا کے کھلاڑیوںکو دھمکی دی ہے کہ اگر وہ پاکستان میں کرکٹ کھیلنے جائیں گے تو خود کو انڈین پریمیئر لیگ سے علیحدہ سمجھیں، (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں