Daily Mashriq

پاکستان نژاد برطانوی ارب پتی شخصیت کا ہاؤس آف لارڈز کیلئے تقرر

پاکستان نژاد برطانوی ارب پتی شخصیت کا ہاؤس آف لارڈز کیلئے تقرر

پاکستانی نژاد مشہور برطانوی کاروباری شخصیت ضمیر چوہدری کو رواں ہفتے سابق برطانوی وزیراعظم تھریسامے کی اعزازی فہرست میں شامل کرلیا گیا، جس میں 57 شہریوں کو پیراجز، نائٹ ہوڈز اور دیگر اعزازوں سے نوازا گیا۔

تھریسامے کے اعزازات ملکہ برطانیہ نے سبکدوش ہونے والی وزیراعظم کی درخواست پر دیے۔

اس حوالے سے ایک بیان میں ضمیر چوہدری نے اس ایوارڈ کو 'ایک بہت بڑا اعزاز' قرار دیا اور کہا کہ 'میں بہت شکرگزار ہوں کہ مجھے ہاؤس آف لارڈز کے لیے مقرر کیا گیا، میں نے ہمیشہ برطانیہ کو موقع کی سرزمین سمجھا ہے اور میں ہمارے عظیم ملک کی شراکت میں پیش پیش رہوں گا'۔

ضمیر چوہدری کی بات کی جائے تو وہ بیسٹ وے گروپ کے سی ای او ہیں، اس ہول سیل سلطنیت جس کا کاروبار اندازاً ساڑھے 3 ارب پاؤنڈ ہیں اور یہاں افرادی قوت کی تعداد 34 ہزار ہے۔

پاکستانی نژاد کاروباری شخصیت کنزرویٹو فرینڈز آف پاکستان (سی ایف او پی) کے چیئرمین بھی ہیں، یہ تنظیم برطانیہ کی کنزرویٹو پارٹی کے پاکستان اور برطانیہ میں موجود پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کے لیے کوشاں ہے۔

بیسٹ وے گروپ کو دیکھیں تو وہ پاکستان میں بیسٹ وے سیمنٹ لمیٹڈ کے مالک ہیں اور یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ (یو بی ایل) میں کنٹرولنگ شیئر بھی رکھتے ہیں۔

برطانیہ میں لائف پیئرز کا تقرر لائف پیئرز ایکٹ 1958 کے تحت کی جاتی ہے اور یہ تقرر پانے والے ہاؤس آف لارڈز میں نشستوں کے حقدار ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ 2016 میں ضمیر چوہدری کو ملکہ برطانیہ نے 2016 کی سال نو کی اعزازی فہرست کے حصے کے طور پر کمانڈر آف دی آرڈر آف دی برٹش ایمپائر (سی بی ای) ایوارڈ سے نوازا تھا۔

اس بیان میں جس میں ضمیر چوہدری کو 'پاکستان میں ایک دور دراز گاؤں میں شائستانہ انداز سے آغاز' کرنے والے کے طور پر بیان کیا گیا، اس میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ تقرر ان کی برطانوی مقامی اور غیرملکی تجارت سمیت فلاحی کاموں میں ان کے تعاون کی ایک شناخت ہے۔

ضمیر چوہدری اور ان کے اہل خانہ کا تعلق راولپنڈی کے گوجر خان سے ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ 'انہیں باقاعدگی سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ لندن اور مغربی مڈلینڈز کے میئروں اور نجی سرمایہ کاروں سمیت دونوں ممالک کے سرکای حکام کو پاکستان اور برطانیہ کے نجی سرکاری دوروں کی سہولت فراہم کریں تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ برطانیہ اور پاکستان دونوں کس طرح تجارت اور سرمایہ کاری بڑھاسکتے ہیں

متعلقہ خبریں