Daily Mashriq


کلبھوشن کے معاملے پر بھارت دشمنی کی راہ پر

کلبھوشن کے معاملے پر بھارت دشمنی کی راہ پر

اپنے جاسوس کلبھوشن یادیوکی سزائے موت کے فیصلے پر بھارت کا پاک بھارت تعلقات کو دائو پر لگانے کا رویہ کسی اچنبھے کی بات نہیں بھارتی حکمرانوں کا طریقہ واردات ہی یہ رہا ہے کہ جب بھی ان کو اپنے عوام کی توجہ ہٹانا مقصود ہوتا ہے وہ پاکستان کے خلاف زہر اگلنے لگتے ہیں ۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج سفارتی زبان بھول کر دھمکی آمیز بیانات پر اتر آئی ہیں حالانکہ اس طرح کے حالات میں اگر کسی دوسرے رکن مملکت کی طرف سے کوئی غیر محتاط لب ولہجہ اختیار کیا بھی جائے تب بھی وزیر خارجہ اور وزارت خارجہ کا بیان ڈپلو میسی کے تقاضو ں کو پامال نہیں کرتا بلکہ سفارتی آداب کا خیال رکھا جاتا ہے ۔ پاک بھارت تعلقات کی جس خرابی کا سشما سوراج دھمکی دے رہی ہیں ان حالات میں جبکہ بھارت جاسو سی نیٹ ورک قائم کرکے سبوتاژ اور دہشت گردی کی کارروائیاں کرے اور دوسرے ملک میں دہشت گردی کی ہر بڑی واردات کے ڈانڈے بھارت سے ملیں تو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں، دوسری جانب بھارت مسلسل لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور نہتے سویلین افراد کو نشانہ بنانے سے باز نہیں آتا۔ ان حالات میں تعلقات کی خرابی کی دھمکی کی گنجائش کہاں رہ جاتی ہے اور پاکستان کو اس دھمکی سے فرق کیا پڑتا ہے۔ جہاں تک بھارتی جاسوس کی گرفتاری اور اس کی سزا کا سوال ہے ملکوں کے درمیان اس طرح کے معاملات ہوتے رہتے ہیں اور نہ ہی ہم نے چوڑیا ں پہن رکھی ہیں ۔ ایک ایسے وقت میں جب بھارت اس قسم کے رویئے کا مظاہرہ کر رہا ہے پاکستان کی جانب سے صبر و برداشت اور تحمل سے کام لیا جارہا ہے ۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے گزشتہ روز رسالپور میں پی اے ایف کے کیڈ ٹوں کی پاسنگ آئو ٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ خطے میں ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ مشیر برائے قومی سلامتی ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت ہمیشہ دشمن نہیں رہ سکتے اور تنازعات کے حل کے لیے دونوں ممالک کا آپس میں رابطہ ضروری ہے۔خطے میں بڑھتے ہوئے سٹریٹجک عدم توازن پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری بھارت کے ساتھ اپنے سٹریٹجک مفادات کے لیے مسئلہ کشمیر کو نظرانداز کررہی ہے ناصر خان جنجوعہ نے امید ظاہر کی کہ بین الاقوامی برادری اخلاقیات اور انسانی حقوق کا ساتھ دے انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھارت اور پاکستان کے درمیان امریکی ثالثی کی پیشکش کا خیرمقدم کیا تھا تاہم انڈیا نے یہ پیشکش مسترد کردی۔ مشیر قومی سلامتی کے مطابق ایک جانب بھارت کشمیر کو دوطرفہ مسئلہ قرار دیتا ہے مگر مذاکرات سے انکار کرکے اس کی اہمیت نظرانداز کردیتا ہے۔دوسری جانب اس طرح کی گیڈ ربھبھکیوں کا مسکت جواب دینا بھی قومی سلامتی کا تقاضا اور مجبوری ہے ۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارتی وزیر خارجہ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کرانے والے اور پاکستانی سا لمیت کے خلاف کام کرنے والے خواہ ان کا تعلق سرحد پار سے ہو یا پاکستان کے اندر سے واضح پیغام ہے کہ ان کے ساتھ رعایت نہیں ہوگی ۔ کلبھوشن کا معاملہ اتنا اہم نہیں کہ اسے زندگی اور موت کا مسئلہ بنا دیا جائے کلبھوشن ایک جاسوس تھے جن کی گرفتاری کے ساتھ ہی ان کا سارا نیٹ ورک توڑ دیا گیا ہوگا اور نجانے اس نیٹ ورک کے کتنے مزید افراد گرفتار ہوئے ہوں گے اس کا کچھ علم نہیں البتہ اس کا اندازہ ضرور ہے کلبھوشن پہلے جاسوس نہیں جو گرفتار ہوا اس سے پہلے درجنوں جاسوسوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے ان میں سے بعض کو رہا بھی کیا جا چکا ہے اور کچھ کی موت ہی ان کی رہائی و واپسی کا سبب بنی ۔ کلبھوشن کو فی الوقت سزائے موت ہوئی ہے ابھی اپیل اور اس پر فیصلوں کا وقت باقی ہے فی الوقت ان کی پھانسی کا اعلان ہوا ہے اس پر عملدر آمد میں ابھی وقت باقی ہے ۔بھارت کی جانب سے اس طرح کا رویہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے ہی زمرے میں آتا ہے ۔ ہمارے تئیں اس سے قطع نظر کہ کلبھوشن کی سزائے موت کے فیصلے پر عملدر آمد کی نوعیت کیا ہوتی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت کی اس طرح کی مساعی کو ناممکن بنانے پر توجہ دی جائے ان کے جو باقی ایجنٹ اور جاسوس مختلف بھیس میں سرگرم عمل ہوں گے ان کا صفایا کرنے کو ترجیح بنانا ضروری ہے ۔اپنے ملک میں ایسے حالات اور مواقع کو معدوم بنادیا جائے کہ ماہرسے ماہر جاسوسوں کو بھی ایسے مواقع نہ ملیں جس کا وہ فائدہ اٹھا سکیں ۔ ہمارے تئیں کسی جاسوس کو پکڑ نے سے زیادہ اہم امر یہ ہونا چاہیئے کہ ہمارے عوام مطمئن ہوں ہر ادارہ اپنے دائرہ کار میں رہ کر عوامی فلاح اور ملکی ترقی کیلئے خدمات انجام دے ۔ بھارت کو چاہیئے کہ وہ دشمنی کا راستہ ترک کر کے خطے کے امن واستحکام میں اپنا کردار ادا کرے۔ دشمنی کا راستہ تباہی کی طرف لے جاتا ہے اسے ترک کر کے اچھے ہمسایوں کی طرح رہنے ہی میں بھارت و پاکستان اور اس پورے خطے کی بھلائی ہے ۔

متعلقہ خبریں