Daily Mashriq


مدارس و این جی اوز کا آڈٹ

مدارس و این جی اوز کا آڈٹ

تمام این جی اوز ، مدارس اور تنظیموں کا مکمل آڈٹ کرانے اور ان کو چند وں اور دیگر آمدنی کا الگ الگ ریکارڈ رکھنے اور سالانہ تجدید کرانے کاپا بند بنانے اور خلاف ورزی کی صورت میں قید و جر مانہ یا دونوں سزائیں مقرر کرنے کا اقدام ان کے معاملات کو قانون کے دائرے میں لانے کی اچھی کوشش ہے ۔ کسی بھی این جی او مدرسہ یا سو سائٹی کے پتے کی تبدیلی رجسٹرار کی منظوری کے بغیر نہ ہونے کا عمل بھی سنجیدہ معاملہ ہے جس کی ضرورت ایک عرصے سے محسوس کی جارہی تھی ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ صوبے میں اس طرح کے معاملات سے پیدا ہونے والی شکایات اور مشکلات کا خاصی تاخیر سے نوٹس لیا گیا۔ بہر حال اس ضمن میں قانون سازی کے بعد محولہ شکایات کا ازالہ ممکن ہوگا اگر چہ بظاہر صوبے میں مدارس کے حوالے سے اس کی ضرورت کا تاثر ملتا ہے لیکن درحقیقت آنکھوں سے اوجھل این جی اوز جس طرح کے معاملات چلا رہی تھی اس سے نہ صرف ملکی قوانین کی خلاف ورزی اور معاشرے کو ان کے حوالے سے شکایات تھیں بلکہ این جی اوز کی آڑ میں ملکی سلامتی سے کھیلنے کی بھی مساعی کوئی راز کی بات نہیں لیکن بہر حال چند ایک اداروں کے فعل کو تمام این جی اوز پر منطبق کرنا انصاف نہیں ۔ساتھ ہی مدارس کا کسی نظم اور ضابطے کے بغیر قیام اور ان کے معاملات آزادی سے چلانے کی بھی گنجائش نہیں ہونی چاہیئے۔ مختصراً این جی اوز ہوں یا مدارس یا پھر کوئی سو سائٹی ان کیلئے وقت اور حالات کے مطابق قوانین بننے چاہئیں ۔ موجودہ قوانین میں خامیاں دور کرکے ان کو بہتر اور حالات کے مطابق بنایا جائے اگر کسی این جی او اور مدرسے کے منتظمین کے خلاف قانون کوئی عزائم نہیں اور ان کا ذریعہ آمدن قانون کے مطابق ہے تو کسی کو بھی ان کے حسابات کے آڈٹ اور ذریعہ آمدن کے جائز ے اور تصدیق پر اعتراض نہیں ہونا چاہیئے ۔ مدارس کے حوالے سے خاص طور پر جو غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں محولہ قانون پر عملدر آمد کے بعد ان کو کلین چٹ مل جائے گی اور خواہ مخواہ کے پرو پیگنڈے کا موقع باقی نہیں رہے گا ۔

اس حمام میں سب ننگے ہیں

خیبر پختونخوا اسمبلی میں کرپشن الزامات اور احتساب کے معاملات پر بحث و مباحثہ سے قطع نظر صوبائی وزیر اور حکومتی ترجمان شاہ فرمان کا سیاستدانوں کی کرپشن اور احتساب اداروں میں چلنے والے مقدمات کو پنڈورہ باکس کھولنے کے مترادف اور اس سے اجتناب کا مشورہ تحریک انصاف کی بنیادی پالیسی کی خلاف ورزی ہے ۔ تحریک انصاف کا منشور و مدعا ہی کرپشن کو سامنے لانا اور بد عنوان عناصر کو کٹہرے میں لا کھڑا کرنا ہے لیکن اس بیان سے اس سے اجتناب کا پہلو نظر آتا ہے جسے پر دے میں رہنے دو اور پردہ ڈالے رکھو کے زمرے میں شمارکیا جا سکتا ہے یا پھر اسے دوسروں پرا نگلیاں اٹھا نے سے قبل اپنے گریبان میں جھانک کر خاموش ہونے سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اس سے یہ تاثر حقیقت کا مظہر ثابت ہوتا ہے کہ اس حمام میں واقعی سب ننگے ہیں۔ خو د تحریک انصاف والوں کا دامن بھی صاف نہیں گو کہ ابھی تو وہ انکار ی ہیں لیکن اقتدار سے علیحدگی کے بعد کیا سامنے آتا ہے اس بارے وثوق سے تو کچھ کہنا مشکل ہے لیکن قیاس کیا جا سکتا ہے کہ صورتحال معمول سے زیادہ مختلف نہیں ہوگی ۔ جہاں تک الزامات کا تعلق ہے وہ اب بھی لگ رہے ہیں اور جن شخصیات اور عہد ید اروں پر الزام لگے خود تحریک انصاف کے مطالبات اور فارمولے کی رو سے اس شخصیت کو مستعفی ہو جانا چاہیئے۔ مطالبے اور عمل کرنے میں فرق کو قول و فعل کا تضاد قرار دیا جائے تو اسے تسلیم کیا جانا چاہیئے ۔ مگر اس پر کوئی تیار نہیں ۔ صوبائی وزیر شاہ فرمان کا یہ صوبے کے عوام پر احسان ہوگا کہ ان کے علم میں بد عنوانی کی جو داستانیں ہیں وہ سامنے لا کر بد عنوان عناصر کے چہرے بے نقاب کریں خالی دھمکی سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں ۔

ٹمبرمافیا کو لگام دینے کی ضرورت

وادی کالام میں ٹمبر مافیا کی جانب سے درختوں کی بے دریغ کٹائی کی خبر کا سختی سے نوٹس لیا جانا چاہیئے ۔ہمارے مینگورہ بیورو کی رپورٹ کے مطابق قیمتی لکڑی دیار کی بے دریغ کٹائی کرنے والے عناصر کو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔ ان کیخلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے جس کے خلاف اے این پی کے رکن نے صوبائی اسمبلی میں قرارداد جمع کرانے کا اعلان کیا ہے اس سے اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ معاملہ کس قدر سنگین صورت اختیار کر گیا ہے کہ ایک صوبائی اسمبلی کے ممبر کو صورتحال کی نشاندہی کیلئے اسمبلی میں قرارداد لانے کا سہارا لینا پڑ گیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور جنگلات کے صوبائی وزیر کو ٹمبر مافیا کی سرگرمیوں کی روک تھام میں غفلت کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے اور ٹمبر مافیا کو لگام دینے میں مزید تاخیر کا مظاہرہ نہیں کیا جانا چاہیئے ۔

متعلقہ خبریں