Daily Mashriq


کلبھوشن …محض ایک کارندہ

کلبھوشن …محض ایک کارندہ

کلبھوشن سدھیر یادیو اپنے اعترافات اور تحقیقات کی روشنی میں بھارتی بحریہ کا ایک سینئر افسر ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی 'را' کا ایک اہم ایجنٹ ہے ۔ پاکستان میں تخریب کاری' دہشت گردی' علیحدگی پسندوں اور باغیوں کو منظم کرنے اور انہیں فنڈز فراہم کرنے کا کام کرتا رہا ہے۔ اس کی اہم ذمہ داری گوادر بندرگاہ کو ناکام بنانے کے لیے خفیہ کارروائیاں کرنا اور پاکستان کے ساحلی علاقوں کی جاسوسی کرنا تھی۔بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کے کہنے کے مطابق وہ بھارت کا بیٹا ہے اور بھارت اسے بچانے کے لیے ہر حد تک جائے گا۔ اس کی سزائے موت کے فیصلے کے بعد میڈیا میں جتنی اہمیت اسے دی جا رہی ہے اس سے لگتا ہے کہ وہ بہت ہی اہم شخص ہے۔وہ ہے۔ لیکن حقیقت میں وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسلسل غیر اعلانیہ جنگ میں کام کرنے والا ایک کارندہ ہے۔ اسے سرد جنگ کہہ لیجئے ' فورتھ جنریشن جنگ کہہ لیجئے یہ جنگ ایک عرصے سے جاری ہے۔ اس کا مقصد پاکستان کو اندر سے زخمی کرنا اور نڈھال کرنا ہے۔ کلبھوشن یادیو اس جنگ کا ایک کارندہ ہے۔ اور کتنے ایسے جاسوس دہشت گرد ' تخریب کار جاسوس اور سازشی ہوں گے جو ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے اور جن کے اعترافی بیانات نہیں آئے۔ پاکستان کو اندر سے زخمی کرنے ' نڈھال کرنے اور غیر مستحکم کرنے پر مامور یہ کارندے جتنے بھی ہوں یہ بھی اسی جنگ کا محض ایک حصہ ہیں۔ خواہش ہو بھی تو اس جنگ کا مقصد پاکستان کو فوج کشی کے ذریعہ فتح کرنا نہیں ہو سکتا کیونکہ فوجی اعتبار سے پاکستان کا دفاع مضبوط ہے۔ اعداد وشمار کے فرق کے باوجود پاک فوج کے پاس وہ صلاحیت' مہارت اور عزم ہے کہ بھارت کی ممکنہ جارحیت شروع ہونے سے پہلے ہی ایسی ہزیمت سے دوچار ہو جائے گی جس کا ازالہ عشروں تک نہیں ہو پائے گا۔ بھارت کی بڑے پیمانے پر اسلحہ بندی اور فوج کی اکثریت کسی کام نہ آسکے گی۔اس جنگ کا سب سے بڑا محاذ سفارت کاری کے میدان میں ہے۔ بھارت ایک عرصے سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے میں مصروف ہے۔ پاکستان پر مسلسل دہشت گردی کی سرپرستی کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔ اس الزام کی حقیقت کیا ہے اس پرپاکستان کے سفارت کار اور دانشور توجہ نہیں دیتے۔ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ دنیا بھر میں پاکستان دہشت گردی کا سب سے زیادہ نشانہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ساٹھ ہزار سویلین اور فوجی شہید ہو چکے ہیں ۔ پاکستان کی معیشت کو اربوں کا نقصان پہنچ چکا ہے ۔ معاشی ترقی کی رفتار روز بروز سست ہوتی جا رہی ہے۔ اس کے باوجود پاکستانیوں ہی کو آج ساری دنیا میں دہشت گرد سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان کے حکمران اس پراپیگنڈے کا جواب دینے کی بجائے معذرت خواہی کے رویے میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ بالعموم کہا جاتا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے کشیدگی دور کرنا چاہتا ہے ۔ دہشت گردی کے الزام پر خاموشی سے عالمی رائے عامہ کو یہ پیغام جاتا ہے کہ پاکستان اس الزام کو تسلیم کرتا ہے۔ پاکستان کے عوام کا اس صورت حال پر برانگیختہ ہونا لازمی امر ہے۔ انہیں مطمئن کرنے کے لیے کہا گیا کہ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے جو تخریب کاری اور دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہا ہے ان کے بارے میں حکومت پاکستان نے ایک مکمل ڈوزیئر تیار کر لیا ہے۔ لیکن وزیر اعظم نواز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے گئے تو انہوں نے وہاں محض کشمیریوں کی جدوجہد کی حقانیت پر زور دیا ' مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے جارحانہ قبضہ اور مظالم کو آشکار کرنے پر اتنا زور نہیں دیا اور پاکستان کا مقدمہ تو پیش ہی نہیں کیا جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ بھارت کی تخریب کارانہ کارروائیوں کے بارے میں ڈوزیئر وزیراعظم ساتھ لے کر گئے ہیں۔جنرل اسمبلی میں تقریر میں اس ڈوزیئر کا یا اس کے مندرجات کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔

یہ ڈوزیئر بتایا گیا کہ امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری کو پیش کیا گیا ہے۔ پھر خبر آئی کہ یہ ڈوزیئر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو پیش کر دیا گیا ہے۔ یہ دونوں اہم لوگ عدالتوں کے سربراہ نہیں تھے ۔ سفارت کار تھے وہ بھی ایسے جن کی سرکاری حیثیت کی مدت ختم ہونے والی تھی۔ یہ ڈوزئیر جنرل اسمبلی میں شریک مختلف ممالک کے مندوبین کو پیش نہیں کیا گیا۔ آخر اس کا مقصد یہی تھا کہ عالمی رائے عامہ کو بھارت کی امن پسندی کے دعوے کے پیچھے چھپا ہوا اس کا مجرم چہرہ دکھایا جائے۔ پاکستان کے ساحلی علاقوں کی جاسوسی ' علیحدگی پسندوں کو منظم کرنے اور فنڈز فراہم کرنے پر مامور بھارت کا تخریب کار جاسوس کلبھوشن یادیوگرفتار کر لیا گیا۔ اس نے ایسے اعترافات کیے جو بھارت کی پاکستان کو توڑنے کی سازش کو بے نقاب کرتے ہیں ۔ لیکن پاکستان کے سفارت کاروں نے بین الاقوامی کمیونٹی اور عالمی رائے عامہ کے سامنے وہ اعترافات پیش نہیں کیے۔ پاکستان کے مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز نے کچھ عرصہ پہلے بیان دیا کہ کلبھوشن کے خلاف پورے ثبوت اکٹھے نہیں کیے جا سکے ۔ کیا یہ اس کی گرفتاری اور اس کے ''فرائض'' کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش تھی۔ کلبھوشن کے اعترافات اور اس کے خلاف حاصل ہونے والے ثبوتوں کی بنا پر اسے عدالت نے موت کی سزا سنا دی ہے ۔ دنیا بھر میں جاسوس اور تخریب کار کی یہی سزا مروج ہے۔ لیکن کیا سرتاج عزیز کے لیے یہ ضروری نہیں ہو گیا کہ وہ اپنے منصب سے مستعفی ہو جائیں اور کلبھوشن کو ''ناکافی ثبوتوں'' کی بنا پر سنائی جانے والی سزاکے خلاف اس کا مقدمہ لڑیں۔ اس جنگ کا سب سے بڑا محاذ سارے ملک میں ہے۔ اس محاذ میں کامیابی کے لیے پاکستان فوج نے آپریشن ردالفساد شروع کر رکھا ہے۔ پاک فوج کی صلاحیت' عزم اور اس پر فخر و انحصار اپنی جگہ لیکن چھپے ہوئے دہشت گردوں کے سہولت کاروں ' ان کے معاونین اور ان کے سلیپنگ سیلز کے خاتمے کے لیے ہر پاکستانی کی اس محاذ میں شرکت لازمی ہے۔

متعلقہ خبریں