Daily Mashriq


خیبر پختونخواکے شعبہ تعلیم میں پیشرفت کا اعتراف

خیبر پختونخواکے شعبہ تعلیم میں پیشرفت کا اعتراف

پاکستان کے استحکام اور خوش حالی کے لیے تعلیم ایک مرکزی اہمیت کی حامل ہے۔ تعلیم ہی فطری ذہانت، تخلیقی صلاحیتوں اور قائدانہ جذبوں کے غیر دریافت شدہ ذخیروں کے قفل کھول سکتی ہے۔ ہم سب تسلیم کریں گے کہ کسی بھی ملک میں آبادی میں اضافہ، پانی کی قلت ، روزگار کے مواقع، جبری مشقت، کم خوراکی کے باعث کوتاہ قامت اور کم وزنی، زچگی کے دوران اموات، دہشت گردی، پولیو جیسے مسائل پر قابو پانے کے لیے منصوبہ بندی کرتے وقت سب سے پہلے کرنے والا کام جو تمام مسائل کا مجموعی حل ہے وہ تعلیم ہے۔ پاکستان کے آئین میں پانچ سے سولہ سال عمر کے ہر بچے کو حصولِ تعلیم کے ذرائع فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ یعنی آئین میں بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ تعلیم ہی انفرادی، خاندانی اور معاشرتی زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں لا سکتی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اس وقت بھی پاکستان میں دو کڑوڑ بیس لاکھ بچے اسکول جانے سے محروم ہیں۔ اسکول جانے سے محروم ہر بچہ اپنی زندگی بھر کے مواقع کھو دیتا ہے۔ یہ پاکستان کے لیے اپنے پاس موجود وسیع امکانات کا احساس نہ کرنے کے مترادف ہے۔ اس فطری ذہانت کو دریافت کرنے میں بہت بڑی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہاں ہم ان میں سے دو کا ذکر کرنا چاہیں گے۔پہلی آزمائش اسکول جانے والی عمر کے بچوں کی ایک بڑی تعداد کی موجودگی ہے جس کے باعث حکومت پر ان کے لیے اسکول، اساتذہ اور درسی کتب کا خاطرخواہ انتظام کرنے میں درپیش رکاوٹیں ہیں۔ آبادی میں اضافے کی بڑھتی ہوئی لہر کا سامنا کرنا جیسے وقت کے ساتھ ایک دوڑ ہے۔دوسری آزمائش ایسے بچوں کی خاصی بڑی تعداد کی موجودگی ہے جو سرے سے اسکول نہیں جاسکتے یا اسکول جانا برقرار نہیں رکھ سکتے۔

اپنے مقامِ رہائش، غربت، مذہب یا عقائد، نسل ، ثقافت، معذوری اور سب سے بڑھ کر اپنی صنف کے باعث یہ بچے اپنی تعلیم مکمل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ قابلِ رحم اپنی پیدائش سے ہی یا بعد میں جبری مشقت کا شکار ہونے والے بچے ہیں۔ ایسے بچے اینٹوں کے بھٹوں، زمینداروں کے کھیتوں، کپڑے کی ملوں یا گھریلو ملازمین کے طور پر کام کرتے ہیں۔ یا وہ جنہیں غلامی، کم عمری کی شادی یا اس سے بھی برے حالات کا شکار ہونا پڑ جائے۔ کاش کہ کوئی بھی بچہ یا بچی اپنے بچپن سے اس طرح محروم نہ ہو۔شعبہ تعلیم میں اصلاحات آسان ہونی چاہیں: اسکول تعمیر کریں؛ اساتذہ کی تربیت کریں؛ درسی کتب خرید کر فراہم کریں؛ بچوں کو کلاس روم میں بھیج دیں۔ پڑھائیں اور ان کا امتحان لیں۔ لیکن حقیقت میں یہ انتہائی دشوار ہے۔ خاص طور پر جب اوپر بیان کردہ مسائل کا سامنا بھی کر نا پڑ رہا ہو۔اہم ترین سوال اب بھی یہی ہے کہ تعلیم سے محروم اور غریب ترین بچوں تک کیسے رسائی حاصل کرکے انہیں اسکول بھیجا جائے؟ صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت کا شعبہ برائے ابتدائی اور ثانوی تعلیم ، برطانوی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (DFID)، آسٹریلوی حکومت اور یورپی یونین کے تعاون سے اسی مسئلے کو حل کرنے کی کوششوں میں مصروفِ عمل ہے۔

گزشتہ بدھ کے روز اسلام آباد میںشروع ہونے والے 'دی ایجوکیشن سیکٹر پلان' اور اس سے منسلک مالی امداد صوبے بھر میں معیاری تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانے میں انتہائی اہم اقدامات ہیں۔ اہم ترین نکتہ اس منصوبے کی تکمیل کے لیے درکار رقوم کا ضلعی سطح پر تعین ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے آئندہ مالی سال کے دوران تعلیم کی مد میں 139 بلین روپے مختص کیے ہیں۔ یہ 2013ء سے لے کر اب تک128 فیصد اضافہ ہے۔ اور2020 ء تک ہر سال اس مد میں16 فیصد اضافے کا اعلان ایک اہم ترجیح مانا جاسکتا ہے۔ یہ پہلی بار ہو اہے کہ پاکستان کی کسی صوبائی حکومت نے خود پر مالیاتی نظم و ضبط کی مرحلہ وار سطح عاید کی ہو۔صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے پچھلے چار سال کے دوران اعلیٰ معیارِ تعلیم کے حصول اور اسے برقرار رکھنے کے لیے قانون سازی اور انتظامات پر توجہ مرکوز کی ہے۔

متعلقہ کار آمد تکنیکی معلومات اور تجربات کا مسلسل استعمال اسکولوں میں بچوں کے داخلے، پڑھانے کے معیار میں اضافہ اور طویل المدت بہتر نتائج کے لیے بچوں میں تعلیم کے بہتر نتائج کو یقینی بنائے گا۔ یہ پانچ سالہ منصوبہ ان تین منصوبوں میں سے ایک ہے جو 2030ء تک اس صوبے کو اس مقام تک پہنچائے گا جہاں پاکستان سب کے لیے معیاری تعلیم کے وعدے کو یقینی بناتے ہوئے 'سسٹین ایبل ڈیویلپمنٹ گول 4' کی تکمیل کا عزم رکھتا ہے۔ یہ منصوبہ خیبر پختونخواکی حکومت کے اس مقصد کے حصول میں مضبوط بنیاد کی طرح ہے۔ان مقاصد کے حصول کی جانب گامزن راستہ ابھی طویل ضرور ہے لیکن پیشہ ور اساتذہ کی بڑھتی ہوئی تعداد ، صوبائی انتظامیہ کی تمام تر جدوجہد ، خیبر پختونخوا کی شعبہ تعلیم میں منصوبہ بندی اور اس صوبہ کی آئندہ نسلوں اور شمال مغربی پاکستان میں خوش حالی اور استحکام کو یقینی بنانے والے وعدوں کے باعث بہر حال تسلیم کیے جانے کے قابل اقدامات ہیں۔

متعلقہ خبریں