Daily Mashriq


جمعیت کا تین روزہ اجتماع

جمعیت کا تین روزہ اجتماع

جہاں تک میری معلومات ہیں جمعیت علمائے اسلام کا قیام اکتوبر 1945ء میں عمل میں آیا تھا۔ اس اعتبار سے جمعیت علمائے اسلام کی صد سالہ تقریبات کا انعقاد سمجھ سے بالاتر ہے۔ البتہ آج سے تقریباً سو سال قبل علماء کی جس تنظیم کی بنیاد رکھی گئی تھی اُس کا نام جمعیت علمائے ہند تھا جو 22نومبر 1919کو بنی۔ پہلے صدر مفتی اعظم مولانا کفایت اللہ دہلوی تھے جو حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کے شاگرد ارجمند تھے۔ مولانا فضل الرحمن اور ان کی جماعت نے صد سالہ تقریبات کا انعقاد کرکے اگر جمعیت علمائے ہند سے اپنے تعلق کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے تو یہ تاریخ کے طالب علم کے لیے کافی تشویش کی بات ہے۔ جمعیت علمائے ہند کے مذہبی اکابرین کا احترام ملحوظِ خاطر ہے مگر تاریخی حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے پاکستان کے قیام کی مخالفت کی اور صرف مخالفت نہیں کی بلکہ پاکستان کے خلاف کانگریس کا ساتھ دیا۔ جمعیت کی اس روش کو دیکھ کر دیوبندی علماء کی ایک بڑی تعداد نے جمعیت کو الوداع کہا اور اپنے آپ کو جس نئے پلیٹ فارم پر متحد کیا اُس کا نام جمعیت علمائے اسلام تھا۔ مولانا شبیر احمد عثمانی اس کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ جن نمایاں اور سرکردہ دیوبندی علماء نے جمعیت علماء ہند سے بغاوت کی ان میں مولانا اشرف علی تھانوی ' مولانا شبیر احمد عثمانی' مولانا مظہرالدین اور دیوبند کے مفتی اعظم مفتی محمد شفیع شامل تھے۔ نظریہ پاکستان کی حمایت میں سرگرداں ان علماء کی کاوشیں لائق تحسین تھیںکیونکہ ان کی حمایت میسر نہ ہوتی تو مسلم لیگ پاکستان کا مقدمہ عامة الناس کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کرنے سے قاصر رہتی۔ پاکستان بننے کے بعد علماء جنہوں نے جمعیت الہند کے پلیٹ فارم سے پاکستان کی مخالفت کی تھی نے اپنے مؤقف سے رجوع کر لیا۔ یہ بات خوش آئند تھی چنانچہ ماضی دفن ہو گیا۔ سرحدی گاندھی کے پیروکار اگرچہ دیر سے سنبھلے مگر بتدریج وہ بھی پاکستان کے قومی دھارے میں مدغم ہو گئے۔ مولانا فضل الرحمن کے والد گرامی عز ت مآب مولانا مفتی محمود تو 1973کے آئین پر دستخط کرنے والوں میں شامل تھے۔ مولانا فضل الرحمن خود بھی بڑے فخر سے نظریہ پاکستان کی بات کرتے ہیں۔ خدا جانے یہ ان کے من میں کیسے آیا کہ وہ اپنا ناطہ اُس جمعیت علماء کے ساتھ جوڑ لیں جو اپنے کاندھوں پر پاکستان کی مخالفت کا بوجھ رکھتی ہے۔ جمعیت علمائے ہند وہ جماعت تھی جس نے قیام پاکستان کو ناکام بنانے کے لیے تمام حدیں پار کیں۔ قائد اعظم کی ذات گرامی پر تنقید اور ان کی ظاہری شخصیت کو نشانہ بنانا شاید اتنا سنگین عمل نہ تھا جتنا سنگین عمل جمعیت کے اکابرین کی جانب سے کانگریسی نیشنلزم کو درست ثابت کرنے کے لیے اسلامی تعلیمات کی غلط تشریحات کرنا تھا۔ آج جب جمعیت کے سٹیج پر کھڑے ہوکر امام کعبہ شیخ صالح بن محمد بن ابراہیم نے کہا کہ اسلام کی غلط تشریحات شدت پسندی پھیلانے کا مؤجب بن رہی ہیں تو میرے سامنے وہ وضاحتیں اور دلیلیں گھوم گئیں جو شیخ الہند مولانا حسین احمد مدنی نے دو قومی نظریہ کے ارتداد اور کانگریسی نیشنلزم کے حق میں دی تھیں۔ شیخ نے صریحاً لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ ان کا جملہ ''قومیں اوطان سے بنتی ہیں'' تاریخ کے اوراق میں آج بھی محفوظ ہے۔ یہ وہ جملہ تھا جس کی گرفت علامہ محمد اقبال کی جانب سے ہوئی تو شیخ الہند اپنی کہی ہوئی بات سے پیچھے ہٹ گئے۔ کہا میرا مقصد مسلمانوں کو ترغیب دینا نہ تھا۔ مگر جیسے ہی اقبال کی آنکھیں بند ہوئیں تو شیخ الہند نے وطنی قومیت پرپوری ایک کتاب لکھ ڈالی۔ مولانا حسین احمد مدنی کی اس جرأت کو نظرانداز نہ کیا گیا ' سید ابوالاعلیٰ مودی نے مولانا کے دلائل کو غلط ثابت کرنے کے لیے زبردست مضامین لکھے جو آج کتابی شکل میں ''مسلمان اور قومیت'' کی صورت میں موجود ہیں۔ جب مولانا فضل الرحمن صد سالہ تقریبات کا انعقاد کرکے اپنا ناطہ جمعیت علمائے ہند سے جوڑنے کی کوشش کریں گے تو لامحالہ سوال پیداہوگا کہ وطنیت کے باب میں مولانا کے اپنے نظریات کیا ہیں؟ اگر دیوبندی اکابرین سے نسبت اورتعلق جوڑنا مقصود تھا تو بہتر تھا کہ دیوبندی کانفرنس کے نام سے اجتماع منعقد کر لیا جاتا۔ کون اس حقیقت سے انکار کی جرأت کر سکتا ہے کہ دیوبند مدرسہ اور وہاں سے فارغ التحصیل علماء کا برصغیر میں اسلام کی سربلندی اور حفاظت میں نمایاں کر دار رہا ہے۔ آپ دیوبندی کانفرنس بلاتے اور انگریزوں کے خلاف علماء دیوبند کی جدوجہد کو سلام عقیدت پیش کرتے' ریشمی رومال تحریک کے بانی مولانا محمد حسن اور دیگر اسیران مالٹا کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے سے دیوبندی علماء کا جرأت مندانہ تصور اُجاگر ہوتا مگر یہ کیا کہ آپ نے اپنی نسبت اس ''جمعیت'' کے ساتھ وابستہ کر لی جس نے تقسیم ہند کی مخالف قوتوں کے سردار گاندھی جی کو ''مہاتما'' کا خطاب عنایت کیا تھا۔ جمعیت علمائے ہند نے 1919ء سے لے کر 1947تک جو سیاست کی اُس میں سے خلافت تحریک کو نکال کر باقی جو بچتا ہے وہ پاکستان مخالف پراپیگنڈہ اور دو قومی نظریہ کا ارتداد ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ مولانا فضل الرحمن نے یہ بوجھ اُٹھانے کی کوشش کیوں کی ہے؟ کہتے ہیں کہ مولانا کا کوئی قدم سوچے سمجھے بغیرنہیں اُٹھتا تو یہ قدم آخر کیسے اُٹھ گیا؟ کسی دوست اور ساتھی نے توجہ کیوں نہ دلائی کہ یہ ہم کیا کرنے جا رہے ہیں؟ کیا جمعیت کی صفوں میں آج کوئی شبیر احمد عثمانی اور مفتی شفیع جیسا نہیں ہے جو اصلاح کی ترغیب دینے والا اور بروقت آوازاُٹھانے والا ہو؟ میرا احساس ہے کہ مولانا فضل الرحمن پہلی مرتبہ بھُول چُوک میں قدم اُٹھا بیٹھے ہیں ورنہ الیکشن کے سال کیا وہ افورڈ کر سکتے تھے کہ جمعیت علمائے ہند سے ان کا تعلق ہدف تنقید بنے اور ریفرنڈم میں پاکستان کے حق میں ووٹ دینے والے صوبہ کے لوگ ماضی کریدنا اور کھنگالنا شروع کر دیں۔ بات اگر اُس رُخ پر چل نکلی تو صد سالہ تقریبات کا تین روزہ فقید المثال اجتماع سیاسی فائدہ دینے کی بجائے سیاسی تنزلی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں