Daily Mashriq


ڈنکی ڈیویلپمنٹ پروجکیٹ

ڈنکی ڈیویلپمنٹ پروجکیٹ

چین پاک اقتصادی راہداری کے کاروبار کو ترقی دینے کیلئے کچھ نہ کچھ خدو خال سامنے آگئے ہیں اور حکومت خیبر پختونخوا نے چینی حکومت کے ساتھ گدھوں کے کاروبار کے لئے ابتدائی بات چیت مکمل کرلی ہے ۔ اور اس حوالے سے تمام شرائط کو اسی مہینے چین میں ہونے والے ایک روڈ شو کے دوران حتمی شکل دی جائیگی ۔ یوں تو گدھا ہمارے ہاں کسی اہمیت کا حامل نہیں سمجھا جاتا ۔ لیکن یہ ہماری کوتا ہ نظری ہے کیونکہ گدھے سے خوب کام لیا جاتا ہے ۔ ہماری کا شتکار باربرادری کیلئے دیہات میں گدھے ہی استعمال کرتے ہیں ۔ دیہات میں گدھوں کے ذریعے مکان اور دیگر عمارات بنانے کے لئے ریت بجری ، مٹی اور دیگر اشیا کی ترسیل کی جاتی ہے اور گدھا گاڑی تو کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔ بہت سارے لوگوں کا اسی سے روزگار وابستہ ہے ۔

جب سے چینی ساختہ ''چنگ چی '' رکشوں نے سڑکوں پر قبضہ جمالیا ہے ۔ اور سواریوں کی نقل وحمل کے ساتھ ساتھ اشیائے خوردو نوش کی ترسیل اور کھپت سے منڈی تک سبزی اور دیگر اشیاء پہنچانے کا کام بھی انہی چنگ چی رکشوں نے سنبھالا ہے گدھا گاڑیوں کا کاروبار ضرور متاثر ہوا ہے ۔ اب جب کہ چین برآمد کرنے کے لئے گدھوں کی اہمیت و ضرورت بڑھ گئی ہے اس لئے گدھوں کی افزائش پر بھی توجہ دی جائیگی ۔ اس مقصد کے لئے ہانگ کانگ کی ایک کمپنی کے ساتھ باقاعدہ معاہدہ کے لیے بات چیت جاری ہے ۔ معاہدے کی تکمیل سے قبل حکومت خیبر پختونخوا نے سٹینبل ڈنکی ڈیو یلپمنٹ پروگرام کی داغ بیل ڈالی ہے ۔ اس پروگرام کے حوالے سے اس سے قبل بھی 2بار کو شش کی گئی ۔ مگر بیورو کریسی کے سرخ فیتے نے اسے آگے بڑھنے نہیں دیا۔ اگر چہ بظاہر یہ ایک مضحکہ خیز منصوبہ لگتا ہے اور سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس پر اس کا مذاق اڑایا جار ہا ہے ۔ محض اس لئے کہ گدھے ہمارے ہاں اچھے نہیں سمجھے جاتے اگر چہ یہ سب سے ذیادہ بوجھ اٹھانے والے بہ سخت جان جانور ہیں ۔ مگر اب یہ غریب فارمز کے لیے معقول آمدن کا ایک ذریعہ اور سبب بننے جارہا ہے ۔ پروگرام سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ پورے پاکستان میں اس وقت 4ملین گدھے موجود ہیں ۔جن میں 6لاکھ خیبر پختونخوا میں پائے جاتے ہیں یہاں اگر ڈنکی فارمنگ پر توجہ دی گئی تو یہاں کے فارمرز کا کاروبارچمک اٹھے گا ۔ اس حوالے سے یہ بھی کہا جار ہا ہے کہ گائے بھینس بھیڑ اور بکری کی نسبت گدھے کی طلب چین میں زیادہ ہے ۔ اس کی بڑی وجہ اس کا دودھ ہے ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کھوتی کا دودھ چین میں 6000روپے پاکستان کے حساب سے فی کلو فروخت ہو تا ہے اور یہ دودھ وہاں کی روایتی ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ گدھے کی کھال بھی بہت قیمتی ہے اور اس کے بنے جیکٹ 4سے 5لاکھ روپے میں فروخت ہوتے ہیں ۔ اس طرح گدھے کے بال بھی ضائع نہیں کیئے جاتے ۔ خیبرپختونخوا میں تقریباً 700خاندان گدھوں کی افزائش نسل کر رہے ہیں ۔ جبکہ صوبے میں 7ملین فارمرز جانور پالنے کی صنعت سے وابستہ ہیں ۔ ان کے لئے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ گدھوں کی فارمنگ پر توجہ دیں ۔ اس مقصد کیلئے پراجیکٹ کے تحت ڈ نکی فارمنگ کے لئے صوبے کے چارمختلف زونز میں مراکز قائم کیے جارہے ہیں جس کے لئے اراضی محکمہ حیوانات فراہم کرے گی ۔ اور اس پر عمارت کی تعمیر سمیت دیگر اخراجات ہانگ کانگ کی کمپنی برداشت کرے گی ۔

یہ مراکز پر چیز سنٹر کے طور پر کام کریں گے ۔ جبکہ فارمرز کو گدھوں کی افزائش نسل سے متعلق رہنمائی ، طبی مشورے اور دیگر سہولیات فراہم کیے جائینگے اس حوالے سے یہ بات بھی مد نظر رکھی جائیگی کہ یہاں گدھے کی نسل ختم نہ ہو ۔ بلکہ طلب اور رسد میں تو از ن برقرار رکھا جائیگا ۔ ابتدائی طور پرسالانہ80ہزار گدھے ایکسپورٹ کیئے جائیں گے اور یہ سلسلہ بتدریج بڑھ کر 2لاکھ سالانہ کیا جائیگا ۔ بہر حال سی پیک کے تناظر میں ایک موقع ہے جس سے اس صوبے کے کاشتکار اور زمیندار فائد ہ اٹھا سکتے ہیں ۔ اور آگے ان کے لئے مزید راستے بھی کھلیں گے ۔ وفاقی اور صوبائی حکومت اس حوالے سے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہیں اور نئے مواقع پیدا کیے جارہے ہیں ۔ جن سے استفادہ کر نے کی تیاری ہونی چاہیے ۔ ڈنکی ڈیویلپمنٹ کے منتظمین بہت پر امید ہیں اور انہیں توقع ہے کہ گدھو ں کی افزائش سے وابسطہ700خاندان نہ صرف خود خوشحال اور مطمئن رہیں گے بلکہ اب مزید لوگ بھی اس جانب راغب ہونگے ۔ ہاں اگر ہماری بیوروکریسی کا روایتی رویہ اس میں رکاوٹ نہ بنا اور انہوں نے روڑے اٹکا نے کی کوشش نہ کی اور فارمرز کی دلچسپی اور سرمایہ کاری بھی ضروری ہے ۔