Daily Mashriq


ملین ٹری منصوبے سے کھجور کے درختوں تک

ملین ٹری منصوبے سے کھجور کے درختوں تک

کچھ لوگ محض سیاسی مخالفت کی بنیاد پر نون لیگ کی حکومت کو شاہراہوں کی تعمیر پر ہدف تنقید بناتے ہیں۔ ہم ان کے اس روئیے کو ہر گز درست نہیں سمجھتے۔ شیر شاہ سوری کو اگر آج صدیوں بعد بھی یاد کیا جاتا ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اس نے پشاور سے کلکتہ تک ایک عظیم شاہراہ تعمیر کی۔ جنرل فضل حق مرحوم نے اپنے دور میں مردان سے پشاور تک کی یکطرفہ سڑک کو دورویہ کرکے جو کارنامہ انجام دیا اس کی وجہ سے وہ شیر شاہ سوری ثانی کہلائے۔ اسی طرح اے این پی کی گزشتہ حکومت نے سڑکوں کی تعمیر اور مرمت پر خصوصی توجہ دی۔ ہم سمجھتے ہیں ان کی یہ کارکردگی آئندہ الیکشن میں بڑی کار آمد ثابت ہوگی۔ ہمیں پی ٹی آئی گورنمنٹ کے اس موقف سے کہ ترقی سڑکوں کی تعمیر سے نہیں آتی قطعاً اتفاق نہیں۔ اس موقع پر ہم پختونخوا کی موجودہ پی ٹی آئی حکومت کی شجر کاری کی مہم کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ ہمارے ملک میں ہر اچھے منصوبے کی مخالفت ایک فیشن بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان جب بھی سونامی ٹری کی بات کرتے ہیں یا ملین ٹری کا ذکر آئے تو بڑے بڑے سیاسی رہنما' تجزیہ کار اور رپورٹر ان کا مذاق اڑاتے ہیں بلکہ بعض لوگ تو پی ٹی آئی گورنمنٹ پر ان کے اس پلان میں خرد برد کے الزامات لگانے سے بھی باز نہیں آتے جو بالیقین ایک سیاسی مذاق ہی نہیں قومی بہبود کے ایک سود مند منصوبے کو سبو تاژ کرنے کے مترادف عمل ہے۔ درخت لگانے اور اگانے کی بات آگئی تو بتاتے چلیں کہ اسلام آباد سے پشاور تک موٹر وے پر ہر فرلانگ کے فاصلے پر کھجور کے درخت گاڑے گئے تھے۔ یہاں ہم نے گاڑنے کا لفظ ارادتاً اور پوری سنجیدگی سے استعمال کیا ہے اگر ان درختوں کو پوری مہارت کے ساتھ لگایا جاتا تو آج دس بارہ سال گزرنے پر یہ سر سبز لہرا رہے ہوتے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا یہ سینکڑوں کی تعداد میں کھجور کے درخت سوکھ کر ختم ہوچکے ہیں یا پھر تھر کے صحراء میں کھڑے کسی ٹنڈ مند جھلسے درخت کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ان میں ہر کھجور کے درخت پر مبینہ طور پر پچاس ہزار کی لاگت آئی تھی۔

ہمارے کسی عوامی نمائندے نے آج تک پارلیمنٹ میں یہ سوال نہیں اٹھایا کہ یہ منصوبہ اگر قابل عمل نہ تھا تو اس پر قومی خزانے کو کروڑوں کی خطیر رقم کا ٹیکہ کیوں لگایا گیا۔ ان درختوں کی بروقت حفاظت کیوں نہ کی گئی اور پھر کس کی غفلت سے یہ ضائع ہوگئے۔ ان لوگوں کی باز پرس تو نہ ہوئی البتہ موٹر وے کو استعمال کرنے والے عوام ٹول ٹیکس میں مسلسل اضافے کی صورت میں اس کاخمیازہ ضرور بھگت رہے ہیں۔ موٹر وے پولیس نے تیز رفتاری یا کسی دوسری قابل گرفت غلطی پر جرمانے کی رقم میں جو اضافہ کیا ہے وہ اس لحاظ سے درست ہے کہ موٹر وے پر ڈرائیونگ میں معمولی سی بھول چوک سے کوئی بہت بڑا حادثہ ہوسکتا ہے۔ لیکن وہ جو ہم مردان سے پشاور جانے کا 30روپے ٹول ٹیکس ادا کرتے تھے وہ اب ستر روپے وصول کیا جاتا ہے۔ اسی طرح مردان سے لاہور میں داخلے پر ایک سو اسی روپے ٹیکس تھا وہ اب آٹھ سو اسی روپے تک بڑھ چکا ہے۔ اسی طرح دوسرے روٹس کے ٹول ٹیکس میں بے تحاشہ اضافہ کردیاگیا ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ موٹر وے پر لگائے گئے کھجور کے وہ درخت جو اب موجود نہیں ان کے نقصان کو اس طرح پورا نہیں کیا جا رہا ہے۔ موٹر وے کے ذکر پر یہ بھی بتاتے چلیں کہ اس شاہراہ کے دونوں جانب حفاظتی باڑ لگائی گئی تھی تاکہ ارد گرد کی آبادی موٹر وے کو جی ٹی روڈ میں تبدیل نہ کردے اور لوگ حادثات سے محفوظ رہیں۔ پنجاب میں سے گزرنے والی باڑ پر تو کوئی فرق نہیں پڑا اور وہ آج بھی پوری طرح موجود ہے لیکن یہ شاہراہ جو نہی خیبر پختونخوا میں داخل ہوتی ہے تو اس کی افادیت بھی اس کے ساتھ ہی ختم ہو جاتی ہے۔ بعض جگہ تو باڑ نظر ہی نہیں آتی اور بعض جگہ سڑک پر چڑھنے کے لئے اس میں راستے بنا دئیے گئے۔ ان راستوں سے صرف گاڑیاں ہی نہیں موٹر سائیکل ' آوارہ کتے' گدھے اور بھینسے بھی چہل قدمی کرتے دیکھے جاسکتے ہیں۔ حیرت ہمیں اس وقت ہوتی ہے کہ موٹر وے پولیس کا چاق و چوبند عملہ اپنے کیمروں سے گاڑیوں کی رفتار میں معمولی اضافہ بھی نوٹ کرکے ڈرائیور سے کھڑے کھڑے جرمانہ وصول کرلیتا ہے لیکن انہیں اپنے بغل میں کھڑے وہ لوگ نظر نہیں آتے جو موٹر وے کے کنارے کسی آبادی سے برآمد ہو کر باڑ پھلا نگتے ہوئے سڑک پر پبلک ٹرانسپورٹ میں سوار ہونے کے لئے اشارے کرتے ہیں۔ چشم حیراں نے کئی بار د یکھا ہے کہ ویگنیں اور بسیں بھی ان سواریوں کو بٹھانے میں دیر نہیں کرتیں۔ حالانکہ یہ موٹر وے قوانین کی شدید خلاف ورزی ہے جس کے نتیجے میں ہولناک قسم کے حادثے بھی رونما ہوسکتے ہیں۔ کاش کوئی تحقیقاتی رپورٹر یا وہ اینکر جو روزانہ اپنے ٹاک شوز میں سیاسیات پر گفتگو کرتے رہتے ہیں جن سے عوام کی کوئی دلچسپی نہیں ہوتی وہ عوامی نوعیت کے ان مسائل کو بھی اپنے ٹاک شوز میں شامل کریں کہ موٹر وے پر کھجور کے وہ درخت جن کو زر خطیر کے اخراجات سے اگانے کی کوشش کی گئی تھی وہ کیوں ضائع ہوئے۔ اس قومی نقصان کی ذمہ داری کن لوگوں پر عاید ہوتی ہے اور یہ کہ موٹر وے پر لگائی گئی باڑ سے لوگ کیسے گزر کر شاہراہ پر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ہمیں عوام کی دشواریوں کا بھی احساس ہے ان کو متبادل راستوں کی ضرورت ہے چنانچہ ان کی طرف توجہ بھی اگر ان کا حق ہے تو سرکار کے فرائض میں شامل ہے۔

محل کے سامنے اک شور ہے قیامت کا

امیر شہر کو اونچا سنائی دیتا ہے

متعلقہ خبریں