Daily Mashriq

اب ہوتا بھی نظر آنا چاہیئے

اب ہوتا بھی نظر آنا چاہیئے

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ ملک میں امن کے ثمرات فاٹا کو عوامی اُمنگوں کے مطابق قومی دھارے میں شامل کرنے سے جڑے ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت 210ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں بدلتے ہوئے جیو اسٹریٹیجک ماحول اور ملک میں سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا جبکہ ملک بھر میں جاری آپریشن ردالفساد اور خوشحال بلوچستان پروگرام پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں دہشتگردی کے خاتمے اور قیام امن کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز بالخصوص عوام کے ہمت وحوصلے اور قربانیوں کو سراہا گیا۔ شرکاء نے دہشتگردی کیخلاف کامیاب آپریشنز کی کامیابیوں کو دیرپا بنانے کیلئے آپریشنز جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ جنرل قمر باجوہ نے ہدایت کی کہ دہشتگردوں سے خالی کرائے گئے علاقوں کو سول انتظامیہ کے سپرد کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ استحکام اور ترقیاتی کوششوں کے نتیجے میں امن کے فوائد ہر صورت عوام تک پہنچیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امن کے ثمرات فاٹا کو عوامی امنگوں کے مطابق قومی دھارے میں شامل کرنے سے جڑے ہیں۔ اجلاس میں ریاستی اداروں کیساتھ مل کر کوششیں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا، جن کے ذریعے پاکستان کو امن واستحکام اور خوشحالی کی سمت گامزن کر دیا گیا ہے۔ دریں اثناء تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ وہ آرمی چیف سے ملاقات کر کے قبائلی علاقوں میں سیکورٹی چیک پوسٹیں اور بارودی سرنگیں ختم کرنے اور لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کا مطالبہ کریں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقہ جات میں بعض عناصر جو فضا پیدا کرنے کی سعی میں ہیں ان گندم نما جو فروشوں کو پروپیگنڈہ کا موقع نہ دینے کیلئے ضروری ہے کہ بعض ممکنہ اقدامات جلد سے جلد اٹھائے جائیں۔ اپنی تقریر میں عمران خان نے بھی اسی بابت بات کی ہے اور اس معاملے میں ان کی آرمی چیف سے ممکنہ ملاقات احسن ہوگی۔ ہمارے تئیں یہ معاملہ صرف تحریک انصاف ہی سے متعلق نہیں بلکہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقہ جات سے متعلق ہے اس تناظر میں بہتر یہ ہوگا کہ سیاسی قائدین وقبائلی عمائدین سمیت دانشوروں اور مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی پاک فوج کی قیادت کیساتھ ایک مشاورتی اجلاس کا انعقاد ہوناچاہئے جس میں صورتحال پر غور کرنے، ایک دوسرے کی معروضات کوسمجھنے اور قابل قبول اور ممکنہ راہ نکالنے کی سعی کی جائے۔ اس بارے دورائے نہیں کہ جو عناصر انتشار، تعصب اور مخصوص مقاصد اور عزائم کیساتھ میدان میں آئے ہیں ان سے تو کسی کو اتفاق نہیں ہو سکتا اور نہ ہی ان سے کسی قسم کی بات چیت ممکن دکھائی دیتا ہے لیکن دوسری جانب اس عناصر کو مکمل طور پر نظرانداز کرنے سے وہ بعض ایسی باتوں کو سامنے رکھ کر عوامی توجہ حاصل کرسکتے ہیں جس کے ضمن میں اقدامات کی گنجائش ہے، ان کو اس کی آڑ میں پروپیگنڈے کا موقع نہ دینا ہی حکمت وبصیرت اور قومی مفاد کا تقاضا ہے۔ قبائلی علاقہ جات میں چیک پوسٹیں ختم کرنے کا وقت آگیا ہے یا نہیں اس حوالے سے سوائے پاک فوج کے کسی کو درست اندازہ نہیں اس معاملے میں کیا مجبوریاں اور ضروریات ہیں اس کا مل بیٹھ کر جائزہ لینے اور لائحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں جہاں تک سیاسی جماعتوں کے کردار کا تعلق ہے سیاسی جماعتوں کیلئے بہتر ہوگا کہ وہ کسی مقبول بیانیہ کی بلا سوچے سمجھے حمایت کرنے اور دوسروں کی زبان بولنے کی بجائے اپنے معاملات کو سیاسی معاملات تک محدود رکھیں۔ ان کا اس ضمن میں کردار کی ادائیگی کی مخالفت نہیں کی جا سکتی لیکن یہ تاثر بھی نہیں ملنا چاہئے کہ سیاسی جماعتوں نے کسی گروپ سے اثر لیا ہو۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا محولہ بیان اگر قبل ازیں کسی وقت آچکا ہوتا تو اس کی اصابت پر بحث کی گنجائش نہ تھی مگر جس وقت یہ بیان سامنے آیا ہے اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ انہوں نے کسی بیانئے سے متاثر ہو کر شعوری یا لاشعوری طور پر یہ مطالبہ کیا ہے بہرحال جو بھی ہو یہ امر احسن ہوگا کہ ہر وہ مطالبات جو عوام کے حوالے سے اہمیت کے حامل ہوں گے ان پر بات چیت کی جائے اور ممکنہ اقدامات اٹھا کر عوام کی مشکلات کا ازالہ اور ان کے تحفظات دور کئے جا سکیں۔ آرمی چیف کے بیان سے بھی اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ پاک فوج نے جس جدوجہد اور قربانیوں سے قبائلی علاقوں سے دہشت گردی کا خاتمہ اور امن بحال کیا تھا اس کے ثمرات سے اس وقت بھی قبائلی عوام مستفید ہو رہے ہیں لیکن اس کے ثمرات سے مکمل طور پر مستفید ہونے کیلئے بھی جو اقدامات باقی رہ گئے ہیں ان پر بھی یقیناً توجہ دی جائے گی۔ فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کی ذمہ داری سیاسی جماعتوں اور حکومت پر عائد ہوتی ہے اس ضمن میں جتنا جلد اقدامات اتفاق سے کئے جائیں اتنا بہتر ہوگا۔

متعلقہ خبریں