Daily Mashriq

نگران وزیر اعظم متفقہ ہونا چاہیئے

نگران وزیر اعظم متفقہ ہونا چاہیئے

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی حزب اختلاف کے قائد سید خورشید شاہ کے درمیان ملاقات میں نگران وزیراعظم کی تقرری کیلئے ناموں پر مشاورت کی آئینی ضرورت کو اس طرح سے پورا کرنے کی ضرورت ہے کہ ہر سیاسی جماعت کو اعتماد میں لیا جائے تاکہ نئے نگران وزیراعظم ساری سیاسی جماعتوں کیلئے قابل قبول ہوں جہاں تک ایک دن قبل حکومت تحلیل کرنے کے سید خورشید شاہ کے مطالبے کو وزیراعظم کی طرف سے رد کرنے کا سوال ہے یہ ان کا استحقاق اور حق ہے چونکہ مدت اقتدار کی تکمیل کے بعد آنے والی نگران حکومت کی مدت آئینی طور پر دوماہ ہوتی ہے وزیراعظم کا موقف اس ضمن میں اس لئے احسن ہے کہ ملک میں جتنا جلد انتخابی عمل مکمل ہو کر اقتدار نئی منتخب حکومت کو منتقل ہوا تنا ہی بہتر ہوگا ۔جاری حالات میں سیاسی معاملات کا جوار بھاٹا موجودہ حکومت کی تحلیل اور آئندہ حکومت کے قیام پر ہی معتدل ہونے کاامکان ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جاری سیاسی معاملات کو اب دھیرے دھیرے کم آنچ پر لانے کی اس لئے ضرورت ہے تاکہ عام انتخابات کا انعقاد معمول کی فضا میں ممکن ہو سکے اور کشیدگی نہ ہو ۔ اس مرتبہ کے عام انتخابات کو گرما گرمی سے بچانے کیلئے سیاسی جماعتوں کو اپنے اپنے سوشل میڈیا کی سرگرمیوں کو اعتدال اور خاص طور پر تہذیب کے دائرے میں رکھنے کی از حد ضرورت ہے۔ سیاسی قائدین کو اس ضمن میں باہم ملاقات کرنے کی ضرورت ہے جبکہ الیکشن کمیشن اور دیگر انتظامی اداروں کو بھی اس ضمن میں لائحہ عمل مرتب کرنے اور موجودقوانین پر عملدرآمد کرانے کو ترجیحی طور پر اقدامات کرنے چاہئیں ۔ جہاں تک بجٹ کے چار ماہ اور پورے سال کیلئے پیش کرنے پر اختلاف کا سوال ہے اس ضمن میں آئین اور قانون تو موجود ہیں جن کی پابندی لازماً ہوگی لیکن اگر ا س ضمن میں سیاسی جماعتیں گفت و شنید سے کام لیں اور متفقہ طو ر پر یہ معاملہ طے کر لیا جائے تو اختلافات اور تنقید سے بچا جا سکے گا ۔

بعد پنشن بھی نوازنے کی عاجلانہ پالیسی

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ ملازمت کی صورت میںاعلیٰ سول افسران کے لئے مراعات کااعلامیہ نوازنے کی پالیسی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ عدالت کے احکامات کی بھی خلاف ورزی ہے کیونکہ عدالت ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ ملازمتوں پر پابندی عائد کر چکی ہے ۔ بہرحال اعلامیہ کے مطابق صوبائی حکومت کے گریڈ21,20اور گریڈ22کے افسران کو ریٹائرمنٹ کے بعدکسی بھی حکومتی ادارے میں ملازمت کی صورت میں ’’مینجمنٹ پوزیشن‘‘ اور اس کے تحت حاصل تمام مالی مراعات دی جائیںگی۔ اعلامیہ کے مطابق گریڈ21,20 اور 22کے تمام افسران کو ریٹائرمنٹ سے قبل دوران ملازمت مینجمنٹ پوزیشن سکیل( ایم پی 1، گیارہ اور ایم پی تھری ) اور اس کے تحت جو مالی مراعات حاصل ہیں ان کو ان افسران کی ریٹائرمنٹ کے بعد تک توسیع دے دی گئی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اصولی طور پر ساٹھ سال کی مدت ملازمت کی تکمیل کے بعد کسی بھی ریٹائرشخص کو دوبارہ ملازمت نہ دی جائے اور تمام آسامیاں حاضرسروس افسروں سے پر کرکے زیادہ سے زیادہ افسران کیلئے مدت ملازمت کے دوران مواقع فراہم کئے جائیں گے تاکہ وہ یکسوئی اور دلجمعی سے کام کریں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ہر افسرکو دوبارہ کھپا یا نہیں جا تا بلکہ یہ منظور نظر افراد ہی ہوتے ہیں جنہوں نے دوران ملازمت سیاستدانو ں کی قانونی وغیرقانونی خدمت کی ہوتی ہے جس کے عوض اس طرح کی ملازمت ان کو بطور رشوت ملتی ہے بجائے اس کے کہ اس کا راستہ روکا جائے صوبائی حکومت نے ان کو مزید نواز نے کا اس طرح سے راستہ نکالا ہے کہ ایک جانب وہ پنشن کے حقدار بنیں اور ساتھ ہی سینئر ترین اور منافع بخش عہدوں پر تنخواہ ہی کے ساتھ مکمل مراعات بھی لیں ۔ بہتر ہوگا کہ یہ فیصلہ واپس لیا جائے اور اقرباء پروری کا راستہ کھولنے کی بجائے اس پر پتھر رکھ کر بند کیا جائے ۔

نجی سکولوں سے عملدرآمد کا مشکل سوال

پشاورہائیکورٹ کے حکم پر خیبر پختونخوا پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی نے پرائیویٹ سکولوں کے مالکان کو فیس میں اضافے کانوٹی فکیشن فوری طورپر واپس لینے اور طلبہ بچوں سے لی گئی فیس سات دنوں میں متعلقہ والدین کو واپس کرنے کی ہدایت پر عملدرآمد بارے خدشات کا اظہار اس لئے بے جا نہیں کہ اولاً اس حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا دوم یہ کہ اگر ایسا نہ بھی کیا گیا تو جس طرح نجی سکول مالکان دو بچوں میں سے ایک کی فیس آدھی کرنے کا عدالتی حکم دھول بنا کر اڑا چکے ہیں اس حکم کے ساتھ بھی ایسا ہی کئے جانے کا خدشہ ہے ۔ پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی اگر اس حکمنامے پر عملدرآمد کرائے تو فبہا وگرنہ اس پر دوبارہ عدالت سے رجوع کیا جائے تاکہ طلبہ اور والدین کو قانون کے مطابق ریلیف دلایا جاسکے ۔

متعلقہ خبریں