Daily Mashriq

کچھ تلخ وشیریں باتیں اور حقائق

کچھ تلخ وشیریں باتیں اور حقائق

سرائیکی وسیب سے تعلق رکھنے والے نون لیگ کے چند ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کی حالیہ بغاوت اور جنوبی پنجاب صوبہ محاذکے نام سے انتخابی سیاست میں اترنے کے اعلان کے بعد پنجاب کی سیاست میں گرما گرمی بڑھ گئی۔ میاں نواز شریف تو اس حوالے سے جو کہتے ہیں وہ پھپولے پھوڑنے کے سوا کچھ نہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ ماروی میمن، طلال چودھری، دانیال عزیز اور ان جیسے چند دوسرے نیگنوں نے ایک پریس کانفرنس میں باقی ارکان کو آمروں کی پیداوار قرا ر دیتے ہوئے جن خیالات کا اظہار فرمایا اس پر فقیر راحموں بہت دیر تک دھمال ڈالتے رہے۔ دھمال بنتی بھی ہے۔ باغیوں کو آمریت کی پیداوار کون کہہ رہا ہے وہی جو خود دہلوی سرکار قبلہ پرویز مشرف کے فارم میں تخلیق ہوئے ۔ اندازہ کیجئے کہ جو شخص فیصل آباد میں پرویز مشرف اور چوھری پرویز الٰہی کے استقبالی جلوس کے آگے والہانہ رقص کرتا تھا وہ بھی آمریت کا دشمن ہے۔ ماروی بی بی پرویز مشرف کی سفارش سے 2مرتبہ 2002 اور 2008ء میں ق لیگ کی طرف سے قومی اسمبلی کی رکن بنیں اب وہ آمریت کی ناقد اور جمہوریت کی محافظ ہیں۔ نون لیگ نے اپنے سربراہ کے باوجود 2008ء سے 2013ء کے درمیان ق لیگ کے 250سے زیادہ ارکان قومی و صوبائی اسمبلیوں کو پارٹی میں وصول کیا۔ سینیٹ کے حالیہ الیکشن سے قبل مشاہد حسین سید رات کو ق لیگ کے سیکرٹری جنرل تھے، اگلی صبح نون لیگ کے پنجاب سے سینیٹر کے امیدوار ہوئے اور منتخب بھی۔نون لیگ خیبر پختونخوا کے صدر امیر مقام جنر ل پرویز مشرف کے پستول بدل بھائی کہلاتے تھے۔ مشرف کے وزیر قانون زاہد حامد نون لیگ کے وزیر قانون ہوئے ابھی کچھ عرصہ قبل فیض آباد دھرنے کی وجہ سے انہوں نے استعفیٰ دیا ۔نون لیگ اپنے رہنمائوں اور پارٹی مالکان پر کرپشن کے الزامات کو سیاسی انتقام قرار دے رہی ہے۔ حالت یہ ہے کہ جناب نواز شریف کی نااہلی جھوٹ بولنے اور جعلی دستاویزات لیک کرنے پر ہوئی مگر سارا پنجاب میڈیا ایک ہی راگ الاپ رہا ہے۔ پانامہ کا کیس تھا اقامہ پر نکالا۔ اب حدیہ ہے کہ لندن فلیٹس کی خریداری 2006ء کے سال میں ثابت شدہ ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ یہی فلیٹس بنک التوفیق اور حدیبیہ پیپر کے مالی متنازعہ میں بنک کے حوالے کئے گئے بعد ازاں شہباز شریف اور بینک کے درمیان ہوئی ڈیل پر فلیٹس شریف خاندان کو واپس ملے ۔بنک کو ادائیگی کیسے ہوئی، پیسہ پاکستان سے کیسے گیایہ بذات خود سوال ہے اور اس سوال کا جواب دینے کی بجائے لیگی نابغے کہتے ہیں ’’تم فوج کے ایجنٹ ہو ‘‘۔ سبحان اللہ بنتا ہے۔

پاکستان ایسے ملک میں کسی بھی وقت کچھ بھی ممکن ہے مثال کے طور پر پیپلز پارٹی نے اپنے پچھلے دور میں پنجاب کے سرائیکی بولنے والے علاقوں پر مشتمل صوبے کے قیام کی تحریک کو محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے وعدے کے مطابق اون کیا تو نون لیگ نے تقسیم پنجاب کو ملک سے غداری قرار دیا پھر ایک ایسا مرحلہ آیا جس میں نون لیگ نے مشرف کے وزیر اطلاعات محمد علی درانی کی خدمات حاصل کیں اور انہوں نے بحالی صوبہ بہاولپور کی تحریک کا ڈول ڈالا، دوسرے مرحلہ پر نون لیگ نے پنجاب اسمبلی سے د و نئے صوبوں صوبہ جنوبی پنجاب کے قیام اور بہاولپور صوبہ بحالی کی قرار دادیں منظور کروائیں۔ 2013ء کے انتخابی عمل کے دوران نون لیگ وعدہ پورا کرنے کی یقین دہانیاں کرواتی رہی لیکن انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد شہباز شریف نے لاہور میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرائیکی صوبے کے قیام کے ڈرامے کو عوام نے نون لیگ کو ووٹ دے کر ہمیشہ کیلئے دفن کر دیا گیا ہے۔ پچھلے 5سالوں کے دوران شہباز شریف اور تخت لاہور نے سرائیکی عوام کی توہین کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ سرائیکی اضلاع کے سالانہ ترقیاتی بجٹ کا 70فیصد پچھلے 5سال سے لاہور اور ان نیم سرکاری کمپنیوں پر خرچ ہورہا ہے جن کے مقدمات ان دنوں عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ ایسی ہی ایک صاف پانی کے کمپنی میں پنجاب کے وزیر زعیم قادری کی اہلیہ اور چھوٹے بھائی لاکھوں روپے ماہوار پر بورڈ ممبر بنے ہوئے ہیں۔ اگلے روز شہباز شریف نے ارشاد فرمایا۔ جنوبی پنجاب اور بہاولپور کے صوبوں کیلئے پنجاب اسمبلی سے قرار دادیں منظور کروانے کا سہر ا نون لیگ کے سر ہے۔ پانچ سال تک ان قرار دادوں کو ردی کی ٹوکری میں رکھ کر سرائیکی وسیب کے لوگوں کی توہین کرنے والے شریف خاندان کو یاد آیا کہ ہم تو اس حوالے سے قرار دادیں منظور کرواچکے ہیں۔ ہو یہ رہا ہے کہ نون لیگ کے قانونی مشیر مشورہ دے رہے ہیں کہ اسمبلیاں توڑنے سے قبل بہاولپور صوبہ کے قیام کی نئی قرارداد منظور کر والی جائے تاکہ مریم نواز شریف کے سمدھی چودھری منیر کے خاندان کو بہاولپور کی قیادت کا تاج پہنا یا جا سکے۔ منگل کے روز وزیراعلیٰ پنجاب نے آئی جی کے صوبائی سربراہ کو ہدایت کی ہے کہ سرائیکی قوم پرستوں کی فہرستیں بنائی جائیں۔ سرائیکی صوبے کیلئے جدوجہد کرنے والی تنظیموں اور زندگی کے دوسرے شعبوں میں فعال افراد کے کوائف 15دن میں مرتب کر لئے جائیں۔ کیا نون لیگ سرائیکی وسیب کے قوم پرستوں اور اہل دانش کے خلاف ایڈونچر کرنے جارہی ہے یا پھر انہیں شیشے میں اتار نے کی حکمت عملی اپنائے گئی؟ یہ سوال بہت اہم ہے اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ایک وفاقی اور پنجاب حکومت کے ماتحت دو ادارے ان متحرک افراد کے بارے معلومات جمع کررہے ہیں جو صوبہ تحریک میں جنوبی پنجاب صوبہ محاذ یا پیپلز پارٹی سرائیکی وسیب کیلئے آنے والے مہینوں میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ اندریں حالات یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ نون لیگ آگ سے کھیلنے کی خواہش سے بچ رہے تو خود اس کے فائدے میں ہے ۔

متعلقہ خبریں