Daily Mashriq

بے وجہ تو نہیں ہیں چمن کی تباہیاں

بے وجہ تو نہیں ہیں چمن کی تباہیاں

طریقہ واردات لگ بھگ وہی لگتا ہے جو پہلے بلوچستان اسمبلی میں آزمایا گیا اور وہاں صوبائی حکومت گرادی گئی ، اور بعد میں اسی کے بل بوتے پر سینیٹ انتخابات میں نقب لگانے کی کامیاب کوشش کرتے ہوئے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے عہدوں کو ہتھیا کر لیگ (ن) کو فارغ کردیا گیا۔ اب اسی کے بل بوتے پر عام انتخابات کیلئے تیاریاں ہورہی ہیں اور اس کھلے چیلنج کو بروئے کار لانے کی حکمت عملی واضح دکھائی دے رہی ہے کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ لینے بھی نہیں دو ں گا۔ تو انتخابات سے بھی پہلے اچانک یہ جو بعض لوگوں کے دل میں جنوبی پنجاب صوبے کا درد جاگا ہے تو یہ ویسے ہی نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے پہلے سے لکھے گئے سکرپٹ کے تحت اختیار کی جانے والی حکمت عملی ہے جس کے اشارے گزشتہ روز پنجاب اور اسلام آباد کے بعض اخبارات میں چھپنے والے فل پیج کے وہ اشتہارات ہیں جن میں لیگ ن سے حال ہی میں بغاوت کر کے جنوبی پنجاب صوبہ کے نام پر اکٹھے ہو جانے والے لیڈروں کی تصاویر اور نئے صوبے کے اغراض و مقاصد کو واضح کیا گیا ہے حالانکہ ملک بھر میں سیاسی تجزیہ کار یہی سوال اٹھا رہے ہیں کہ نئے صوبے کا شوشا چھوڑ کر اچانک سامنے آنے والے یہ سیاسی زعما گزشتہ ساڑھے چارسال سے بھی زیادہ عرصہ انہی علاقوں کے نام پر مراعات کیوں بٹور تے رہے اور انہیں پہلے یہ فکر کیوں لاحق نہیں ہوئی جبکہ بعض حلقے یہ بھی کہتے ہیں کہ ان میں سے اکثر کے حلقوں میں حالیہ حلقہ بندی کی وجہ سے تبدیلیوں نے ان سے ان کے حلقے چھین لئے ہیں ، بعض کے بارے میں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ انہیں پارٹی کی جانب سے آئندہ ٹکٹ ملنے کی کوئی اُمیدنہیں تھی تاہم چونکہ یہ گزشتہ انتخابات میں بھی آزاد امیدواروں کے طور پر انتخابات جیت کر آئے تھے اس لئے اگریہ مروجہ سیاسی روایات کے عین مطابق ایک بار پھر بطور آزاد امیدوار انتخابی میدان میں اترنے پر آمادہ ہیں تو ایسا بھی نہیں کہ یہ ’’قابل انتخاب ‘‘ یعنی Electablesنہیں ہیں۔ ظاہر ہے یہ اپنے اپنے آبائی علاقوں میں خاصے بااثر خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ جس نئے محاذ کی بنیاد رکھ دی گئی ہے اس کا انجام کیا ہوگا۔ یعنی یہ سیاسی ضرورت کے تحت ایک وقتی غبار ہے جو پیالی میںطوفان برپا کرنے کیلئے اٹھایا گیا ہے یا پھر اب کی بار اسے سنجیدگی کیساتھ آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔ آئین کے تحت نئے صوبوں کی تشکیل پر اگرچہ کوئی پابندی نہیں ہے لیکن اس قدر آسان بھی نہیں جتنا ’’جنوبی پنجاب صوبہ محاذ‘‘ والوں نے سمجھ لیا ہے یا پھر انہیں اس کے خواب دکھائے گئے ہیں۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ خود اس نوتشکیل شدہ ’’محاذ ‘‘کے رہنما بھی یہ بات بخوبی جانتے ہیں کیونکہ یہ اتنا سہل ہوتا تو اسی خطے سے تعلق رکھنے والے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی یہ نہ کر گزرتے، دراصل صوبوں کی تشکیل ممکن تو ہے مگر لسانی بنیادوں پر ایسا کرنے کی کوششیں ملکی مفادات کو نقصان ہی پہنچائیں گی۔ جس کے بعد ایک عرصے سے دبی چنگاری یعنی ارد و بولنے والوں کی دیرینہ خواہش کراچی کو لسانی بنیاد پر علیحدہ صوبہ بنانے کیساتھ ساتھ صوبہ ہزارہ کی آوازیں بھی ایک بار پھر سیاسی فضا میں ارتعاش پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ ہاں البتہ انتظامی بنیادوں پر صوبوں کی تشکیل ممکن ہے اور خود بخود جنوبی صوبہ محاذ والے بھی جانتے ہیں کہ جب سے سرائیکی صوبے کی آوازیں اٹھ رہی ہیں اس کے مقابلے میں صوبہ بہاولپور کے نعرے بھی لگتے آئے ہیں جن سے صرف نظر اس لئے ممکن نہیں ہے کہ بہاولپور تو کبھی جنوبی اضلاع کا حصہ نہیں رہا بلکہ ایک علیحدہ ریاست تھی جسے پاکستان کیساتھ الحاق کے وقت جو وعدے کئے گئے تھے ان کو بھی ایفا نہیں کیا گیا، اسی طرح جب سرائیکی صوبے کی باز گشت سنائی دیتی تھی تو خیبر پختونخوا کے علاقوں ڈیرہ اور لکی کے اندر سے بھی سرائیکی صوبے کیساتھ جانے کی آوازیں اٹھتی تھیں بلکہ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے اچانک سرگرم ہونے کیساتھ ہی یہ آواز یں پھر اٹھنا شروع ہوگئی ہیں، اب دیکھتے ہیں کہ صوبہ ہزارہ کے داعی کب سامنے آتے ہیں جبکہ دوسری جانب بلوچستان کے پختون بھی ایک عرصے سے بلوچستان کیساتھ اپنے پختون علاقوں کی شمولیت پر نوحہ کناں ہیں اور اسے انگریزوں کی پختون بیلٹ کو تقسیم کرنے کی سازش قرار دیتے ہوئے خیبرپختونخوا کیساتھ شمولیت کی خواہش کا اظہار کرتے آئے ہیں، اگرایسا ہے تو پھر بلوچستان کے پختون علاقوں، موجودہ قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا پرمشتمل نئے صوبے کی تشکیل کیلئے بھی توانا آوازیں اٹھ سکتی ہیں، ادھر فاٹا کو ایک جانب خیبرپختونخوا میں ضم کرنے تو دوسری جانب فاٹا کو علیحدہ صوبہ بنانے کے مطالبات بھی پہلے ہی سے کسی منطقی انجام تک پہنچنے کی راہ تک رہے ہیں، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ ایک ایسا پنڈورہ باکس ہے جس سے جنم لینے والے مسائل اتنی آسانی سے حل ہونے والے نہیں ہیں۔ دوسرا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ اگر جنوبی صوبہ محاذ کے مطالبات کو پذیرائی ملتی ہے اور نہ صرف آئینی تقاضوں کے تحت صوبہ پنجاب اسمبلی سے قرارداد منظور ہوتی ہے بلکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے بل بھی منظور کرلیا جاتا ہے تو اس سے سینیٹ میں نئے ممکنہ بننے والے صوبے کو بھی دیگر صوبوں کے برابر نمائندگی مل جائے گی یوں موجودہ پنجاب کی سینیٹ میں اراکین کی تعداد دوگنی ہوجائے گی جو دیگر صوبوں کیساتھ کیا زیادتی نہیں ہوگی؟

بے وجہ تو نہیں ہیں چمن کی تبا ہیاں

کچھ باغباں ہیں برق وشرر سے ملے ہوئے

متعلقہ خبریں